مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘۔

jhootمصنف۔۔ غلام اکبر
06-12-2017
قسط :30۔۔۔


اشارہ پانے کے بعد میدان ِ عمل میں کودنے کا اس سے بہتر موقع بھٹو کیا مل سکتا تھا۔؟ ایوبی آمریت کے خلاف اعلانِ جنگ کرنے کے لئے بھٹو نے پشاور کا شہر منتخب کیا۔ جہاں اس کا استقبال اتنے بڑے پیمانے پر ہوا کہ ایوب خان کی حکومت ایک دم بوکھلا اٹھی۔ بھٹو نے آناً فاناً پشاور سے کراچی تک آگ لگانے کا پروگرام بنایا تھا۔ مگر اسے یہ بھی اندازہ تھا کہ ایوب خان اسے اس پروگرام پر عملدرآمد کرنے کا زیادہ موقع نہیں دیں گے۔ اس کا یہ اندازہ غلط نہیں تھا۔ ایوب خان کی انتظامیہ اس کے اندازے سے پہلے حرکت میں آگئی۔ بھٹو اعلان کر چکا تھا کہ وہ لاہور پہنچ کر اعلانِ تاشقند کے راز پر سے پردہ اٹھائے گا۔ یہ محض ایک سٹنٹ تھا جو کامیاب ثابت ہوا۔ بھٹو کو لاہور پہنچنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا اور یوں پیپلز پارٹی کا چیئرمین عوام میں یہ تاثر پیدا کرنے میں کامیاب ہوگیا کہ اسے اعلانِ تاشقند کے راز کو افشا کرنے سے روکنے کے لئے گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ایوب خان نے واقعی تاشقند میں کوئی ایسا سودا کیا تھا جس کا بھٹو کو علم تھا اور وہ ڈرتے تھے کہ کہیں ان کا سابق وزیر خارجہ سچ مچ عوام کے سامنے ان کا بھانڈا نہ پھوڑ دے ایوب خان نے بھٹو کو گرفتار کرنے سے پہلے اس پہلو پر یقینا غور نہیں کیا ہوگا۔ ان کا مقصد تو فتنے کو ابھرنے کا موقع دینے سے پہلے کچل کر رکھ دینا تھا۔ بھٹو کی گرفتاری کے بعد ایک دم جو سناٹا طاری ہوا اور پیپلز پارٹی کے باقی لیڈر جس سراسمیگی کا شکار ہو کر خاموشی سے بیٹھ گئے اس سے یہی اندازہ ہوتا تھا کہ ایوب خان کی حکمتِ عملی کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ تحریک چلانے کے لئے لیڈر کی ضرورت تھی اور لیڈر کو ایوب خان نے پکڑ لیا تھا۔ پیپلز پارٹی میں کوئی ایسی شخصیت نہیں تھی جو لیڈر شپ کا خلا پُر کر کے تحریک کو آگے بڑھا سکے۔ لیکن بھٹو نے اتنی بڑی بازی بغیر کسی یقین دہانی کے نہیں لگائی تھی۔ اس نے ایک ایسے شخص سے عوامی تحریک کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لینے کا وعدہ لیا ہوا تھا جس پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے ایوبی انتظامیہ کو دس بار نتائج کے بارے میں سوچنا پڑتا۔ یہ شخص فضائیہ کا سربراہ رہ چکا تھا اور اسے پاکستا ن کی فضائی قوت کا معمار تصور کیا جاتا تھا۔ اکتوبر۸۵۹۱ءکے فوجی انقلاب کے بعد اس نے کچھ عرصے تک ڈپٹی مارشل لاءایڈمنسٹریٹر کے فرائض بھی انجام دیئے تھے۔ اس نے پی آئی اے کی سربراہی بھی کی تھی اور اسی عہدے سے ریٹائر ہوا تھا۔ ستمبر ۵۶۹۱ءکی جنگ میں اس نے نہایت اہم کردار ادا کیا تھا اور اس کی پوری زندگی فرض شناسی ، دیانت داری اخلاقی قوت اور حب الوطنی کی منہ بولتی تصویر تھی اس کے دامن پر کوئی ایسا داغ نہیں تھا جس پر انگلی اٹھائی جا سکے۔ ملک کے چند اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود اس نے اپنے کردار کو بے داغ رکھا تھا۔ اسی وجہ سے اس کے بدترین دشمن بھی اسے عزت کی نگاہ سے دیکھنے پر مجبور تھے۔ بھٹو کو مقاصد کی تکمیل کے لئے ایسے ہی شخص کی ضرورت تھی جو آہنی قوتِ ارادی کے ساتھ ایوبی آمریت کو للکار نے کی صلاحیت رکھتا ہو اور ایوبی انتظامیہ جس پر آسانی کے ساتھ ہاتھ نہ ڈال سکے۔ یہ بھٹو کی خوش قسمتی تھی کہ اصغر خان جمہوری حقوق کی بحالی اور ملک میں منصفانہ سیاسی نظام کے قیام کی خاطر اس کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوگئے تھے اور یہ قوم کی بدقسمتی تھی کہ اس وقت اصغر خان کے اپنے کوئی سیاسی عزائم نہیں تھے وہ صرف ایوبی آمریت کی بنیادیں ہلانے اور ملک میں حقیقی جمہوریت کے لئے راستہ ہموار کرنے کے محدود مقصد کی خاطر میدانِ سیاست میں کودے تھے۔ اگر اس وقت انہیں اندازہ ہوتا کہ جو محدود مقصد انہیں میدانِ سیاست میں لایا ہے اس کا حصُول ملک وملت پر تباہی کے دروازے کھول دے گا تو وہ بھٹو کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنسنے کی بجائے کوئی ایسا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے کہ قوم کو ایوبی آمریت سے بھی نجات ہو جاتی اور ملک ایک ایسے سازشی دماغ کا نشانہ بننے سے بھی بچ جاتا جس میں کرسی اقتدار تک پہنچنے کا بڑا ہی خوفناک منصوبہ پرورش پا رہا تھا۔
لیکن قدرت کو یہی منظور تھا کہ اصغر خان کی اصول پسندی بھٹو کو ہوسِ اقتدار کی تکمیل کا باعث بنے۔
مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب خبر آئی کہ ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان بھٹو کی گرفتاری سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لئے ایبٹ آباد سے لاہور تشریف لا رہے ہیں۔
میں پریس ٹرسٹ کی ملازمت ترک کرنے کے بعد روزنامہ مشرق کے منیجنگ ڈائریکٹر عنائت اللہ مرحوم کی زیر سرپرستی ایک آزاد ادارہ قائم کر چکا تھا جس کا مقصد اعلیٰ معیار کے ایسے جرائد کا سلسلہ شروع کرنا تھا جو زندگی کے مختلف شعبوں کی بھرپور عکاسی کریں اور معنوی اور صوری اعتبار سے میعاری صحافت کا چیلنج قبول کریں ابتداءمیں ”ٹائم “اور ” نیوز ویک“ کی طرز پر ایک ہمہ گیر ویکلی شائع کرنے کا پروگرام تھا ، لیکن عنائت اللہ مرحوم کی توجہ میں نے ایوبی آمریت کی ان پابندیوں کی طرف مبذول کرائی جن کی موجودگی میں دیانت دارانہ سیاسی صحافت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ چنانچہ فیصلہ کیا گیا کہ جرائد کے مجوزہ سلسلے کا آغاز ایک ایسے ہفت روزہ سے کیا جائے جو زندگی کے تفریح شعبے میں تعمیری کردار ادا کرے۔ اس ہفت روزہ کا نام مصور تھا۔ وہی مصور جس نے ۶ ستمبر۸۶۹۱ءسے ۰۳ اپریل ۱۷۹۱ءتک فلمی صنعت میں پائے جانے والے تخریبی اورمنفی رحجانات کے خلاف زبردست جنگ لڑی۔
(جاری ہے۔۔۔۔۔)

Scroll To Top