مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘۔

jhoot

مصنف۔۔ غلام اکبر

09-12-2017

قسط :33۔۔ ”


میں نے یہ گفتگو صرف اس لئے درج کی ہے کہ ان احساسات پر روشنی ڈال سکوںجو اس وقت میرے پورے وجود میں موجزن تھے۔ یہ صرف میرے ہی نہیں، میرے ان لاکھوں ہم وطنوں کے احساسات بھی تھے جو ایوبی آمریت کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑنے کے لئے سڑکوں پر نکلنے والے تھے۔
اور اسے میں قدرت کی ستم ظریفی ہی کہہ سکتا ہوں کہ جو شخص اس دور میںبھٹو کو دشمنِ اسلام اور فتنہ پرور قرار دیتا تھا گزشتہ آٹھ برس سے اسے تاریخ اسلام کا رجلِ عظیم ثابت کرتا چلا آرہا ہے اور میں جو اس دور میں بھٹو کو ملتِ پاک کی امنگوں کا نقیب تصور کرتا تھا آج اسکے اِن جرائم کی داستان قلمبند کر رہا ہوں جو اس نے اہلِ پاکستان کے خلاف کئے ہیں۔
O O
اس روز اصغر خان نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایوبی انتظامیہ کے بڑھتے ہوئے آمرانہ رحجانات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی اور حکومت پر واضح کر دیا کہ عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔اصغر خان نے کہا کہ جمہوریت کی آڑ میں آمریت کا جو شرمناک کھیل اتنے عرصے سے جاری ہے اب عوام اسے برداشت نہیں کریں گے اور ایوب خان کو چاہیئے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کو فوری طور پر رہا کر دیں اور خود مستعفی ہو کر ملک کے دونوں بازو¿وں کے عوام کی خواہشات کے مطابق حقِ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر حقیقی جمہوری نظام کے قیام کے لئے راہیں ہموار کر دیں۔ اصغر خان نے دوسرے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیاجنہیں ایوبی دور کی انتظامیہ نے مختلف مقدمات میں ملوث کر کے جیلوں میں ڈال رکھا تھا۔ اصغر خان کا واضح اشارہ شیخ مجیب الرحمان کی طرف تھا جو اگر تلہ سازش کیس کا ملزم نمبر ایک بن کر اہل مشرقی پاکستان کی نظروں میں ایک قومی ہیرو کا درجہ اختیار کر چکا تھا۔ اصغر خان نے کہا۔
” آمریت نے قائد اعظم کے پاکستان کو انسانی حقوق اور اسلامی انصاف کا گہوارہ بنانے کی بجائے ایک وسیع قید خانے کی شکل دے دی ہے جس میں ہر طرف خوف وہراس ، احساسِ عدمِ تحفظ، بے یقینی، محرومی اور بد معاملگی کا دور دورہ ہے۔ جو ظاہری سیاسی استحکام ہمیں نظر آرہا ہے۔ یہ قطعی طور پر مصنوعی ہے اس مصنوعی سیاسی استحکام کے نیچے ملک کے مختلف خطوں کے عوام ایک دوسرے کے بارے میں شکوک وشہبات اور بد اعتمادی کا شکار ہو رہے ہیں۔ اگر باہمی بداعتمادی اور شکوک و شبہات کی جڑیں زیادہ گہری ہوگئیں تو اس کے نتائج ملک کے لئے تباہ کن ہوں گے۔ ہمارا فرض ہے کہ ان جڑوں کو فوری طورپر اکھاڑ پھینکیں جو صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ ملک میں ایسا منصفانہ نظامِ حکومت قائم کریں کہ ملک کے کسی خطے کے عوام کو یہ شکایت پیدا نہ ہو کہ ان کے ساتھ بے انصافی کی گئی ہے یا انہیں اقتدارِ اعلیٰ میں ان کے حق کے مطابق شریک نہیں کیا گیا۔ ملک کے معاشی اور اخلاقی مسائل بھی صرف اسی طرح حل ہو سکتے ہیں کہ عوام کو اس احساسِ محرومیت سے نجات مل جائے جو فردِ واحد کی ڈکٹیٹر شپ نے پیدا کیا ہے میں نے قومی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ ملک کو اس ڈکٹیٹر شپ سے اور عوام کو اس احساسِ محرومی سے نجات دلانے کے لئے کیا ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ عوام کی جدوجہد بالآخر طاقت کے وہ تمام حصار توڑ دے گی جو آمریت نے اپنی حفاظت کے لئے قائم کئے ہیں۔“
اصغر خان نے ملک کی صورت حال کا تجزیہ ایک ایسے ذہن سے کیا تھا۔ جو جذبات کو حقائق پر ترجیح دینا چاہتا تھا۔ وہ عوام کے جذبات سے کھیل کر اپنی مقبولیت کا مینار تعمیر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ عوام کو حقائق کی ان تلخیوں سے آگاہ کرنا چاہتے تھے جو ملک کے دونوں بازو¿وں کے درمیان سیاسی اقتدار کے عدم توازن کی وجہ سے پیدا ہو رہی تھیں۔ سیاسی اقتدار کا یہ عدم توازن اس آمریت کی بدولت قائم ہوا تھا جس کی طاقت کا قلعہ مغربی پاکستان تھا۔ سیاسی اقتدار کے اسی عدم توازن نے مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات اور بداعتمادی کی فضا پیدا کر دی تھی اور اصغر خان کے نزدیک حقیقی سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کے لئے ضروری تھا کہ حقِ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر مشرقی پاکستان کو اقتدار اعلیٰ میں شریک کر کے باہمی شکوک و شبہات اور بد اعتمادی کی اس فضا کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا جائے جس سے صرف پاکستان کے دشمنوں کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔
(جاری ہے)

Scroll To Top