یوم پیدائش 30نومبر1967 یوم وفات ؟؟؟2018

aaj-ki-baat-new-21-april

پاکستان پیپلزپارٹی کا 50واں یوم تاسیس 30نومبر 2017ءکو تھا جسے رسمی طور پر 5دسمبر کو منایا گیا۔۔۔ اس موقع پر اسلام آباد میں ایک جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا جس کا مقصد اہل پنجاب کو یہ تاثر دینا تھا کہ بھٹو مرحوم کی پارٹی اپنے حقیقی قلعے پنجاب میں آج بھی سانسیں لے رہی ہے۔۔۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پی پی پی ہنوز سانسیں لے رہی ہے۔۔۔ اور اگراس کے موجودہ قائد جناب آصف علی زرداری نے سچ مچ اس کی جان چھوڑنے اور اس کا مستقبل زیڈ اے بھٹو کے نواسے اور بے نظیر بھٹو کے فرزند بلاول کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرلیاہے تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ آنے والے دور کی سیاست میں پاکستان تحریک انصاف کی حقیقی حریف پاکستان مسلم لیگ (ن)کی بجائے پاکستان پیپلزپارٹی ہو۔۔۔
جہاں تک پاکستان مسلم لیگ (ن)کا تعلق ہے اس کا وجود نوازشریف کی سیاسی زندگی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔۔۔ اور چونکہ نوازرشیف کی سیاسی زندگی بڑے ہی گہرے اور بپھرے ہوئے پانیوں میں گھری ہوئی کشتی کی طرح ہچکولے کھا رہی ہے اس لئے اس بات کا امکان روز بروز کم ہوتا جارہا ہے کہ غیب سے مریم نوازشریف کے لئے کوئی اچھی خبر آئے۔۔۔ اچھی خبر آنے کی ایک صورت اب بھی موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ جناب آصف علی زرداری کے سینے میں جمہوریت کو بچانے کا جذبہ طوفان بن کر اٹھے اور وہ جاتی امراءکی طرف رخ کرکے کہیں۔۔۔ ” مت ہو میرے بھائی اداس۔۔۔ میں آرہا ہوں۔۔۔“
جو لوگ زرداری صاحب کو جانتے ہیں ان کے نزدیک یہ بات ناممکنات میں نہیں۔۔۔ اور اگر ایسا ہوا تو بلاول بھٹو کے سامنے اس کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں رہے گا کہ اپنی والدہ کے پہلو میں ایک اورمقبرے کا اہتمام کریں جس کے کتبے پر لکھا ہو۔۔۔
یوم پیدائش 30نومبر1967
یوم وفات ؟؟؟2018

Scroll To Top