مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘

jhoot

مصنف غلام اکبر
25-12-2017…
..قسط:49


” مجھے اپنی امت کے لئے جس شخص سے زیادہ خطرہ لاحق ہے وہ ایک منافق آدمی ہے ۔ جس کی زبان بڑی چکنی چپڑی مگر اس کا دل نورِ حکمت سے خالی ہے وہ اپنی فصاحت و بلاغت سے لوگوں میں انقلاب پیدا کرتا ہے اور اپنی جہالت کے باعث ان کی گمراہی کا موجب بنتا ہے۔“
O O
بھٹو نے اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا۔
”پچھلی حکومتیں جب کسی مسئلے کو دفن کرنا چاہتی تھیں تو اس کے لئے کوئی کمیشن وغیرہ قائم کر دیا کرتی تھیں۔ میں اس روایت کو ختم کردوں گا۔“
چند ہی روز بعد بھٹو نے ایک کمیشن قائم کیا جسے دنیا حمود الرحمان کمیشن کے نام سے جانتی ہے۔ اس کمیشن کا مقصد سقوطِ مشرقی پاکستان کے المیے کے اسباب دریافت کرنا اور اس کی ذمہ داری کا تعین کرنا تھا۔
گویا بھٹو کے اپنے الفاظ کے مطابق یہ پہلا مسئلہ تھا جسے وہ دفن کرنا چاہتا تھا اور بھٹو کے ساڑھے پانچ سالہ دور کی تاریخ شاہد ہے کہ وہ اپنے اس مقصد میں پوری طرح کامیاب رہا۔ بھٹو سقوطِ مشرقی پاکستان کے اسباب دریافت کرنے اور اس کی ذمہداری کاتعین کرنے کے معاملے میں کیسے سنجیدہ ہو سکتا تھا؟ وہ تو خود تاریخ اسلام کے اس سانحئہ عظیم کا مرکزی کردار تھا۔
بھارت کے ساتھ ایک ہزار سال تک جنگ لڑنے اور غریب عوام کو راتوں رات دولت مند دینے کے نعروں کے ذریعے وہ مسندِ اقتدار پر قابض ہوچکا تھا اب ضرورت اس امر کی تھی کہ وہ اپنے ” بے مثال تدبر‘ اور اپنی“ بے انداز سفارتی صلاحیتوں “ کا سکہ عوام پر جمانے کے لئے بھارت جائے اور اندر اگاندھی کو مقبوضہ علاقوں سے فوجوں کی واپسی اور جنگی قیدیوں کے تبادلے پر مجبور کر دے۔
چنانچہ پوری سرکاری پروپیگنڈہ مشینری یہ ثابت کرنے کے لئے حرکت میں آگئی کہ اگر بھٹو بھارت کو مقبوضہ علاقوں سے اپنی فوجیں واپس لے جانے اور جنگی قیدیوں کا تبادلہ کرنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوگیا تو یہ کارنامہ مسلمانوں کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔
حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ مقبوضہ علاقوں پر دیر تک قبضہ قرار رکھنا اور نوے ہزار جنگی قیدیوں کے اخراجات پورے کرنا بھارتی معیشت پر بہت بڑا بوجھ تھا اور بھارتی حکومت وقت ضائع کئے بغیر ان معاملات کو طے کرنے کے موڈ میں تھی۔
اس سلسلہ میں چند ماہ کی جو تاخیر ہوئی وہ بھٹو کی حکمتِ عملی کے نتیجے میں ہوئی۔ بھٹو بھارت کے ” تاریخی سفر“ پر جانے سے پہلے اہلِ پاکستان کے ذہنوں میں یہ بات پوری طرح بٹھا دینا چاہتا تھا کہ وہ ایک ایسا معرکہ سر کرنے جا رہا ہے جو اس کی قائد انہ صلاحیتوں پر مہرِ تصدیق ثبت کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس کے علاوہ سندھ میں لسانی مسئلہ کھڑا کرنے اور اس مسئلے پر فسادات کرانے کے منصوبے کو آخری شکل دینے کے لئے بھی کچھ وقت درکار تھا۔
(جاری ہے۔۔۔)

Scroll To Top