اس آئین کو نئے سانچے میں ڈھلنا ہوگا۔۔۔ اور اس کا صرف ایک راستہ ہے۔۔۔ ریفرنڈم

aaj-ki-bat-logoرﺅف کلاسرا ایک بے باک بے لاگ اور نہایت قابلِ اعتبار صحافی ہیں۔۔۔ میں ان کے تبصرے اور خیالات سے ضرور مستفید ہوتا ہوں۔۔۔ بات خیالات کی ہم آہنگی کی نہیں۔۔۔ ہمارے خیالات بہت سارے معاملات میں ملتے جلتے نہیں۔۔۔ مثلاً رﺅف کلاسرا کا نقطہ نظر یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں کو امن کی ضرورت ہے اور چونکہ یہ ہمسایہ ممالک ہیں ` اس لئے محاذ آرائی کا لامحدود تسلسل دونوں کے لئے نقصان دہ ہے۔۔۔ جلد یا بدیر دونوں کو ہاتھ ملانا ہوگا۔۔۔ بات اصولی طور پر درست ہے ۔۔۔ ہونا ایسا ہی چاہئے۔۔۔ مگر میرا نقطہ ءنظریہ ہے کہ ایسا ہوگا نہیں۔۔۔ ہم کبھی کشمیر سے دستبردار نہیں ہوں گے اور بھارت کبھی اپنے ساتھ کشمیر کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی الحاق کو ختم کرنے پر تیار نہیں ہوگا۔۔۔ ہم کبھی کشمیر سے اس لئے دستبردار نہیں ہوں گے کہ کشمیر صرف لاکھوں کشمیری مسلمانوں کے حق خودارادیت کا معاملہ نہیں۔۔۔ کشمیر پاکستان کی اپنی بقا کا معاملہ بھی ہے۔۔۔ قائداعظم ؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ جن جغرافیائی حقائق اور ان جغرافیائی حقائق سے جڑی ہوئی زمینی صداقتوں کی بنیاد پر قرا ر دیا تھا انہیں نظر انداز کرنا اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف ہوگا۔۔۔

ایک بڑے مفکر نے سچ کہا تھا کہ انیسویں اور بیسویں صدی کی جنگیں ” تیل “ کی وجہ سے ہوئیں اکیس صدی کی جنگیں ” پانی “ کے اشو پر ہوں گی۔۔۔
اس کے علاوہ تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔۔۔ بھارت ماتا کے نیتا کبھی بھی یہ بات نہیں بھولیں گے کہ ان کی سرزمین پر محمود غزنوی اور محمدغوری حملہ آور ہوئے تھے جس کے نتیجے میں یہاں مسلمانوںکی حکومت قام ہوئی۔۔۔ بھارت ماتا کے سپوتوں کو آج نہیں تو کل ” ہندوتوا“ کے تقاضے پور ے کرنے ہیں۔۔۔
اسے ہم پاکستان کا نصیب سمجھ سکتے ہیں کہ بھارت کبھی اس کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کرے گا۔۔۔ اسے جب بھی موقع ملا ` 16دسمبر1971ءکی تاریخ دہرانے کی کوشش کرے گا۔۔۔
یہ ساری باتیں برسبیل تذکرہ آگئی ہیں۔۔۔ وہ بھی اس لئے کہ 46برس قبل یہی دن تھے جب ہمیں سقوط ڈھاکہ کا زخم سہنا پڑا تھا۔۔۔
ورنہ رﺅف کلاسرا میرا موضوع آج ان خیالات کی وجہ سے بنے ہیں جن کا اظہار انہوں نے 13دسمبر2017ءکو اپنے پروگرام ”مقابل “میں کیا ہے۔۔۔
ان کا کہنا ہے کہ نوازشریف پر یہ بہت بڑا احسان ہوگا کہ آج ان کی حکومت کے خاتمے کے لئے کوئی غیر آئینی مداخلت ہو ۔۔۔ عمران خان بھی قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کرکے نادانستہ طور پر میاں نوازشریف کی مدد کررہے ہیں ۔۔۔ میاں نوازشریف خود ہی اپنے انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔۔۔ انہیں بڑھنے دیا جائے۔۔۔
بات سمجھ میں آنے والی ہے۔۔۔
لیکن اگر ” نان گورننس “ یا ” حکومت کی ناپیدی“ کا یہی عالم جون2018ءتک رہا تو اس ملک کو تباہی و بربادی سے کون بچائے گا ۔۔۔؟
ملک کو بڑے کٹھن اور آہنی فیصلوں کی ضرورت ہے۔۔۔ اور یہ فیصلے میاں نوازشریف کے احکامات پر عملدرآمد کرنے والے ” وزیراعظم “ کے اختیار سے بھی باہر ہیں اور بس سے بھی ۔۔۔
میری رائے یہ ہے کہ اس بوسیدہ نظام کے خاتمے کا اس سے بہتر موقع پھر نہیں ملے گا۔۔۔
انتخابات آج کے پاکستان کے مسائل کا حل ثابت نہیں ہوں گے بلکہ ایسے مسائل کو جنم دے سکتے ہیں جن کا حل شاید کسی کے بھی بس میں نہ رہے۔۔۔
اس آئین کو نئے سانچے میں ڈھلنا ہوگا۔۔۔ اور اس کا صرف ایک راستہ ہے۔۔۔ ریفرنڈم۔۔۔

Scroll To Top