پاکستان کو بھارت نہیں آستین کے سانپوں سے خطرہ ہے ‘سراج الحق

  • نظریہ پاکستان سے جو بھی غداری کرےگا نوجوانوں کا ہاتھ انکے گریبان پر ہوگا‘ امیر جماعت اسلامی

لاہور: جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق اور تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں

اسلام آباد(صباح نیوز)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی وجہ سے پاکستان کا مستقبل روشن ہے اسلامی اور خوشحال ملک دنیا کی قیادت کرے گا اور پاکستان ہی مستقبل میں سپر پاور ہوگا۔اسلامی جمعیت طلبہ ایک نظریاتی ٹولہ ہے جس نے تمام شعبوں میں ایماندار لوگوں کو پیدا کیا۔پاکستان کے نظریے سے جو بھی غداری کرے گا نوجوانوں کا ہاتھ ان کے گریبان پر ہوگا۔ پاکستان کو بھارت سے نہیں آستین کے سانپوں سے خطرہ ہے جن کو کچلنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے اسلامی جمعیت طلبہ کے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے میگا ایجوکیشن ایکسپو 2017کے دوسرے دن کے افتتاح کے بعد طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم میاں صہیب الدین کاکا خیل اور سید عبدالمنان شاہ نے بھی خطاب کیا۔سینیٹر سراج الحق نے ایکسپو میں لگے مختلف سٹال کا دورہ بھی کیا تقریب میں اسلامی یونیورسٹی کے طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ کا شکر گزار ہوں جس نے نوجوانوں کو منزل دی اور مثبت سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ کو اچھا پیغام دیا۔ نوجوانوں کی وجہ سے پاکستان کا مستقبل روشن اور محفوظ ہے پاکستان اسلامی اور خوشحال ملک بنے گا اور دنیا کی قیادت کرے گا اسلامی اور خوشحال پاکستان دیگر ممالک کے لیے رول ماڈل ہوگا مجھے یقین ہے کہ مستقبل کا سپر پاور چین ،امریکہ ،روس نہیں پاکستان ہوگا۔جمعیت طلبہ1947ءسے آج تک اس کے لیے مسلسل جدوجہد کررہی ہے مسلمانوںکو امت بنانے اور پاکستان کو منزل تک پہنچنے کے لیے مہم میں مسلسل کردار ادا کررہی ہے جمعیت ایک نظریاتی نوجوانوں کا گروہ ہے جس نے والدین کو تابیدار بیٹے اساتذہ کو طالب علم ،اداروں کو دیانتدار آفیسر دیں ہیں آج بھی اگر کوئی ایماندار آفیسر کئی کام کرتا ہے تو اس کا ماضی دیکھا جائے تو اس کی تربیت جمعیت نے کی ہوتی ہے۔اسلامی جمعیت طلبہ جدوجہد نظریہ اور ویژن کا نام ہے میں خود اٹھویں جماعت میںجمعیت میں شامل ہوا تھا اور میرے اندر جو اچھے اوصاف پائے جاتے ہیں وہ والدین کے بعد جمعیت کی وجہ سے ہیں۔جمیعت نے مجھ جیسے غریبوں کو پڑھنے اور آگے بڑھنے کا موقع دیا اور جمعیت کی وجہ سے میں جماعت اسلامی کاامیر ہوں جمعیت کی وجہ سے صوبائی اسمبلی کا ممبر بنا صوبائی وزیر رہا اور آج سینیٹر ہوں میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد سرکاری سکول میں ملازمت کرنے لگا مگرجمعیت نے نظریہ دیا کہ زندگی کا مقصد دوسروں کے کام آنا ہے اور اس کے بعد ملازمت ترک کرکے زندگی کو ملک اور قوم کی خاطر قربان کرنے کا فیصلہ کیا۔ سراج الحق نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دیگر اقوام کی رہنمائی کرنے کے لیے بنایا ہے۔ ہمیں کسی دوسرے سے رہنمائی لینے کی ضرورت نہیں ہے میں نے صوبائی الیکشن اور نہ ہی سینیٹر بننے کے لیے کچھ خرچ کیا مگر جمعیت کی تربیت کی وجہ سے بن گیا میرا تعلق غریب گھرانے سے تھا مگر اس کے باوجود جمعیت نے کسی فرد کے بجائے نبی مہربان حضرت محمد کا غلام بنایا اور میں چاہتا ہوں کہ میرے بچے ڈاکٹر،انجینئر اور پروفیسر بنے یا نہ بنے لیکن جمعیت کا کارکن ضرور بنیں تاکہ وہ دنیااور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نظریے کا نام ہے اور ہمارے پاس یہ شہیدوں کی امانت ہے مدینہ کے بعد پاکستان مقدس ملک ہے جو کلمہ کی بنیاد پر قائم ہوا ریاست مدینہ کے لیے بھی لوگوں نے ہجرت کی تاکہ شریعت پر عمل کر سکیں