مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘۔

jhootمصنف۔۔ غلام اکبر
08-12-2017
قسط :32۔۔


” میں آپ کے خیالات کا احترام کرتا ہوں مولانا، لیکن میری ایک بات یاد رکھیئے بھٹو کی تحریک ضرور کامیاب ہوگی۔ اس لئے کامیاب ہوگی کہ وہ عوام کی امنگوں کی ترجمانی کر رہا ہے۔ اب عوام بے بسی اور غربت کو اپنی تقدیر بنائے رکھنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ اپنی تقدیر بدلنا چاہتے ہیں۔ اگر ایک شخص بھوکا رہتا ہے اسے پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا۔ اس کے بدن پر لباس نہیں ہوتا۔ اس کے پاس سرچھپانے کے لئے جگہ نہیں ہوتی، گرمیوں میں وہ جھلستا ہے اور سردیوں میں ٹھٹھرتا رہتا ہے بیماری میں اسے دوا نہیں ملتی۔ آپ او رمجھ جیسے لوگ اسے عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ اسے حقیر سمجھتے ہیں۔ اسے اپنے پاس بٹھانا پسند نہیں کرتے۔ تو یہ اس شخص کی تقدیر نہیں مجبوری ہے اور یہ مجبوری اسے ربِ غفور و رحیم نے نہیں دی۔اس معاشرے نے دی ہے۔ جس کی باگ ڈور جابروں اور ظالموں کے ہاتھ میں ہے اگر آئین الہٰی یہی ہوتا کہ غربت موروثی ہو اور امارت موروثی ہو، محکومی موروثی ہو اورحاکمیت موروثی ہو، جہالت موروثی ہو اور تعلیم یافتہ ہونے کا حق موروثی ہو، ظلم سہنے کی تقدیر موروثی ہو اور ظلم کرنے کا حق موروثی ہو، تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا محمد کو رحمت اللعالمینبنا کر کیوں بھیجتا؟ محمد کا اسلام انسان کی تقدیر بدلنے کے لئے آیا تھا۔ محمود ایاز کو ایک صف میں کھڑا کرنے کے لئے آیا تھا۔ آپ جس اسلام کی باتیں کرتے ہیں اسے امراءرو¿ سا سلاطین اور بادشاہوں نے اپنی امارتوں، ریاستوں سلطنتوں اور بادشاہتوں کے تحفظ کے لئے ایجاد کیا۔ غربت کو غریب کی تقدیر اور امارت کو امیر کی تقدیر قرار دینے والے اسلام کو سوشلزم سے واقعی ڈرنا چاہیئے مگر وہ اسلام جس کا بانی اور ہادی پیوند لگا لباس پہنتا تھا۔ اس کے اسلام کو سوشلزم یا کسی اور ازم سے کوئی خطرہ نہیں۔“
” آپ تو بڑے انقلابی خیالات رکھتے ہیں۔“ کوثر نیازی نے لاجواب ہو کر کہا۔ ’
” مگر پھر بھی سوشلزم کا نام کیوں لیا جائے؟“
” نام میںکچھ نہیں رکھا مولانا۔ اسلام کا نام اللہ تعالیٰ کچھ اور رکھتا تو بھی اس کی تعلیمات یہی ہوتیں۔“ میں نے جواب دیا۔“ اور اگر آپ کسی جابرانہ نظام کا نام اسلام رکھ لیں تو وہ اسلام نہیں بن جائے گا۔“
” یہ تو بڑی لمبی بحث ہے۔ آپ اصغر خان کے بارے میں بتائیں کہ ان کے سیاست میں آنے سے کیا فرق پڑے گا؟“ کوثر نیازی بولا۔
” بھٹو کو گرفتار کر کے ایوب خان نے ظاہر کر دیا ہے کہ وہ بھٹو سے ڈرتے ہیں وہ اصغر خان سے بھی ڈریں گے اور جو آمر اپنے مخالفین سے ڈرنے لگے خواہ وہ کتنا ہی جبر کیوں نہ کرے اور طاقت کا استعمال کتنے ہی بے دریغ انداز میںکیوں نہ کرے اپنے انجام سے نہیں بچ سکتا۔ یہ جنگ دراصل ایوب خان اور بھٹو کے درمیان نہیں یا ایوب خان اور اصغر خان کے درمیان نہیں۔ بلکہ ایوب خان اور عوام کے درمیان ہے۔ ایوب خان دراصل بھٹو یا اصغر خان سے نہیں ڈرتے بلکہ عوام سے ڈرتے ہیں۔ جب تک عوام حاکم سے ڈرتے رہتے ہیں۔ جبرو استبدادکا نظام قائم رہتا ہے اور جب حاکم عوام سے ڈرنے لگتا ہے تو سمجھ لیجئے کہ عوام کو زبان مل گئی ہے اور جب عوام کو زبان مل جاتی ہے تو قصرِ شاہی کے درو دیوار ہل جاتے ہیں۔ بھٹو کو میں عوام کی زبان سمجھتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اصغر خان بھی عوام زبان بننے کے لئے میدانِ سیاست میں کود رہے ہیں۔“
شاید یہ بحث کچھ دیر اور چلتی مگر ٹیلیفون کی گھنٹی نے سلسلہ گفتگو توڑ دیا۔ فون مشرق کے دفتر سے آیا تھ اور عنایت اللہ مرحوم کے لئے تھا۔ فون سننے کے بعد عنایت اللہ مرحوم نے بتایا کہ حکومت نے اصغر خان کے بیانات اور اُن کی سیاسی سرگرمیوں کی رپورٹنگ میں سخت احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
” گویا آج اصغر خان پریس کانفرنس میں جو کچھ کہنے والے ہیں وہ شائع نہیں ہو پائے گا۔“ میں نے کہا۔ ” اب بتایئے مولانا۔ آپ کے سوال کا جواب خود حکومت نے دے دیا ہے۔ جو حکومت اپنی بقاءکے لئے اتنی زبردست احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر مجبور ہو وہ آخر کب تک اس طوفان کو روکنے میں کامیاب رہے گی ،جو بڑی تیزی سے اٹھ رہا ہے۔ ہر سناٹا کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوتا ہے اور آج جو سناٹا طاری ہے وہ کل ٹوٹ کر رہے گا“۔
(جاری ہے….)

Scroll To Top