جمہوریت پسند انسان ہوں، جمہوریت کا معنی منتخب ہو کر لوٹ مار نہیں، آرمی چیف

  • اب وقت آگیا ماضی کی غلطیوں کو بھلاکر سیاستدان ،فوج اور تمام مکاتب فکر کے لوگ ملکر پاکستان کی ترقی میں مثبت کردار اد اکریں‘ جنرل قمر جاوید باجوہ
  • پاکستان کی ترقی مضبوط جمہوریت کیساتھ منسلک ہے ،پاکستان کی ترقی کیلئے میرٹ کی بالادستی ،تعلیم ،انتظامی امور میں بہتری کی ضرورت ہے‘ کوئٹہ میں خطاب

جمہوریت کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے کے بعد ان کی خدمت کرنے کے بجائے اپنے مفاد کو ترجیح دیں

 

ar
کوئٹہ (این این آئی )چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاہے کہ اب وقت آگیاہے کہ ماضی کی غلطیوں کو بھلاکر سیاست دان ،فوج اور تمام مکاتب فکر کے لوگ ملکر پاکستان کی ترقی میں مثبت کردار اد اکریں ،پاکستان کی ترقی مضبوط جمہوریت کیساتھ منسلک ہے ،آرمی حکومت کرنے کیلئے نہیں بلکہ عوام کی خدمت کیلئے ہے ،پاکستان کی ترقی کیلئے میرٹ کی بالادستی ،تعلیم ،انتظامی امور میں بہتری کی ضرورت ہے۔انہوں نے یہ بات جمعرات کو کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں وائس آف بلوچستان کے زیراہتمام بلوچستان کے نوجوانوں میںافرادی قوت کی بہتری کے حوالے سے منعقدہ انٹرنیشنل سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔اس موقع پر وزیراعلی بلوچستان نواب ثناءاللہ خان زہری ،کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ ،آئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل ندیم انجم ،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفوری حیدری ،وفاقی وزراءمیر حاصل بزنجو ،میر جام کمال،اراکین قومی اسمبلی سردار کمال بنگلزئی ،جہانگیر خان ترین ،سینیٹر آغا شاہزیب درانی ،صوبائی وزراءنواب چنگیز مری ،میر سرفرازبگٹی ،سردار سرفراز ڈومکی،عبدالرحیم زیارتوال ،ڈاکٹر حامد اچکزئی ،میر اظہار حسین کھوسہ ،وزیراعلی کے مشیران محمد خان لہڑی ،عبیداللہ بابت ،سردار رضامحمد بڑیچ ،اراکین اسمبلی زمر ک خان اچکزئی ،سپوژمی اچکزئی ،عارفہ صدیق ،یاسمین لہڑی ،حکومت بلوچستان کے ترجمان انورالحق کاکڑ ،سیاسی رہنماءسردار یار محمد رند ،میر چنگیز جمالی ،سردار زادہ عمیر محمد حسنی ،سینئر صحافی سلیم صافی ،محمد مالک سمیت طلباءوطالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔آرمی چیف جنر ل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ ماضی میں فوج اور سیاستدانوں دونوں نے غلطیاں کی ہیں اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنا کام کریں اور سیاستدان اپنا کام کریں ، انہوں نے کہا کہ فوج کاکام حکومت کرنا نہیں بلکہ عوام کی خدمت کرنا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان صرف جمہوری پراسیس کے ذریعے ترقی کرسکتا ہے میں جمہوریت پسند انسان ہوں لیکن جمہوریت کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے کے بعد ان کی خدمت کرنے کے بجائے اپنے مفاد کو ترجیح دیں ۔ انہوں نے کہاکہ سیاستدان کے پاس عوام کے ووٹوں کی طاقت ہوتی ہے جوکہ کسی بھی طاقت سے زیادہ اہم ہے ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی سرزمین زرخیز ہے یہاں کے نوجوانوںمیں بے پناہ صلاحیتیںموجود ہیں ، انہوں نے کہا کہ صوبے کے نوجوانوں کو صحیح سمت دکھانے کی ضرورت ہے ہمیں اپنی ترجیحات کو طویل المدت کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسی طریقے سے قومی ترقی ممکن ہے ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی پسماندگی کی اہم وجہ یہاں معیاری تعلیم کا فقدان ہے،انہوں نے کہا کہ 1960کی دہائی میں کوئٹہ میں پاکستان کے بہترین سکول ہوا کرتے تھے لیکن یکایک دس ہزار اساتذہ جب یہاں سے گئے تو تعلیمی معیاری خراب ہوا ،گزشتہ چالیس سالوں میں سکولوں سے زیادہ مدرسے تعمیر ہوئے میں مدرسوں کیخلاف نہیں ہوں لیکن ہمارے یہاں مدرسوں میں صرف دینی تعلیم دی جارہی ہے جس کی وجہ سے مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنےوالے طلباءدوسرے بچوں کی نسبت پیچھے رہ جاتے ہیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا نہیں کرپاتے ۔انہوں نے کہاکہ امن وامان کی مخدوش صورتحال اور افغانستا ن کی جنگ نے ہمیں بری طرح متاثر کیا ہے بلوچستان کی ترقی میں بھی امن وامان رکاوٹ رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس اچھے بیورکریٹس کی کمی ہوتی جارہی ہے کوئی بھی بلوچستان آکر فرائض سرانجام نہیں دینا چاہتا سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کوتجویز دی تھی کہ بلوچستان اچھے بیوروکریٹس بجھوائیں لیکن بلوچستان سے ہی تعلق رکھنے والے افراد یہاں آکر کام نہیں کرنا چاہتے اگر ہم نے نوجوان نسل میں سے بہترین بیوروکریٹس نہیں بنائے تو مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔ آرمی چیف نے کہاکہ پاکستان بلوچستان کے بغیر ادھورا ہے ،بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے ، انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے بلوچستان میں چھ کیڈٹ کالج تعمیر کئے ہیں جبکہ مزید تین کیڈٹ کالج بنائے جائینگے ،نسٹ کوئٹہ کیلئے زمین مختص کرلی گئی ہے جبکہ استحکام اگلے سال شروع ہوجائےگا ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں ٹیکنیکل تعلیم کا انسٹیٹیوٹ بھی تعمیر کیا جائےگا جبکہ پاک فوج کی جانب سے تربت کو ایم آر آئی مشین بھی فراہم کی جائےگی ۔انہوں نے کہاکہ ایک وقت تھا جب بلوچستان سے تعلق رکھنے والے گنے چنے افسران فوج میں ہوتے تھے لیکن آج میں فخر سے کہتاہوں کہ بلوچستان کے 600 افسران، 20ہزار سے زائد اہلکار اور 232 کیڈٹس اس وقت پاک فوج میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پاک فوج میں میرٹ کا خصوصی خیال رکھا جاتاہے یہی وجہ ہے کہ میں عام شخص سے جنرل بنا اور پاک فوج کی کمان کررہاہوں ، انہوں نے کہا کہ اسی طرح ہمیں ملک کے ہر ادارے میں میرٹ کی بالادستی لانی ہوگی کیونکہ اسی سے ترقی ممکن ہے ۔انہوں نے کہاکہ میڈیا کو بھی بلوچستان کو مزید کوریج دینی چاہئے پاکستان میں 93فیصد ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کا براہ راست اثر غریب عوام پر پڑتاہے جبکہ ٹیکس کلیکشن بھی انتہائی کم ہے ، انہوں نے کہا کہ ہر سال 32بلین ڈالر خرچ کئے بغیر ضائع ہوجاتے ہیں ان معاملات پر ہمیں توجہ مرکوز کرنی ہوگی ، انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان اور بلوچستان کو بنانا ہے اب نئی شروعات کا وقت آگیا ہے ہم سب نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ملک کو کیسے آگے لےکر جائےں ۔

Scroll To Top