ہم بروٹس کی جگہ کس کا نام لیں گے ؟ 7-7-2012

kal-ki-baat

امریکہ جیت گیا۔ پاکستان ہار گیا ۔ اگرچہ ہمارے حکومتی حلقے یہ تاثر دینے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں کہ امریکہ نے ” سوری “ کہہ کر پاکستان کا بنیادی مطالبہ مان لیا ہے اور یوں ہمارے ملک کو ایک ” عظیم “ اخلاقی فتح نصیب ہوئی ہے ` لیکن غیر ملکی اخبارات و جرائد جس قسم کے تجزیوں سے بھرے پڑے ہیں اُن سے اِس کے علاوہ اور کوئی نتیجہ اخذ کیا ہی نہیں جاسکتا کہ یہ ” سوری “ جو امریکہ کی طرف سے سات ماہ کے شدید تناﺅ کے بعد کہی گئی ہے وہ اُس نوعیت کی نہیں جِس نوعیت کی پاکستان چاہتا تھا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ” سوری ہم آپ کا کوئی مطالبہ نہیں مان سکتے۔“
امریکی میڈیا کھل کر یہ بات لکھ رہا ہے کہ نیٹو سپلائی کی بحالی کا ” کریڈٹ “ پاکستان کے نئے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو جاتا ہے۔ اس بات کا مطلب کیا ہے ؟ معافی کس نے کس سے مانگی ہوگی ؟ پاکستان میں وزارت عظمیٰ کی سند پر راجہ صاحب جیسے ” باصلاحیت مدبر“ کو فائز دیکھ کر بھارتی وزیراعظم کا دل بھی للچا گیا ہے کہ کیوں نہ اس موقع سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کے لئے پاکستان کا دورہ کر ہی لیا جائے۔ اپنے تازہ ترین بیان میں منموہن سنگھ نے توقع ظاہر کی ہے کہ مجوزہ دورے سے ” مثبت “ نتائج برآمد ہوں گے۔
اس امر میں شک و شبہ کی گنجائش زیادہ نہیں کہ جو ” نتائج “ بھارت یا امریکہ کے لئے ” مثبت “ ہوں گے وہ پاکستان کے لئے پسپائی کا ایک اور قدم کہلائیں گے۔
خدانخواستہ بھارت اور امریکہ کو ” مثبت نتائج “ کا تحفہ دینے کے عمل میں ہماری فوجی قیادت واقعی شریک ثابت ہوئی (جیسا کہ بعض حلقوں میں کہا جارہا ہے )تو قائداعظم ؒ کے پاکستان کے تمام ” محب وطن “ یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ انہوں نے ” دھوکہ “ اپنوں سے کھایا ہے غیروں سے نہیں۔سیزر نے خنجرکھانے کے بعد پلٹ کر جب ” اپنوں “ کے چہرے دیکھے تھے تو بے اختیار کہا تھا۔
” یُو ٹُو بروٹس ؟“ (You too Brutus?)
اگر ہمارے ساتھ ایسا ہوا تو ہم بروٹس کی جگہ کس کا نام لیں گے ؟

Scroll To Top