دولت کب چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ میرے پیچھے کوئی نہ کوئی جرم ضرور موجود ہے ؟ 07-12-2016

kal-ki-baat

پاناماکیس کے حوالے سے عدالت نے تین سوال اٹھا دیئے ہیں۔ ایک یہ کہ ” میاں نوازشریف کے بچوں نے اتنی منافع بخش اور امیر کمپنیاں کیسے بنائیں ۔؟“ دوسرا یہ کہ” محترمہ مریم نوازشریف اپنے والد کی کفالت میں تھیں یا نہیں ؟“۔۔۔ تیسرا یہ کہ ” شریف خاندان نے اپنے بیانات اور اپنی تقریر وں میں سچ کہا تھا یا نہیں ۔۔۔“
ان سوالات کے جو بھی جوابات شریف خاندان کے وکلاءپیش کرتے ہیں اُن سے عدالت مطمئن ہوتی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ تو مستقبل میں ہی ہوگا مگر یہ بات تسلیم کی جاچکی ہے کہ پاناما پیپرز میں جن کمپنیوں کا ذکر ہے وہ شریف خاندان کی ہی ہیں اور اربوں روپے کے جو فلیٹ لندن کے سب سے مہنگے علاقے میں شریف خاندان سے منسوب ہیں وہ درحقیقت شریف خاندان کے ہی ہیں۔
شریف خاندان کا دفاع کرنے والے وزراءاور وکلاءیہ کہہ رہے ہیں کہ شریف خاندان پر جوالزامات لگائے گئے ہیں وہ ثابت نہیں کئے جاسکے۔ عدالت یں کوئی ایسا ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ شریف خاندان نے متذکرہ کمپنیاں غیر قانونی طور پر غیرقانونی یا چوری کے پیسے سے بنائی ہیں۔میں یہاں کوئی تبصرہ نہیں کرناچاہتا۔ لیکن پڑھنے والوں کی دلچسپی کے لئے حضرت عمر فاروق ؓ کے اُس خط کا ذکر کروں گا جو مصر کے فاتح اور گورنر حضرت عمر و العاص ؓ کو لکھا گیا۔ یہ خط دراصل ایک لمبی خط و کتابت کا حصہ تھا جس میں حضرت عمر فاروق ؓ نے حضرت عمر والعاص ؓ سے اُس دولت کے بارے میں وضاحت طلب کی تھی جو مصر کے گورنر کی حیثیت سے ان کے پاس موجود تھی۔ حضرت عمر والعاص ؓ نے اپنے جوابات اور وضاحتوں کے ذریعے ثابت کردیا کہ متذکرہ دولت جائز طریقوں سے کمائی گئی تھی۔۔۔۔حضرت عمر فاروق ؓ ` حضرت عمر والعاص ؓ کی وضاحتوں سے مطمئن نہ ہوئے اور اپنے آخری خط میں انہوں نے لکھا۔۔۔
” عاص کے بیٹے۔۔۔ اور میرے بھائی۔ تم نے ثابت تو کردیا ہے کہ جو مال تمہارے پاس آیا ہے وہ جائز طریقوں سے آیا ہے ` مگر میرا دل نہیں مانتا کہ کوئی مسلمان اتنا امیر بن سکتا ہے۔۔۔ اور میری عقل یہ کہتی ہے کہ یہ مال تم نے اپنے اختیارات کے ذریعے کمایا ہے۔۔۔ اس لئے تمہارے حق میں بہتر یہ ہے کہ اپنی ضرورتوں سے زیادہ جتنا بھی مال تمہارے پاس موجود ہے وہ بیت المال میں جمع کرا دو اور بدستور گورنر رہو۔۔۔ اگر تم یہ مال بیت المال میں جمع کرانا نہیں چاہتے تو پھر گورنری چھوڑ دو۔۔۔ اور تجارت کرو۔۔۔ اور اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تمہیں پابہ زنجیر مدینہ لایا جائے گا۔۔۔۔“
اس خط کا حوالہ میں نے یہ کہنے کے لئے دیا ہے کہ جرم خود ہی اپنا ثبوت ہوا کرتا ہے۔۔۔
بیرون ملک جتنی بھی دولت اور املاک شریف خاندان کے پاس ہیں وہ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ ” ہمارے پیچھے کوئی نہ کوئی بڑا جرم ضرورموجود ہے۔۔۔“

Scroll To Top