مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘۔

jhootمصنف۔۔ غلام اکبر

07-12-2017

قسط :31۔۔


میرے قلم سے سیاسی اظہارِ خیال کی آزادی چھین لی گئی تھی، لیکن اب مجھے ایک ایسا پلیٹ فارم مل گیا جہاں سے میں بے حسی اور بے ضمیری کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ملک دشمنوں کے اس ان پڑھ اور بے شعور طبقے کے خلاف جنگ لڑسکتا تھا جو قومی کردار کی تشکیل میں اہم ترین کردار کرنے والے ذریعہ ابلاغ پر قابض تھا۔ میں یہ جنگ ہار گیا کیوں کہ فلمی صنعت نے رونامہ مشرق میں فلمی اشتہارات کی اشاعت بند کر دی۔ میرے خلاف صنعت کو حنیف رامے کے روزنامہ مساوات کی پوری حمایت حاصل تھی اور روزنامہ مشرق پانچ لاکھ روپے کا خسارہ برداشت کرنے کے بعد فلم انڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن اور فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے مطالبات ماننے پر مجبور ہوگیا۔ ایک مطالبہ یہ تھا مصّور سے الگ کر دیا جائے اور دوسرا مطالبہ یہ کہ مصور اپنے اداریئے میں پوری فلم انڈسٹری سے معافی مانگے۔ عنائت اللہ مرحوم میرے استاد بھی تھے، محسن بھی اور قدردان بھی۔ انہیں یہ بات گوارہ نہیں تھی کہ میں مصّور سے الگ ہو جاو¿ں۔ چنانچہ انہوں نے یہ راستہ نکالا کہ ایڈیٹر کوئی اور مقرر کر دیا جائے اور میں بدستور منیجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کر تا رہوں۔ میںنے اس تجویز کو مسترد کر کے خود ہی مصور سے مکمل علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں معاشی تحفظ کے لئے ان اصولوں کی قربانی دینے کے لئے تیار نہیں تھا جن کی خاطر میں نے پہلے کوہستان اور پھر مشرق سے علیحدگی اختیار کی تھی۔
میں نے اپنے بارے میں یہ سب کچھ اس لئے لکھا ہے کہ بنیادی طور پر یہ کہانی بھٹو کی نہیں میرے اپنے احساسات کی ہے۔ ان احساسات کی جو بھٹو کے ساتھ وابستہ تھے تو وہ میرے نظر میں ملتِ پاک کا نجات دہندہ تھا اور جب بھٹو کے خلاف ہوئے تو وہ میرے نظر میں تاریخِ پاک کا سب سے بڑا مجرم بن گیا میں نے بھٹو کے بارے میں جو کچھ بھی لکھا ہے اپنے احساسات اور اپنے شعور کی روشنی میں لکھا ہے۔ ممکن ہے کہ بے شمار لوگ میرے احساسات اور میرے شعور سے اتفاق نہ کرتے ہوں، لیکن ایسے لوگوں کو یہ ضرور بتانا چاہتا ہوں کہ مجھ جیسے انتہا پسندوں کی سیاسی وفاداریاں مصلحتوں اور مفادات کے تابع نہیں ہوتیں۔ شعور اور احساسات کے تابع ہوتی ہیں۔ جب میرے شعوراور احساسات کے تابع ہوتی ہیں۔ جب میرے شعور اور میرے احساسات کی آنکھ بھٹو کے جھوٹ کو سچ سمجھ رہی تھی تو میں اسے اپنا ہیرو مانتا تھا، لیکن جب میرے شعور اور میرے احساسات کی آنکھ نے آبروئے وطن کو لٹتے دیکھا، تقدیسِ پاکستان کی دھجیاں بکھرتے دیکھیں تو مجھے پتہ چلا کہ جو خنجر میرے خوابوں کی پشت میں گھونپا گیا ہے اسے پکڑنے والا ہاتھ میرے ”ہیرو“ کا ہے۔ میں اپنے خوابوں کے قاتل کو کسیے معاف کردوں؟۔
O O
میں اس دن کا ذکر کر رہا تھا کہ جب ایئر مارشل اصغر خان لاہور پہنچ کر قومی سیاست میں عملی حصّہ لینے کا اعلان کرنے والے تھے۔ صبح کا وقت تھا۔ میں مشرق کے منیجنگ ڈائریکٹر عنایت اللہ مرحوم سے ملاقات کے لئے ان کی کوٹھی پر گیا۔ وہاں مولانا کوثر نیازی بھی تھا۔ جس سے میرا تعارف کوہستان کے زمانے سے تھا۔ کچھ اور لوگ بھی تھے جنہیں میں قابلِ ذکر نہیں سمجھتا۔
اس سوال پر گفتگو ہو رہی تھی کہ قومی سیاست میں اصغر خان کی آمد سے حالات کیا رخ اختیار کریں گے۔ کوثر نیازی کا خیال تھا کہ بھٹو جیسا شاطر اور چالباز آدمی اگر ایوب خان کا کچھ نہیں بگاڑسکا تو اصغر خان جیسے سیدھے سادے شریف اور اصول پسند آدمی سے ایوب خان کو کیا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ عنایت اللہ مرحوم خود بہت کم باتیں کیا کرتے تھے اور دوسروں کی باتیں زیادہ سنا کرتے تھے۔ وہ کافی دیر تک کوثر نیازی کے دلائل سنتے رہے ۔ پھر اچانک انہوں نے کہا۔
” آپ سیاست دان ہیں مولانا! لیکن میں اس معاملے کو صرف ایک اخبار نویس کی حیثیت سے دیکھ رہا ہوں۔ اصغر خان کی آمد سے اخبارات میں تو دلچسپی پیدا ہو جائے گی۔“
” اور میرے خیال میں بھٹو کی تحریک کو بھی تقویت ملے گی۔“ میں بول پڑا۔
” اکبر صاحب بھٹو کے بڑے شیدائی ہیں۔ مولانا۔ آپ ان سے بحث کریں۔“ عنایت اللہ مرحوم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” میں نہیں مانتا کہ اکبر صاحب بھٹو جیسے دشمنِ دین کے شیدائی ہوں گے بھٹو سوشلزم کا پرچار کر کے دین کے خلاف ایک فتنہ کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ اسلام سے محبت کرنے والے تمام لوگوں کو اس فتنے کا سدِ باب کرنے میں ایوب خان کی حمایت کرنی چاہیئے۔“ کوثر نیازی نے خالص ناصحانہ انداز میں کہا۔
” بھٹو اسلام کی بھی تو بات کرتا ہے مولانا“۔ میں نے کہا۔
” صرف لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لئے۔“کوثر نیازی نے جواب دیا۔” لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوگا۔“
(جاری ہے….)

Scroll To Top