آئی سی سی نے میچ فکسنگ کے 7 کیسز کی تحقیقات شروع کر دیں

i2 ماہ کے دوران سرفراز احمد اور زمبابوے کے کپتان گریم کریمر سمیت 3 انٹرنیشنل ٹیموں کے کپتانوں سے رابطہ کیا گیا ۔ فوٹو: فائل

 لاہور: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے میچ فکسنگ کے 7 کیسز کی تحقیقات کا آغاز کر دیا جب کہ 2 ماہ کے دوران سرفراز احمد اور زمبابوے کے کپتان گریم کریمر سمیت 3 انٹرنیشنل ٹیموں کے کپتانوں سے رابطہ کیا گیا۔

آئی سی سی کے مطابق گزشتہ 2 ماہ کے دوران 3 انٹرنیشنل ٹیموں کے کپتانوں نے فکسرز کے رابطوں سے متعلق آگاہ کیا، پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد ان 3 کپتانوں میں سے ایک ہیں جن سے اکتوبر میں ابوظہبی میں سری لنکا کےخلاف ون ڈے میچ سے قبل رابطہ کیا گیا، اسی ماہ زمبابوے کے کپتان گریم کریمر سے ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل رابطہ کیا گیا جب کہ دونوں کپتانوں نے ایک گھنٹے کے اندر متعلقہ حکام کو آگاہ کر دیا تھا، آئی سی سی کی جانب سے تیسرے کپتان کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ان شواہد کی روشنی میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے میچ فکسنگ کے 7 کیسز کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

آئی سی سی کے مطابق ویمن کرکٹ انڈر17 اور انڈر 19 لیول پر فکسنگ زیادہ ہے اور پلیئرز کو5 ہزار ڈالر سے ایک لاکھ 50 ہزار ڈالرز تک کی رقوم آفر کی گئی ہیں جب کہ آئی سی سی نے ستمبر میں اینٹی کرپشن کوڈ کی تجدید کی ہے جس کے تحت تفتیش کاروں کو مناسب وجوہات کی بناء پر کسی بھی وقت پلیئرز، کوچز اور ایڈمنسٹریٹرز کے موبائل فون چیک کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔ موبائل فون دینے سے انکار پر 2 سالہ پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Scroll To Top