قانون کی حکمرانی، امن و امان وقت کی اہم ضرورت ہے، احسن اقبال

  • سی پیک صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی معیشت کے لیے اہم منصوبہ ہے، پائیدار ترقی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب

اسلام آباد۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں

اسلام آباد (آن لائن ) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی اورامن وقت کہ اہم ضرورت ہے جس کے لیے ترجیح بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک جیسے بڑے ترقیاتی منصوبے پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے امن اور پائیدار ترقی کا باعث بنیں گے۔ اس امر کا اظہار انہوں نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے تحت تین روزہ 20ویں پائیدار ترقی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سی پیک کوئی سازش نہیں بلکہ یہ خطے کو باہم مربوط کرنے کا ذریعہ ہے اور یہ خطے کی معیشت کے بہترین مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت اب ک نیشنل گرڈ میں 7000میگا واٹ بجلی کا اضافہ کر چکی ہے اور آئیندہ چھ ماہ کے دوران مزید 300میگا واٹ کا اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی پیداوار میں اضافے سے ملک میں معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سیاسی کی بجائے ایک معاشی قوم کے طور پر ابھرنے کی ضرورت ہے۔احسن اقبال نے دعوی کیا کہ اس وقت ہماری شرح ترقی 5.3%سالانہ ہے جو جلد ہی بڑھ کر 6%سے تجاوز کر جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کئی طرح کے دباو¿ کا سامنا رہا تاہم بین الاقوامی برداری ہماری معاشی ترقی سے مرعلق اعتماد کا اظہار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا صنعتوں کی حیثیت اب بین الاقوامی ہو گئی ہے اور ہمیں اس پہلو کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح سرمایہ کاری کی نوعیت بھی اب عالمی ہو چکی ہے اور ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ اب معلومات پر پہرے نہیں لگائے جا سکتے۔ قبل ازیں ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد قیوم سلہری نے اپنی گفتگو میں کہا کہ آج پورا جنوبی ایشیا ایک جمہوری خطہ ہے اور یہاں ماضی کی جامد معیشت کی جگہ انہتائی متحرک معیشت لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اختیار عوام کا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ ان کے حکمران کون ہونے چاہئیں اور انہیں کس طرح کے طرز حکمرانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم غربت میں خاطر خواہ حد تک کمی لانے میں کامیاب رہے ہیں مگر ساختی سطح پر عدم مساوات اب بھی موجود ہے اور معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ امیر اور غریب کے درمیان تفاوت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ سال 2000کے بعد پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار میں کمی واقع ہوئی ہے جو اس سے قبل بھارت سے زیادہ تھی اور اب بنگلہ دیش بھی پاکستان کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پالیسیوں کے درست نفاذ کی ضرورت ہے اور اچھی حکمرانی اور شمولیتی ادارے پاکستان میں معاشی ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سابق سفیر شفقت کاکا خیل نے قبل ازیں کانفرنس میں شرکت کرنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہا جبکہ اس موقع پر ایس ڈی پی آئی کی 25ویں سالگرہ سے متعلق دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔ اس موقع پر ایس ڈی پی آئی کی کئی مطبوعات کی رونمائی بھی کی گئی۔ ©’پائیدار ترقی میں نجی شعبے کے کردار کی تقویت‘ کے زیر عنوان ایک دوسری نشست نیسلے پاکستان سید یاور علی، شکیل رامے، مائیکل ولیم سن ، شکیل احمد اور زبیر طفیل نے معاشی ترقی میں نجی شعبے کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ’ایس ایم ای سیکٹر کو درپیش چیلنجز© کے موضوع پر منعقدہ نشست سے اظہار خیال کرتے ہوئے مقررین جن میں میر سلمان علی، ڈاکٹر عشرت حسین اور ڈاکٹر ڈینیل پون نے ترقی کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ایس ایم ای مجموعی معاشی ترقی میں اہم کردار کی حامل ہیں۔ ’عورتوں کی انصاف تک رسائی: عورتوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والی ایک نشست کے دوران یو این سیڈا کمیٹی کی رکن بندانہ رانا، خاور ممتاز، پرناب ادھیکاری، نرگس اسد اور ڈاکٹر ملیحہ حسین نے زور دیا کہ کسی بھی معاشرے کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے عورتوں کی حصول انصاف تک رسائی ناگزیر ہے۔ ’جنوبی ایشیا کی سیاسی معیشت‘ کے حوالے سے ایک الگ نشست کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ پاکستان کو نیشنل سیکورٹی کی ریاست بنا کر قوم سازی کے راستے سے ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ادب اور تاریخ میں تحریف کی گئی جس کو درست طور پر پیش کرنا ضروری ہے۔ ممتاز صحافی آئی اے رحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جنوب ایشیائی ممالک میں معاشی استحکام کے لیے ترقی پسندانہ سوچ کو اپنانا ہو گا۔ گفتگو کا محور ممتاز محقق احمد سلیم کی کتاب ’پاکستان کی سیاسی تاریخ‘ کو بنایا گیا تھا۔ ©جنوبی اور وسطی ایشیا کا ارتباط‘ کے زیر عنوان ایک اور نشست کے دوران گفتگو کرتے ہوئے منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چئیرمین سرتاج عزیز نے کہا کہ خطے کو باہمی طور پر منسلک کرنے کا انحصار مستقبل میں افغانستان میں قیام امن پر ہو گا۔ انہوں نے کہا پاکستان کے تعاون کے بغیر عالمی برادی یہ مقصد حاصل نہٰں کر سکتی جبکہ پاکستان اس ضمن میں ہر ممکن کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی بدولت پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے صفدر پرویز، ژیانگ ننگ اور جابس گروپ کے عمران شوکت نے پاکستان کی معاشی استعداد اور علاقائی تعاون کے مختلف پہلووں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

Scroll To Top