اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے نجکاری پریقین رکھتے ہےں، پرویز خٹک

  • اعداد و شمار کی جادو گری کی بنیاد پر کثیر لاگت منصوبے منظور کرانے اور قومی خزانے پر بوجھ ڈالنے پر یقین نہیں رکھتے

پرویز خٹک

پشاور( الاخبار نیوز)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے صوبے میں تیل و گیس کی تلاش کے ساتھ ساتھ توانائی اور آمدن کے وسائل بڑھانے کے سلسلے میں صوبائی آئل اینڈ گیس کمپنی (کے پی او جی سی ایل ) کی واضح پیشر فت اور کامیابیوں کو سراہتے ہوئے اس کی ناگزیر مالی ضروریات کی تکمیل کیلئے فوری اقداما ت کا یقین دلایا ہے تاہم واضح کیا ہے کہ اوجی سی ایل سمیت تمام اداروں کو پیداواری منافع بخش کمپنیوں کے طور پر کام کرنا ہو گا جس میں صوبائی حکومت بھر پور معاونت اور سرپرستی کرے گی ۔ وہ وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں خیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی کی کارکردگی سے متعلق اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میںکمپنی کے چیف ایگزیکٹیو رضی الدین، سیکرٹری خزانہ شکیل قادر خان، سیکرٹری معدنیات محمد شاہ، قائمقام سیکرٹری توانائی سید زین اﷲ شاہ ، ایس ایس یو کے سربراہ صاحبزادہ سعید،وزیراعلیٰ کے سپیشل سیکرٹری اختر سعید ترک، وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کے چیئرمین الحاج دلروز خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی ۔وزیراعلیٰ نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ او جی سی ایل اپنے محدود وسائل کے باوجود گزشتہ چار برسوں کے قلیل عرصے میں کارکردگی اور اہداف کے حصول کے حوالے سے نہ صرف دوسرے تمام صوبوں بلکہ تیل و گیس کے وفاقی ادارے او جی ڈی سی ایل سے بھی سبقت لے چکی ہے حتیٰ کہ تیل و گیس کے سات نئے کنوﺅںاور بلاکس کی دریافت کے ساتھ ساتھ ماضی میں غیر فعال 18 بلاکس کو بھی مکمل طور پر فعال بنایا جا چکا ہے او ر ماضی کا صرف ایک بلاک مختلف وجوہ کی بناءپر غیر فعال ہے جسے فعال اور پیداواری بنانے کیلئے بھی کوششیں جاری ہیں ۔اسی طرح کمپنی نے تیل وگیس کی تلاش اور مختلف بلاکس میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے ضمن میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور درجن بھر بین الاقوامی کمپنیاں تیل و گیس کی تلاش کی سرگرمیوں میں اوجی سی ایل کی پارٹنر بن چکی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کمپنی کی فوری مالی ضرورت پوری کرنے کیلئے درکار 70 کروڑ روپے کی اسی ماہ فراہمی کی ہدایت کی تاہم واضح کیا کہ کمپنی کیلئے رواں مالی سال میں مختص پانچ ارب روپے کی مکمل فراہمی اسی صورت میں یقینی بنائی جائے گی جب یہ اپنی پیداواری صلاحیت اور آمدن و منافع کے ذرائع میں نمایاں اضافہ کرے گا انہوںنے کہاکہ حکومت ادارے چلانے اور انہیں سفید ہاتھی بنا کر قومی وسائل ضائع کرنے کی بجائے نجکاری پریقین رکھتی ہے کیونکہ نجی شعبے میں مہیا کردہ سہولیات کی کارکردگی اور معیار تسلی بخش ہو تا ہے جبکہ حکومت کاکام صرف نگرانی تک محدود ہوتا ہے اوریہی ہماری صوبائی حکومت کا طریقہ کار بھی ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہماری صوبائی حکومت سرکاری محکموں کی طرف سے خوشنماسکیموں اور اعداد و شمار کی جادو گری کی بنیاد پر کثیر لاگت کے منصوبے منظور کرانے اور قومی خزانے پر بوجھ ڈالنے پر یقین نہیں رکھتی اوریہی وجہ ہے کہ اداروں کو سرکاری عمل داری سے نکال کر خود مختار بنایا جارہا ہے تاکہ اُن کی پیداواری استعداد میں اضافہ ہو۔انہوںنے او جی سی ایل کے زیر اہتمام تین آئل ریفائنریوں ، جدید ٹیکنکل لیبارٹری اور فرٹیلائزر پلانٹس کے قیام سے متعلق پیش رفت پر بھی اطمینان کا اظہار کیا جبکہ صوبے کے مختلف علاقوں میں قدرتی طور پر نکلنے والی گیس کے 24 مقامات کی نشاندہی کے علاوہ ان میںبونیر اور متنی پشاورکے قریب تین مقامات کی گیس سے استفادے پر کام شروع کرنے کے سلسلے میں صوبائی حکومت کی طرف سے ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا ۔

Scroll To Top