آپریشن کی منصوبہ بندی وزیر قانون کی نگرانی میں ہوئی: باقر نجفی رپورٹ

  • ہائیکورٹ کے حکم پر پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن رپورٹ پبلک کر دی
    عوام پر فائرنگ کس کے حکم پر ہوئی ؟ جواب دینے کو کوئی پولیس افسر تیار نہیں ، صاف نظر آتا ہے تمام اہلکار ٹربیونل سے تعاون نہ کرنے پر متفق ہیں،پولیس افسران نے قتل عام میں کھل کر حصہ لیا جس پر غصے سے بھرے مظاہرین نے پولیس پر پتھراو¿ کیا ، رپورٹ کے اقتباسات
  • ٹربیونل کو سیکشن 11 پنجاب ٹربیونل آرڈننس 1959 کا اختیار نہ دینا نامناسب تھا جو اس بات کا غماضی ہے کہ حقائق کو چھپانے کی کوشش کی گئی اور حکومت سچ سامنے لانے سے گریزاں ہے. سانحے سے پہلے ڈی سی او اور آئی جی کی تبدیلی سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں

باقر نجفی رپورٹ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر سانحہ ماڈل ٹاو¿ن پر باقرنجفی کمیشن کی رپورٹ جاری کردی ہے جس میں انسانی جانوں کے ضیاع پر منتمج ہونے والے سانحے کے ذمہ داروں کا تعین کیا گیا ہے جس کے لیے پنجاب حکومت ٹریبونلز آرڈینینس کے سیکشن 3 اور 5 کے تحت جسٹس باقر نجفی پر مشتمل ایک رکنی ٹریبونل قائم کی گئی تھی ایک رکنی ٹریبونل کو 11 معاون اہلکاروں کی خدمات حاصل تھیں.باقر نجفی کمیشن رپورٹ میں میڈیکل آفیسرز، پولیس افسران و اہلکار، عینی شاہدین کے بیانات، مختلف میڈیا کی جانب سے واقعے کی ویڈیوز و تصاویرز اور مختلف ایجنسیوں کی رپورٹ بھی منسلک ہے جب کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ کا بیان حلفی بھی رپورٹ کا حصہ ہے. رپورٹ کے مطابق آپریشن کی منصوبہ بندی وزیرقانون کی نگرانی میں ہوئی اور اگر حکومت چاہتی تو سانحہ سے بچا جا سکتا تھا۔ شہباز شریف کے 17 جون 2014 کو اپنے نمائندے کی طرف سے جمع کرائے گئے بیان حلفی میں کہا ہے کہ انہیں ٹیلی ویڑن کے ذریعہ پولیس اور منہاج القرآن کے کارکنان کے درمیان تصادم کا علم ہوا جس پر انہوں نے اپنے سیکرٹری ڈاکٹر سید توقیر شاہ سے معلومات لیں تو سیکرٹیری توقیر شاہ نے بتایا کہ تجاوزات کے خلاف پریشن کا فیصلہ رانا ثنااللہ نے کیا تھا۔ جس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے آپریشن کو روکنے کا حکم دیا.صوبائی وزیر قانون نے اپنے بیان میں کہا کہ 16 جون 2014 کو صوبے میں امن وامان کے حوالے سے بلائے گئے اجلاس میں ڈاکٹر طاہر القادری کے متوقع لانگ مارچ کے حوالے سے امور بھی زیر بحث آئے جس میں مارچ کی گذرگاہوں سے غیر قانونی تجاوزات اور رکاوٹوں کے خاتمے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم آپریشن کے دوران فائرنگ کے اختیارات نہیں دیئے گئے تھے.سانحہ ماڈل ٹاو¿ن پاکستان کی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے جس کا شاخسانہ وہ اجلاس ہے جس میں تجاوزات ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا لیکن اس عمل کے لیے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے کوئی قانونی رائے نہیں لی گئی.وزیر اعلیٰ پنجاب صبح ساڑھے 10 بجے ماڈل ٹاو¿ن پہنچے جہاں انہیں بتایا گیا کہ صورتحال نازک ہے جس میں کئی شہری جاں بحق اور متعدد پولیس اہلکارزخمی ہو گئے ہیں جس پر شہباز شریف نے ٹربیونل بنا کر معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا.ماڈل ٹاو¿ن میں عوام پر فائرنگ کس کے حکم پر ہوئی ؟ اس کا جواب دینے کو کوئی پولیس افسر تیار نہیں جس سے پولیس کے تعاون کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور صاف نظر آتا ہے تمام اہلکار ٹربیونل سے تعاون نہ کرنے پر متفق ہیں.ٹربیونل کو سیکشن 11 پنجاب ٹربیونل آرڈننس 1959 کا اختیار نہ دینا نامناسب تھا اور ٹربیونل کو اختیارات نہ دینے سے لگتا ہے کہ حقائق کو چھپانے کی کوشش کی گئی جس سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ حکومت سچ کو سامنے لانے سے گریزاں ہے.کمیشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سانحے سے پہلے ڈی سی او اور آئی جی کی تبدیلی سے کئی سوال جنم لیتے ہیں جب کہ یہ بھی ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ شہبازشریف نے آپریشن روکنے احکامات نہیں دیے.رانا ثناء اللہ اور ہوم سیکرٹیری نے اپنے بیان میں آپریشن روکنے سے متعلق نہیں کہا جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہرکوئی ایک دوسرے کو قانون سے بچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے.رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حقائق بتاتے ہیں کہ پولیس افسران نے قتل عام میں کھل کر حصہ لیا جس پر غصے سے بھرے مظاہرین نے پولیس پر پتھراو¿ کیا جس پر حکام کی لاپروائی سے ان کی معصومیت پرشک ہوتا ہے.فائرنگ اور تشدد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے پولیس حکام نے وہ ہی کیا جس کا حکم دیا گیا جب کہ حکومت پنجاب نےعدالتی احکامات کے باوجود بیرئز ہٹانے کیلئے ایڈووکیٹ جنرل سے رائے نہیں لی گئی.۔۔۔دریں اثنا ءجسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ اس رپورٹ کو 30 روز میں شائع کیا جائے۔لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد کر دی جبکہ سانحہ ماڈل ٹاو¿ن انکوائری رپورٹ فریقین کو فراہم کرنے کا حکم جاری کیا۔پنجاب حکومت کی جانب سے خواجہ حارث نے اپیل پر موقف اختیار کیا تھا کہ جسٹس علی باقر نجفی نے سانحہ ماڈل ٹاون سے متعلق رپورٹ پبلک کرنے کا فیصلہ خلاف قانون دیا اور اس حوالے سے پنجاب حکومت کو اپنے دلائل دینے کا موقع ہی نہیں فراہم کیا گیا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاون سے متعلق پنجاب حکومت کی درخواست پر ہی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا تاہم انکوائری ٹریبیونلز ایکٹ کے تحت کسی جوڈیشل انکوائری کو منظر عام پر لانا یا نہ لانے کا اختیار حکومت کے پاس ہے۔خواجہ حارث نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاون کے اصل حقائق سے آگاہی کے لیے حکومت پنجاب نے جوڈیشل انکوائری کروائی تھی اور حکومت پنجاب اس انکوائری رپورٹ کو منظر عام پر لانا نہیں چاہتی لہٰذا عدالت اس رپورٹ کو پبلک کرنے کا حکم نہیں دے سکتی۔پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کا انکوائری رپورٹ پبلک نہ کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور رپورٹ فراہم نہ کرنا معلومات تک رسائی کے قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ متاثرین جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف آپریشن کا حکم کس نے دیا جبکہ حکومت جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظر عام پر نہ لا کر ملزمان کو تحفظ فراہم کرنا چاہتی ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ حکومتی انٹرا کورٹ اپیل توہین عدالت کی بنیاد پر ہی خارج کر دی جائے، پنجاب حکومت کا انکوائری رپورٹ پبلک نہ کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔عدالتی حکم نامے کے مطابق انسدادِ دہشت گردی عدالت میں اس وقت سانحہ ماڈل ٹاو¿ن پر جو ٹرائل چل رہا ہے اس پر مذکورہ فیصلہ اثر انداز نہیں ہوگا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت کے پاس اختیار تھا کہ وہ سانحہ ماڈل ٹاون کی انکوائری نہ کرواتی لیکن اگر حکومت نے ہائی کورٹ کے جج سے انکوائری کروا لی تو اس کی رپورٹ پبلک کرنا بھی ضروری ہے۔عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ انکوائری کے بعد حکومت یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ یہ رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی جا سکتی اگر کسی سانحے سے متعلق انکوائری کی گئی ہے تو اس کو پبلک کرنے سے ہی لوگوں کو تسلی ہوگی۔

Scroll To Top