بیت المقدس اسرائیلی دارالحکومت: امریکی فیصلے کے خلاف مذہبی اور سیاسی جماعتیں سراپا احتجاج

  • قومی اسمبلی میں حکومت اپوزیشن جماعتیں ٹرمپ اعلان کے خلاف متحد، تمام مسلمان ممالک امریکہ سفیروں کو ناپسندیدہ قرار دے کر نکال دیں ‘ ارکان اسمبلی کا مطالبہ
  • پاکستان بھر میں احتجاجی مظاہرے‘ بڑی دینی جماعتوں کا مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کو ا سرائیل کادارالحکومت تسلیم کرنے کے ملک گیراحتجاج کا اعلان
روالپنڈی: دفاع پاکستان کے کارکنان امریکہ کے خلاف احتجاج کے دوران امریکی پرچم نذر آتش کر رہے ہیں روالپنڈی: دفاع پاکستان کے کارکنان امریکہ کے خلاف احتجاج کے دوران امریکی پرچم نذر آتش کر رہے ہیں

اسلام آباد (صباح نیوز)قومی اسمبلی میں حکومت اپوزیشن جماعتیں یروشلم کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے اعلان کے خلاف متحد ہو گئیں، ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام مسلمان ممالک امریکہ سفیروں کو ناپسندیدہ قرار دے کر نکال دیں، مسلم ملکوں میں امریکہ درآمدات کا بائیکاٹ کیا جائے مسلمان ممالک میں امریکی مصنوعات کی خرید وفروخت پر پابندی عائد کی جائے پاکستان نام نہاد دہشتگردی کے خلاف مذہبی جنگ سے علیحدہ ہو جائے، امریکی صدر کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کریں گی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے 13دسمبر کو ترک صدر کی طرف سے اس مسئلے پر استنبول میں طلب کردہ اجلاس میں شرکت کا مطالبہ کر دیا گیا ہے عوام سے اپیل کی گئی کہ امریکہ پر دباﺅ اور احتجاج کے لیے تشدد سے گریز کیا جائے پاکستان او آئی سی کا سربراہی اجلاس طلب کرنے کا اقدام اٹھائے امریکی صدر کے اعلان کے بھیانک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔جمعرات کو اس مسئلہ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے کہا کہ پوری اسلامی تاریخ میں افسوسناک دن ہے اثرات وسیع ہونگے ریاستی امور پر ضرب لگی ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں سے مسلمان ممالک ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کر رہے ہیں مسلمان ایک دوسرے کے خلاف اتحاد بنا رہے ہیں جس کا دشمنوں کو فائدہ مل رہا ہے امریکی صدر کے اعلان سے فلسطین پر اسرائیلی قبضہ کو تقویب ملی ہے سپر پاور ملک ایک غیر قانونی قبضہ کو قانونی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مسلم ممالک کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل اس کام میں کامیاب ہو گیا امریکہ کو تصور نہیں ہے کتنی بڑی غلطی کر دی ہے لگتا ہے کہ گرینڈ ڈائزائن کے تحت دہشتگردی کروائی جا رہی ہے امریکی صدر کے اعلان سے فلسطین بارے امن عمل کو دھچکا لگا ہے۔ امریکی حکومت پر یہودیوں کا اثر ورسوخ ہے اسی سلسلے کا متذکرہ اعلان کڑی ہے امریکہ کے دوست ممالک کیا پوزیشن اختیار کریں گے۔امریکہ مسلمان ممالک کا دوست نہیں ہے عالم اسلام کو سنی شیعہ کی تفریق سے بالا تر ہو کر مشترکہ حکمت عملی بنانی چاہیے تمام اسلامی ملکوں کو اس مسئلے پر متحد کرنے کے لیے پاکستان اقدام اٹھائے امن کا مسئلہ ہے انصاف سے امن آتا ہے اس سے بڑی ناانصافی کیا ہو گی کہ ناجائزقبضہ کو جائز قرار دیا جا رہا ہے ان ممالک کے انصاف، انسانیت کے دعوے کھوکھلے لگتے ہیں ترک صدر اردوان نے واضح کیا کہ یہ ریڈ لائن ہے اس کو عبور نہ کیا جائے ۔پاکستان میں تمام سیاسی جماعتیں اپنی وابستگی سے بالا تر ہو کر متحد ہوں اور امریکہ کو فیصلہ واپس لینے پر مجبور کر دیں۔ پاکستان کی بڑی دینی جماعتوں نے آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کو ا سرائیل کادارالحکومت تسلیم کرنے کے ملک گیراحتجاج کی کال دے دی،جے یو آئی اور جماعت اسلامی پاکستان کی قیادت نے اس بارے ضلعی تنظیموں کو ہدایات جاری کردی ہیں۔وفاقی اورصوبائی دارالحکومتوں سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے، ریلیاں ،مارچ اور جلسہ جلوس ہونگے ۔ گزشتہ جاری بیانات میں جے یو آئی کے سر براہ مولانا فضل الرحمن اور جماعت اسلامی کے سربراہ سینیٹرسراج الحق نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کو ا سرائیل کادارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے خلاف آج جمعہ 8دسمبر کو یوم احتجاج منانے کے اعلانات کئے ہیں کیا ہے ۔ علماء،خطباءآئمہ کرام جمعہ کے خطابات میں امریکی صدر کے اس اعلان کے خلاف قرار دادیں منظور کروائیں گے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کو ا سرائیل کادارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کو مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے سے مترادف قرار دیا ہے ۔امریکی صدر کے اس اعلان سے پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں جس کے نتائج بہتر نہیں ہوں گے ۔ پوری دنیا کے مسلمان مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد بیت المقدس کو مقدس ترین خطہ سمجھتے ہیں ۔ مسلمان قبلہ اول کی حفاظت بھی اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو بھی اس اقدام کی مذمت کرنی چاہیے ۔ اضلاع کو ہدایت کرد ی گئی ہے کہ مساجد میں یوم احتجاج کے موقع پر مذمتی قرار دادیں منظور کرائیں۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے ٹرمپ کی طرف سے القدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دینے کے خلاف 8 دسمبر بروز جمعہ ملک گیر یوم احتجاج کی اپیل کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی طرف سے 13 دسمبر کو بلائے گئے او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کریں اور اس معاملے پر مسلم ممالک کو متحد کرنے کی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔ بیت المقدس پر یہودی قبضے کو مضبوط کرنے کے امریکی منصوبے کی ناکامی کے لیے امت مسلمہ کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے جس میں پاکستان کا کردار نمایاں ہونا چاہیے ۔ ٹرمپ کی طرف سے القد س کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دینا جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے ۔ ٹرمپ کے اعلان نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیاہے ۔ ٹرمپ دنیا کو عالمی جنگ کی آگ میں جھونکنا چاہتاہے تاکہ امریکہ میں اپنی تیزی سے گرتی ہوئی ساکھ کو بہتر بناسکے اور اسے امریکہ میں موجود یہودی لابی کا اعتماد اور سرپرستی حاصل رہے ۔ سراج الحق نے کہاکہ مسلم دنیا کے حکمرانوں کو متحدہو کر اس پر اپنا مشترکہ لائحہ عمل دینا چاہیے ۔ سینیٹر سراج الحق نے ملک کی دینی و سیاسی قیادت کو بھی اپنے باہمی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے قبلہ او ل پر یہودیوں کے مستقل قبضہ کی سازشوں کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت پر زور دیا اور ملک بھر کے علماءو خطیب حضرات سے اپیل کی وہ اپنے خطابات جمعہ میں بیت المقدس کی اہمیت کو واضح کریں اور امریکی اشتعال انگیزیوں کے خلاف منبر و محراب سے آواز بلند کریں ۔سینیٹر سراج الحق نے قوم سے اپیل کی کہ یوم احتجاج کے مظاہروں ، ریلیوں اور جلسے جلوسوں میں بھر پور شرکت کرکے اپنا دینی و اخلاقی فرض پورا کریں ۔ یہ کوئی علاقائی مسئلہ نہیں ، پوری امت مسلمہ اور انسانیت کا مسئلہ ہے ۔ ہمیں خوشی ہے کہ ٹرمپ کے اس فیصلے کی مذمت چین ، فرانس ، برطانیہ اور دیگر یورپی و مغربی ممالک بھی کر رہے ہیں ۔ ضرورت ہے کہ فوری طور پر اسلامی کونسل کا اجلاس بلا کر امریکہ کے اس فیصلے کے خلاف بھر پور آواز اٹھائی جائے تاکہ دنیا کو ایک تباہ کن عالمی جنگ سے محفوظ رکھا جاسکے ۔ پاکستان کے پارلیمان میں امریکی صدر ٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے اور وہاں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کے اعلان کے خلاف مذمتی قرارداد جمع،
پیپلز پارٹی کی مذمتی قرارداد میں حکومت پاکستان سے اس معاملے پر دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں اور مشنز کو متحرک کرنے کا مطالبہ
معاملے پر عالم اسلام کی یکجہتی پر زور دیا گیا
#/H

Scroll To Top