کوئٹہ: چرچ میں دھماکہ،9افراد جاں بحق

  • حملہ آور نے چرچ کے دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑادیا ،35افراد زخمی، دوسرا سیکورٹی فورسز کےساتھ مقابلے میں مارا گیا‘ خود کش حملہ آ¶روں کے2ساتھی فرار
  • حملے کے وقت400افراد چرچ میں موجود تھے‘ پولیس حکام، سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کی وجہ سے بڑا سانحہ ہونے سے بچ گیا ،اقلیتی رکن اسمبلی انیتا عرفان
کوئٹہ: میتھیو ڈیسک چرچ میں خود کش حملہ کے بعد ایف سی کا جوان جائے وقوع پر الرٹ کھڑا ہے

کوئٹہ: میتھیو ڈیسک چرچ میں خود کش حملہ کے بعد ایف سی کا جوان جائے وقوع پر الرٹ کھڑا ہے

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چرچ پر خود کش حملے اورفائرنگ کے نتیجے میں 2خواتین اور بچوں سمیت9افراد جاں بحق اور 35سے زائدزخمی ہوگئے جن میں سے 10افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ،واقعہ کے بعد2خود کش حملہ آور فرار ہوگئے ہیں جن کی تلاش کےلئے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ۔پولیس کے مطابق اتوار کی صبح کوئٹہ کے علاقے زرغون روڈ پر واقع چرچ کے دروازے پر ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑادیا جبکہ اسکے ساتھی چرچ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے ،دہشت گردوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دوسرا دہشت گرد ہلاک ہوگیا ۔دہشتگردوں کی فائرنگ اور خود کش دھماکے کے نتیجے میں 2خواتین اور بچوں سمیت9افراد جاں بحق اور 35سے زائد زخمی ہوگئے دھماکے کے بعد کافی دیر تک دہشت گردوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا واقعہ کے بعد نعشوں اورزخمیوں کو فوری طورپر سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کردیا گیا جہاں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف نے زخمیوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کیں۔پولیس کے مطابق جس پر چرچ پر حملہ کیا گیا اسوقت 400سے زائد افراداپنی عبادت میں مصروف تھے۔ وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بتایا کہ چرچ پر حملہ کرنے والے 2خود کش حملہ آوروں میں سے ایک نے خود کو دھماکے سے اڑادیا جبکہ دوسرا حملہ آور پولیس اور ایف سی کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ماراگیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دہشتگرد مرکزی دروازے پر اور دوسرا دہشتگرد چرچ کے احاطے میں مارا گیا۔انہوں نے کہا کہ واقعہ کے بعد پولیس ،ایف سی اوردیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں نے چرچ کو گھیرے میں لے لیا اورعلاقے کو کلیئر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔آئی جی پولیس بلوچستان معظم انصاری نے چرچ کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ایک حملہ آور نے خود کو چرچ کے دروازے پر دھماکے سے اڑادیا جبکہ دوسرا فائرنگ سے مارا گیا انہوں نے کہا کہ آئی جی بلوچستان کا کہنا تھا کہ حملے کے وقت چرچ میں 400 افراد موجود تھے ، اگر دہشتگرد عمارت میں داخل ہوجاتے تو بہت زیادہ جانی نقصان ہوتا۔معظم انصاری نے بتایا کہ چرچ کی عمارت کو کلیئر کردیا گیا ہے جبکہ اطراف کے علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے ،حملے کے بعد ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے بھی چرچ کا دورہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ ایک خود کش حملہ آور نے گیٹ پر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑادیا جسکے بعداسکے 3ساتھی چرچ میں داخل ہوئے اور فائرنگ شروع کردی چرچ کی سیکورٹی پرمامور سیکورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک حملہ آور مارا گیا جس کی خود کش جیکٹ پھٹ نہ سکی جسے بم ڈسپوزل کا عملہ ناکارہ بنارہا ہے ۔عبدالرزاق چیمہ نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد2خود کش حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں جن کی تلاش کیلئے علاقے کو گھیرے میں لیکرسرچ آپریشن کا عمل شروع کردیا گیا انہوں نے بتایا کہ چرچ میں موجود خواتین ،بچوں اوردیگر لوگوں کو ریسکیو کرلیا گیا ہے ۔اقلیت سے تعلق رکھنے والی رکن بلوچستان اسمبلی انیتا عرفان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کی وجہ سے بڑا سانحہ ہونے سے بچ گیا۔انیتا عرفان نے کہا کہ شہر میں اقلیتی برادری کو نشانہ بنانے کے حوالے سے موبائل پر میسجز گردش کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے حوصلے بلند ہیں اور دہشت گردی سے ہمیشہ مقابلہ کریں گے اور اس کے لیے اقلیتی برادری حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے

Scroll To Top