اور پاکستان کے لیے بھی یہی وجہ تھی بین الاقوامی سازش کے تحت پاکستان کو دوحصوں میں تقسیم کیا گیا اور اس کے ذمہ دار شیخ مجیب الرحمن اور بھارت کےساتھ پاکستان کی بیوروکریسی بھی ہے جس نے بنگال کے لوگوں کو دیوار سے لگایا پاکستان کو اب دوبارہ جغرافیائی طور پر تقسیم کر نے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کے لیے وہ پاکستانیوں کو ان کے نظریے سے دور کرنا چاہتے ہیں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے لبرل اور سیکولر پاکستان کانعرہ لگایا یہ نعرہ ان کا اپنا نہیں تھا مگر باہر کے لوگوں نے ان کی زبان پر رکھا ہے ناموس رسالت کے حلف نامہ میں تبدیلی کی گئی تو چترال سے کراچی تک لوگ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے ثابت کیا کہ وہ کسی صورت نظریہ پاکستان سے نہیں ہٹیں گے نواز شریف نے لبرل اور سیکولر کا نعرہ لگا کر اﷲ اور رسول کو خوش کرنا چاہتے ہیں یا ٹرمپ اوربھارت کو خو کرنا چاہتے ہیں۔سراج الحق نے کہا کہ جس نے بھی پاکستان کے نظریے سے غداری کی تو نوجوانوں کے ہاتھ ہونگے اورر ان کے گریبان ہوں گے ٹی وی چینل پر آنے والے سیاستدان ایسٹ انڈیا کمپنی کے غلام در غلام طبقے سے ہے جس نے انگریز کے چلے جانے کے بعد انگریز کے نظام کو سینے سے لگایا ہوا ہے اداروں اور جمہوریت کو پیسے کے زور پر یرغمال بنایا ہوا ہے پاکستان میں دو فیصد لوگوں نے وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے چند سو لوگ ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں جاتے ہیں جو کرپشن بدعنوانی اور غربت کے ذمہ دار ہیں پاکستان کو بھارت سے خطرہ نہیں وہ ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے پاکستان کو ان آستین کے سانپوں سے خطرہ ہے جن کو کچلنے کی ضرورت ہے۔ان کی اولادیں بیرون ملک پڑھتی ہیں اور واپسی پرڈگریوں کے ساتھ غیر ملکی کلچر اور حکمرانی کا نشہ لے کر آتی ہیں اورعالمی قوتیں ایک گھوڑے کے داغ دار ہونے پر دوسرا گھوڑا آگے کر دیتے ہیں اور ان سیاسی پنڈتوں نے پاکستان کی ترقی کا راستہ روکا ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سودی نظام نے ہماری معیشت یرغمال بنائی ہوئی ہے جماعت اسلامی فرد کو نہیں نظام کو بدلنے کی بات کرتی ہے اور اس کی جگہ اسلامی نظام ملک میں رائج کرنا چاہتی ہے جماعت اسلامی دوسری سیاسی جماعتوں سے الگ ہے ہم پاکستان کے عوام کے لیے متبادل ہیں ہمارے پاس اپنا سیاسی،معاشی ،تعلیمی نظام ہے جس دن حکومت ملے پہلے دن سود کو ختم کردوںگا اور زکوة عشر کا نظام عام کروں گا حرام دولت پر سیاست کرنے والوں کو جیل پہنچیں گے بیرونی قرضوں سے پاکستان کو نکالیںگے پاکستان میں روزانہ 12 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے اگر اس کو روک لیں تو روزانہ پنجاب یونیورسٹی کی طرح ایک یونیورسٹی بنا سکتے ہیں۔دو کروڑ پچاس لاکھ بچوں کو مفت تعلیم بیماروں کو علاج اور سستی بجلی مہیا کر سکتے ہیں۔ ہم صرف کرپشن کا الزام نہیں لگا جس کو کچھ نہیں ملتا وہ ہمارے لباس اور ٹوپی پر تنقید کرنا شروع کر دیتا ہے اور مجھے اپنے قومی لباس پر فخر ہے ہمیں لوگ کہتے ہیں کہ امریکہ آپ کو پسند نہیں کرتا ہے اس لیے آپ کی حکومت نہیں آ سکتی میں نے جواب دیا کہ شکر ہے کہ شیطان مجھے پسند نہیں کرتا ہے۔اس لیے جماعت اسلامی اس نظام کے خلاف کام کررہی ہے جس میں پچاس سال مکمل ہونے پر پیپلز پارٹی کے شریک آصف علی زرداری نے اعلان کیا کہ میں اب اختیارات اپنے بیٹے بلاول کو منتقل کرتا ہوں کیونکہ یہ اپنے مفاد کے لیے کام کرتے ہیں جماعت اسلامی 436 افراد جن کے نام پانامہ میں ہیں ان کا بھی احتساب کیا جائے اور سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ جس پر نیب کے مقدمات ہیں اور وہ وہاں سے کلیئر نہیں ہوتے ان کو الیکشن کے لیے نا اہل کیا جائے۔
#/S

Scroll To Top