کوئی تواٹھے۔۔ مردِ حق و جری و توانا اے آوازِ عدل

aaj-ki-bat-logo

توُ آئی تو آسمانوں سے ہے مگر گونجی میرے پاکستان کی فضاوں میں ہے۔
تیرا فیصلہ یہ ہے کہ یہ نظام بوسیدہ ہو چکا ہے۔
اس بوسیدہ نظام کی گود میں پروان چڑھنے والی ”بدمعاشیہ“ میرے پاکستان کا خون چوس چوس کر اِس قدر توانا ہو چکی ہے کہ آج تجھے بھی للکار رہی ہے اور میرے پاکستان کے ان محافظوں کو بھی جن کے خون نے اس کے شجرِ آزادی کو سینچا ہے۔۔
اس بد معاشیہ کا سردار اس لئے
” مجسّم قہر“ بنا ہوا ہے کہ توُ اس کی آواز نہیں بنی۔ تیرے فیصلوں نے اس کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔
بد معاشیہ کے اِ س سردار کا عہد ہے کہ اس ملک کی فضاو¿ں میں وہ تمہارا داخلہ بند کر دے گا۔ تجھے کُچلنے کے لئے میرے پاکستان میں قریہ قریہ گلی گلی شہر شہر تیرے خلاف نفرت کا محاذ کھڑا کرے گا۔
بد معاشیہ کا یہ سردار اکیلا نہیں، دوسرے بھی ہیں لیکن دوسروں نے کبھی تمہیں للکارانہیں اور اس ملک کے محافظوں کو دعوت ِ مبادزت نہیں دی۔
اے آوازِ عدل
اِ س بد معاشیہ کے غیظ و غضب سے مرعوب مت ہونا۔ اِس کی گھن گرج سے متاثر ہو کر فضاو¿ں میں تحلیل مت ہونا۔
اپنے اس وعدے پر قائم رہنا کہ تم نے آئین کے تحفظ کی قسم کھا رکھی ہے۔
تجھے معلوم ہے کہ فرمانِ خداوندی ہی میرے پاکستان کا آئین ہے۔ اللہ کی حاکمیت ہی میرے پاکستان کے بیس بائیس کروڑ بھائیوں اور بہنوں کا مقدر اور مستقبل ہے۔
تمہاری اِ س گرج نے اِس قوم کے حوصلے بڑھا دیئے ہیں کہ تجھے دبانے یا تم پر دباو¿ ڈالنے والا ”سپوت“ اس دھرتی کی کسی ماں نے پیدا نہیں کیا۔
توُ ہی میرے پاکستان کا مستقبل ہے۔ ایک عرصے سے یہ قوم امید بھری نظروں سے آسمانوں کی طرف دیکھ رہی تھی۔
اس کے لبوں پر ایک عرصے سے یہ فریاد ہے۔
” ہرطرف گھات لگائے بیٹھے ہیں
دشمن میرے دین کے مرِے دیس کے
کوئی تو اٹھے ، مردِ حق و جری وتوانا۔
مرِے پاکستان کی حرمت کو بچانے کےلئے“۔

Scroll To Top