امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی: پاکستان کی منصوبے کی بھرپور مخالفت

  • اقدام سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی ہو گی‘ اس اقدام سے علاقائی امن و استحکام کو خطرات لاحق ہو جائیں گے‘وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی
  • امریکی اقدام سے نہ صرف مشرق وسطٰی بلکہ خطے کے دیگر علاقوں میں امن و سلامتی کی صورتحال متاثر ہو گی، امریکی سفارتخانہ کی منتقلی متعلقخبروں پر رد عمل

بیت المقدس

اسلام آباد (صباح نیوز) پاکستان نے امریکہ کی جانب سے اپنا سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کا اقدام سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی ہو گی اور اس اقدام سے علاقائی امن و استحکام کو خطرات لاحق ہو جائیں گے وزیر اعظم آفس کے مطابق امریکہ کی جانب سے اپنا سفارتخانہ یروشلم سے بیت المقدس منتقل کیے جانے کے فیصلے پر پاکستان کو گہری تشویش ہے ایسا کوئی بھی اقدام عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہو گا وزیر اعظم آفس کی جانب سے مذید کہا گیا ہے کہ ایسا کوئی اقدام اس معاملے پر کئی دہائیوں کے اتفاق رائے کی بھی خلاف ورزی ہو گا یہ معاملہ علاقائی امن اور مشرق وسطٰی میں سلامتی کے عمل کو متاثر کرے گا پاکستان عوام اور حکومت ایسے کسی بھی اقدام کی دو ٹوک مخالفت کرتے ہیں پاکستان اس معاملے پر او آئی سی کے حالیہ اعلامیے کی مکمل توثیق کرتا ہے پاکستان کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور 1967کی یواین سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق فلسطین کی آزاد اور خود مختار ایسی ریاست جس کا دارلحکومت بیت المقدس ہو گا اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں پاکستان کی طرف سے امریکہ کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ امریکہ اس سے باز رہے اور سلامتی کونسل کی قرارداد کی پاسداری کرے امریکہ اس قسم کے اقدام سے نہ صرف مشرق وسطٰی بلکہ خطے کے دیگر علاقوں میں امن و سلامتی کی صورتحال متاثر ہو گی اور مشرق وسطٰی میں جاری امن کا عمل بھی بُری طرح متاثر ہو گا۔

Scroll To Top