ڈاکٹر رتھ فاو یادگاری ٹکٹ

zaheer-babar-logo
یہ امر خوش آئند ہے کہ حکومت نے ڈاکڑ رتھ فاو کی خدمات کے اعتراف میں یادگاری ٹکٹ جاری کیا ہے۔ ڈاکڑ رتھ فار کی تصویر کے ساتھ آٹھ روپے مالیت کا ٹکٹ جاری ہونے کی تقریب مرحومہ کے ادارے میری ایڈیلیڈ لیورسی سینٹر کراچی میں منعقد کی گی ۔گذشتہ روز ہونے والی اس تقریب کے ممہان خصوصی جرمن کونسل جنرل رائنرشمیڈجن تھے۔
وطن عزیز میں ڈاکڑ رتھ فاو کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ یہ امر باعث اطمنیان ہے کہ ڈاکڑ رتھ فاو کے انتقال کے باوجود سرکاری سطح پر ڈاکڑ رتھ فاو کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ جاری وساری ہے۔ملک میں جذام کے خاتمہ کے لیے ڈاکڑ رتھ فاو کی خدمات کو عوامی اور حکومتی سطح پر سراہا جانا کم اہمیت کا حامل نہیں۔ یقینا یہ پیغام ہے کہ پاکستانی بطور قوم اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کیا کرتے۔ ملک میں جذام کے خاتمہ کے لیے ڈاکڑ رتھ فاو کا مشن اب بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری وساری ہے۔ ادھر اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے مطابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ڈاکڑ رتھ فاو کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے پچاس روپے مالیت کا سکہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی تعداد بھی پچاس ہزار ہوگی۔
وطن عزیز کو آج عبدالستار ایدھی اور ڈاکڑ رتھ فاو جیسے لوگوں کی بدستور ضرورت ہے۔ ملک میں لاکھوں نہیں کروڈوں افراد ایسے ہیں جنھیں تعلیم اور صحت کے شبعوں معیاری سہولیات دستیاب نہیں۔ یہ سب کچھ اس کے باوجود ہورہا کہ مہذب ملکوں میں سب سے زیادہ جن شعبوں پر زیادہ توجہ مرکوز کی جاتی ہے وہ تعلیم اور صحت ہیں جبکہ ہمارے ہاں مذکورہ شعبے کاروبار بن چکے۔ گذشتہ سال سپریم کورٹ کی جانب سے وفاقی اور چاروں حکومتوں ، پی ایم ڈی سی نجی وسرکاری میڈیکل کالجوں کی تعداد اور ان میں موجود سہولیات سے متعلق پوچھا گیا مگر باجوہ یہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔
عصر حاضر ہر مہذب ریاست اپنے شہریوں کو معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے مگر مملکت خداداد پاکستان میں ان شعبوں کو مسلسل نظر اندازکیا جارہا۔ ارباب اختیار اس پہلو پر توجہ دینے کو تیار نہیںکہ تعلیم اور صحت کے کاروبار بن جانے کے نتیجے میں عام آدمی کی مشکلات میںکس قدر اضافہ ہوچکا۔آج حالات یہ ہیں کہ وفاق سمیت کسی بھی صوبے میں حالات مثالی نہیں۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب لیہ میں زیرہلی مٹھائی کھانے والے کئی افراد محض اس سبب سے موت کے منہ میں چلے گے کہ مقامی ہسپتال میںان کے علاج کے لیے سہولت موجود نہ تھی ۔تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ کئی مہینوں سے سندھ کے علاقے تھر میں غذائی قلت اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے مسلسل بچے مررہے مگر صوبائی حکومت ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں۔ دوسری جانب سال دوہزار سولہ میں پشاور کے ایک ہسپتال میں چوہوںکا نومولود بچوں کو کاٹنے کا واقعہ صوبائی دارلحکومت میں دستیاب سہولیات بیان کرگیا۔
پاکستان دنیا میں صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے 122ویں نمبر ہے۔ بنیادی وجہ یہی ہے کہ عام آدمی کو بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرنا اہل اقتدارکی ترجیح اول نہیں۔ افسوس اس پر ہے کہ اگر برسرا قتدار طبقہ تعلیم اور صحت کے شعبہ پر توجہ مرکوز کرنے کو تیار نہیں تو اپوزیشن بھی ان مسائل کو اہمیت نہیں دی رہیں۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ پرنٹ ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا میں بھی یہ ایشوز توجہ حاصل نہیںکرپارہے،
ایک ترقی پذیر ملک ہونے کی حیثیت کو پاکستان کو کئی مسائل درپیش ہیں۔ ایک طرف سیاسی قیادت اخلاص اور بصیرت سے محروم ہے تو دوسری جانب عام پاکستانی کا سیاسی شعور اس معیار کو نہیں پہنچا کہ وہ رہنما اور رہزن کا فرق سمجھ سکے۔ دراصل ان حالات میں ملک کے اہل فکر ونظر کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ وہ سیاسی ، مذہبی اور سماجی شخصیات جو حقیقی معنوں میں انسانیت کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں آگے بڑھیں۔ دراصل موجودہ سیاسی جماعتوں سے خیر کی امید رکھنا خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔ لازم ہے کہ وہ مخیر حضرات ان خیراتی اداروں کی سرپرستی کریں جو بلاامیتاز لوگوں کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں۔ یقینا مشکلات کے باوجود بہتری کی امید کم نہیں ہوئی۔ اس کی زندہ مثال ڈاکڑ رتھ فاو تھیں جنھوں نے اپنے ملک جرمنی کو چھوڈ کر پاکستانیوں کی بے پناہ خدمت کی۔
ایک رائے یہ ہے کہ ایسا ناممکن نہیں کہ تیزی سے اپنے مسائل سے آگاہ ہوتے پاکستانی عوام مسقبل میں منتخب حکومتوں سے تعلیم اورصحت جیسی معیاری سہولیات کا مطالبہ کریں۔ دراصل بہتری صبر اور مسلسل جدوجہد کی متقاضی ہوا کرتی ہے۔ یہ کم اہم نہیںکہ شہروںکے ساتھ ساتھ دیہاتوں میں بھی یہ خیال فرو غ پذیر ہے کہ حکمران طبقہ اپنی بنیادی آئینی ، قانونی اور اخلاقی زمہ دایاں ادا کرنے کی بجائے انفرادی اور گروہی مفادات کے حصول کے لیے کمربستہ ہے۔ اب یہ راز نہیں رہا کہ حکمران صحت کے شعبے کو اس لیے بھی بہتر نہیںبناتے کہ وہ اپنے اور اپنے خاندان کے افراد کا علاج معالجہ بیرون ملک کرواتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ تین مرتبہ وزارت عظمی کے منصب پر فائزرہنے اور دو مرتبہ وزیر اعلی پنجاب رہنے والے میاں نوازشریف ملک میں ایک بھی ایسا ہسپتال نہیں بنوا سکے جہاں ان کا یا ان کی اہلیہ کا علاج ہوسکے۔ صحت اور تعلیم کا شعبہ کئی دہائیوں سے نظر انداز ہورہا لہذا کسی ڈرامائی تبدیلی کی بجائے ارباب اختیار پر دباو بڑھانے کی حکمت عملی جاری وساری رہنی چاہے تاکہ جلد یا بدیر کروڈوں پاکستانیوں کو صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔

Scroll To Top