نواز شریف کی نیب ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست مسترد، حسن ، حسین اشتہار قرار

  • نااہل وزیراعظم نے درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ کم از کم فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور العزیزیہ اسٹیل ملز کے ریفرنسز کو یکجا کیا جائے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بنچ نے کیس کی سماعت کی
  • احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیراعظم کے دونوں بیٹوں کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کی اور مسلسل غیر حاضری پر دونوں کو اشتہاری قرار دیدیا، ملزمان کےخلاف شہادتیں ریکارڈ کرنے کے عمل کا آغاز

hasa

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آبادہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر ' سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی تینوں ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواستیں مسترد کردیں۔ پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے 2رکنی ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنادیا جو 23 نومبر کو محفوظ کیا گیا تھا۔سابق وزیراعظم نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تینوں نیب ریفرنسز یکجا کرنے کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی جس پر جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔سابق وزیراعظم نواز شریف نے درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ کم از کم فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور العزیزیہ اسٹیل ملز کے ریفرنسز کو یکجا کیا جائے۔عدالت کیس کا تحریری فیصلہ بعد میں جاری کرے گی جس میں درخواست مسترد کرنے کی وجوہات بتائی جائیں گی۔نیب نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان کے خلاف تین ریفرنسز دائر کیے تھے جن میں نوازشریف سمیت تمام نامزد ملزمان پر فرد جرم عائد کی جاچکی ہے۔۔۔ دریں اثناءاحتساب عدالت نے نیب ریفرنسز کی سماعت کے سلسلے میں مسلسل غیر حاضری پر حسن اور حسین نواز کو باضابطہ طور پر اشتہاری قرار دےدیا۔ پیر کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیراعظم کے دونوں بیٹوں کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کی اور دونوں کو اشتہاری قرار دیدیا۔نیب حکام نے نیب آرڈیننس کی سیکشن 512 کے تحت دونوں ملزمان کےخلاف شہادتیں ریکارڈ کرنے کے عمل کا آغاز کردیا۔عدالت نے حسن اور حسین نواز کی جائیداد کے حوالے سے بھی نیب سے رپورٹ طلب کی تھی جو عدالت میں جمع کرادی گئی ہے۔نیب رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں حسن اور حسین نواز کی کوئی جائیداد نہیں ملی، اگر ملزمان کی جائیداد کی تفصیلات سامنے آئیں تو وہ عدالت میں پیش کی جائیں گی۔نیب رپورٹ میں عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ملزمان کے بینک اکاو¿نٹس اور حصص پہلے ہی منجمد کیے جاچکے ہیں۔بعد ازاں احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ریفرنسزکی سماعت 5 دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔نجی ٹی وی کے مطابق نیب ریفرنسز کیس سے متعلق جو گواہان نوازشریف کے خلاف شہادتیں ریکارڈ کرارہے ہیں وہی حسن اور حسین نواز کے خلاف بھی شہادتیں دیں گے اور گواہان کے بیان بھی ریکارڈ پر لائے جائیں گے۔حسن اور حسین نواز نیب ریفرنسز کی ایک بھی سماعت میں پیش نہیں ہوئے اور ان کے وکلا بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے ہیں، اسی بنیاد پر عدالت نے دونوں ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی برقرار رکھے ہیں۔واضح رہے کہ نیب نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان کے خلاف تین ریفرنسز دائر کیے ہیں جن میں نوازشریف سمیت تمام نامزد ملزمان پر فرد جرم عائد کی جاچکی ہے۔

Scroll To Top