چیئر مین نیب کے احکامات: نیب کا حدیبیہ کیس میں نظر ثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ

  • وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے2000میں اعترافی بیان میں جعلی اکاو¿نٹس کے ذریعے شریف خاندان کے لیے ایک کروڑ 48 لاکھ ڈالر کے لگ بھگ رقم کی مبینہ منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا
  • خیال رہے کہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، حمزہ شہباز، عباس شریف، شمیم اختر، صبیحہ شہباز، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر فریق ہیں
  • اکتوبر 2011میں کاروائی روکنے کے بعد2014 میں لاہور ہائی کورٹ نے یہ ریفرنس خارج کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا تھا کہ نیب کے پاس ملزمان کے خلاف ناکافی ثبوت ہیں
اسلام آباد: وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی قومی سلامتی کمیٹی کے 16ویں اجلاس کی صدرات کر رہے ہیں

اسلام آباد: وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی قومی سلامتی کمیٹی کے 16ویں اجلاس کی صدرات کر رہے ہیں

اسلام آباد(این این آئی) قومی احتساب بیورو (نیب) نے سپریم کورٹ کی جانب سے حدیبیہ ریفرنس مسترد کرنے کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 15 دسمبر کو حدیبیہ کیس دوبارہ کھولنے کے لیے نیب کی اپیل مسترد کردی تھی جبکہ یہ فیصلہ عدالت کے بینچ نے متفقہ طور پر دیا تھا۔نیب ذرائع کے مطابق حدیبیہ کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو جلد ہی دائر کی جائے گی۔نجی ٹی وی کے مطابق نیب ذرائع نے بتایا کہ نیب حکام فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل تیار کررہے ہیں، اس کے لیے عدالتی فیصلے کی کاپی حاصل کی گئی اور اس پر نیب کے قانونی ماہرین مشاورت کررہے ہیں۔نیب ذرائع نے بتایا نظر ثانی اپیل پر جلد ہی کام مکمل کرکے اسے چند روز میں دائر کردیا جائے گا۔سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت کے دوران نیب کی جانب سے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے 25 اپریل 2000 کو لیے گئے اس بیان کی بنیاد پر دائر کیا جس میں انھوں نے جعلی اکاو¿نٹس کے ذریعے شریف خاندان کے لیے ایک کروڑ 48 لاکھ ڈالر کے لگ بھگ رقم کی مبینہ منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا۔اسحاق ڈار بعدازاں اپنے اس بیان سے منحرف ہو گئے اور کہا کہ یہ بیان انہوں نے دباو¿ میں آ کر دیا۔لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے اکتوبر 2011 میں نیب کو اس ریفرنس پر مزید کارروائی سے روک دیا تھا جس کے بعد 2014 میں لاہور ہائی کورٹ نے یہ ریفرنس خارج کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا تھا کہ نیب کے پاس ملزمان کے خلاف ناکافی ثبوت ہیں۔ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، حمزہ شہباز، عباس شریف، شمیم اختر، صبیحہ شہباز، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر فریق ہیں جب کہ اسحاق ڈار کو بطور وعدہ معاف گواہ شامل کیا گیا۔رواں برس ستمبر میں پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو نے حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس دوبارہ کھولنے کی اپیل دائر کی جسے اعلیٰ عدالت نے مسترد کردیا۔

Scroll To Top