تھوڑا بہت استثنیٰ چوروں اور ڈاکوﺅں کو بھی ملنا چاہئے 05-07-2012

kal-ki-baat


دو روز قبل چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ” دوہری شہریت“ کے کیس میں یہ ریمارک دیا تھا کہ اگر برطانوی شہریت(بھی) رکھنے والے کسی پاکستانی کو قومی اسمبلی کی رکنیت کا اہل مان لیا جائے تو پھر کسی بھی مرحلے پر کوئی بھی برطانوی ہمارا وزیراعظم بن سکتا ہے۔
اس ریمارک کے جواب میں ہماری ” عوامی جمہوری اور مفاہمتی “ حکومت نے فیصلہ کرلیا ہے کہ فوری طور پر قانون سازی کے ذریعے دوہری شہریت رکھنے والوں کو آئینی تحفظ دے دیا جائے یعنی وہ نہ صرف یہ کہ پارلیمنٹ کے رکن بننے کی اہلیت رکھیں بلکہ یہ بھی کہ وزیراعظم بھی بن سکیں ۔ اس ضمن میں وفاقی کابینہ ایک ایسے بل کی منظوری دے چکی ہے جس میں وزراء` وزرائے اعلیٰ اور وزرائے اعظم کو توہینِ عدالت کے کیسوں میں استثنیٰ کی ڈھال فراہم کرنے کی شق بھی شامل ہے۔
ایک صاحبِ رائے نے اس خبر پر مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ ” کتنا ہی اچھا ہو کہ وزراء` وزرائے اعلیٰ اور وزرائے اعظم کو دو چار قتل ` دو چار چوریاں ` دو چار ڈاکے اور دو چار دیگر (من پسند)جرائم بھی معاف کردیئے جائیں۔ بہتوں کا بھلا ہوجائے گا۔“
فی الحال ہماری حکومت بہتوں کا نہیں صرف اپنا بھلا سوچ رہی ہے۔ مسئلہ صرف دوہری شہریت کا نہیں رحمان ملک کے مستقبل کا بھی ہے۔ اگر دوہری شہریت رکھنے والوں پر پارلیمنٹ کے دروازے بند ہوگئے تو رحمان ملک صاحب نے جو قربانی برطانوی شہریت ترک کرکے دی ہے کیا وہ رائیگاں نہیں جائے گی ۔؟
شاید پاکستان دنیا کا واحد ملک ہو جس کے حکمران اپنے مخصوص مفادات کے تحفظ کے لئے قانون سازی کراتے ہیں۔
لیکن سوال اس ضمن میں یہ اٹھتا ہے کہ ” کیا سپریم کورٹ آئین کی روح سے متصادم کسی بھی قانون کو ” خندہ پیشانی “ سے قبول کرلے گی۔؟“

Scroll To Top