پاکستان اس للکار کا جواب دے سکتا ہے بشرطیکہ یہاں سے بدعنوان خواجہ سراﺅں کے اقتدار کا خاتمہ ہوجائے ۔۔۔

aaj-ki-bat-logo

بیت المقدس کا مسئلہ سیاسی نہیں ہے۔۔۔ یہ ہمارے دین کا مسئلہ ہے ۔۔۔ ہمارے دین میں جو نام مقدس ترین ہیں ان میں اللہ `قرآن `محمد ﷺ `مکہ اور مدینہ کے بعد جو نام آتا ہے وہ بیت المقدس ہے۔۔۔ اسی نام کے ساتھ اسلام کی قبل از نبوت ﷺ کی تاریخ وابستہ ہے۔۔۔

کون نہیں جانتا کہ بیت المقدس ہمارا قبلہ رہا ہے اور کافی عرصے تک آنحضرت ﷺ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے او ر پڑھاتے رہے۔۔۔
اس پاگل جنونی مسلم دشمن شخص جس کا نام ڈونلڈ ٹرمپ ہے بالآخر اس نے ہماری قومی ملی اور دینی حمیّت کو کچھ اس انداز میں للکارا ہے کہ اگر امت محمدی ﷺ نے اس للکار کا جواب اپنے ایمان کی پوری قوت کے ساتھ نہ دیا تو سمجھا جائے گا کہ رسول عربی ﷺ کے پیروکار وں نے بھی اپنے پیغمبر کے ساتھ ویسی ہی بے وفائی کی جیسی بے وفائی پچھلے پیغمبروں کے پیروکارکرتے رہے تھے۔۔۔
یہ درست ہے کہ پاکستان امریکہ کو شکست نہیں دے سکتا۔۔۔ یہ درست ہے کہ عالم ِ اسلام مل کر بھی امریکہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔۔۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ ایک طاقت ایسی موجود ہے جو جب چاہے امریکہ کو اسی طرح صفحہ ءہستی سے مٹا سکتی ہے جس طرح عادوثمود اور قوم ِصدوم کو صفحہ ءہستی سے مٹا دیا گیا ۔۔۔
امریکہ کو سزا اللہ دے گا۔۔۔
مگر ہم کیا کرسکتے ہیں ۔۔۔؟
ہم یہ کرسکتے ہیں کہ شمالی کوریا کی طرح ٹرمپ کی رعونت کے سامنے کھڑے ہوجائیں۔۔۔ یہ درست ہے کہ ہمارا بال بال ہمارے بدقماش اور بدعنوان حکمرانوں نے ایسے قرضوں میں جکڑرکھا ہے جن کی وجہ سے ہماری آزادی ` آزادی ءموہوم بن کر رہ گئی ہے ۔۔۔ مگر ہم تنہا نہیں۔۔۔ ہمارے ساتھ بھی کچھ عالمی طاقتیں ہیں۔۔۔ ہم عالمِ اسلام کا قلعہ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں ہمارا محل و قوع ایسا ہے کہ ہمیں نظرانداز کرنا ناممکن ہے۔۔۔
ہم افغانستان نہیں کہ ہمیں تورا بورا بنا کر امریکہ چلا جائے گا۔۔۔ ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں۔۔۔ اور دنیا کی دوسری بڑی طاقت ہماری حلیف ہے۔۔۔
ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم بدعنوان خواجہ سراﺅں کو رہبری کے منصب سے اتار کر بحر عرب میں غرق کردیں۔۔۔
عالمِ اسلام کو متحد کرنے کا اس سے بہتر موقع نہیں آئے گا۔۔۔ سعودی عرب کو بھی اب سوچنا ہوگا کہ اللہ اس کامعبود ہے یا امریکہ۔۔۔ٹھیک ہے کہ ہم امریکہ کاکچھ نہیں بگاڑ سکتے۔۔۔ لیکن اسرائیل کی زندگی اجیرن کی جاسکتی ہے۔۔۔
اسرائیل کے ایک فاﺅنڈنگ فادر بین گوریاں نے کہا تھا۔۔۔
” یقینا ہم دوجنگیں جیت چکے ہیں۔۔۔ ہم تیسری جنگ بھی جیتیں گے ۔۔۔ ہم چوتھی جنگ بھی جیت جائیں گے ۔۔۔ شاید پانچویں بھی۔۔۔ لیکن ہمارے اردگرد انسانوں کا سمندر ہے۔۔۔ ہمیں نسیت و نابود ہوجانے کے لئے صرف ایک بار شکست کھانی ہوگی۔۔۔ میں اپنی قوم سے کہناچاہتا ہوں کہ ہم ناقابلِ شکست نہیں۔۔۔ اس سے پہلے کہ شکست ہمارے دروازے پر دستک دے ` ہمیں عربوں اور مسلمانوں کے ساتھ امن قائم کرنا ہوگا۔۔۔“
بین گوریاں نے درست کہا تھا۔۔۔
عالمِ اسلام کو صرف ایک اور اردگان کی ضرورت ہے۔۔۔

Scroll To Top