پاک امریکہ تعلقات بہتر نہیں ہونگے ؟

zaheer-babar-logo


امریکہ وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان ایسے موقعہ پر ہورہا جب دونوں ملکوں میں معمول کے تعلقات بہتر نہیں۔ جمیز میٹس کا ایک روزہ دورہ پاکستان اور امریکہ کے مابین موجود مسائل پر کس حد تک قابو پانے میں مددگار ثابت ہوگا یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ پاکستانی سیاسی وعسکری قیادت پر مذید دباو ڈالیں گے کہ وہ افغانستان میں مشکلات کم کرنے کے لیے کام کریں۔ پاکستان آنے سے قبل امریکہ وزیر خارجہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی قیادت سے زبردستی کوئی کام نہیںلینا چاہتے بلکہ انھیں امید ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے پاکستان اپنا وعدہ پورا کریگا۔ “
بظاہر امریکہ بہادر کی افغانستان میں مشکلات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ایک دہائی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود طالبان کسی طور پر پسپا ہوتے نظر نہیںآتے۔دنیا کی اکلوتی سپرپاور کی مشکلات کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ افغانستان کا درالحکومت تاحال محفوظ نہیں۔ کابل میں آئے روز دہشت گردی کے واقعات اس حقیقت کو بیان کرنے کے لیے بہت کافی ہیںکہ ” سپرپاور “ مشکلات پر قابو پانے میں بدستور ناکام ہے، دراصل یہی وہ پس منظر ہے جس امریکہ تواتر کے ساتھ پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کو پناہ دینے کے الزامات عائد کررہا ۔
دو روز قبل پینٹاگون کے جوائنٹ اسٹاف ڈائریکڑ لفٹینٹ جنرل کینتھ کا کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان میں مذید تین ہزار فوجی تعینات کرچکا ہے اس ضمن میں ہم افغان فورسز کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کاروائیاں کرنے کے لیے تیار ہیںِ،جنرل کینتھ کے بعقول افغانستان میں پہلے سے امریکہ کے 14 ہزار جبکہ نیٹو کے 2 ہزار فوجی موجود ہیں“۔
مبصرین کا خیال ہے کہ افغانستان میںامریکہ افواج کی تعداد میں اضافہ کر کے ٹرمپ انتظامیہ طالبان اور دنیا بھر کو یہ پیغام دیا کہ وہ جنگجووں سے بات چیت کی بجائے لڑنے کی پالیسی پر کاربند ہیں۔ امریکہ پالیسی دراصل اس تاثر کو مضبوط کررہی کہ انکل سام جنگ سے تباہ حال ملک میں قیام امن کا خواہمشند نہیں، اس کے برعکس وہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں مسلسل خون ریزی کا سلسلہ جاری رہا جو اس کے مخصوص مقاصد کی تکمیل کے لیے لازم دکھائی دیتی ہے۔
نائن الیون کے بعد امریکہ کا افغانستان پر حملہ سمجھ میں آنے والی بات تھی مگر اب انکل سام کا پڑوسی ملک مسقل طور پر براجمان ہونا کئی سوالات کو جنم دے رہا۔یہ کم اہم نہیںکہ افغان طالبان امریکہ کے ساتھ مسلسل برسرپیکار ہیں ، گزر ے ماہ وسال کی طرح آج بھی وہ اس مطالبہ پر کاربند ہیں کہ افغان سرزمین سے غیر ملکی افواج نکلیں۔
دراصل افغان جنگجووں نے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت اپنی جنگ میں مذہب اور حب الوطنی دونوں جذبوں کو جگہ دی ہے۔ طالبان قیادت باخوبی جانتی ہے کہ محض حب الوطنی کا جذبہ کام نہیں کرنے والا بلکہ اس لڑائی کو مذہبی رنگ دینا بھی لازم تھا۔
ادھر امریکہ کی جانب سے تاحال افغان سرزمین سے نکلنے کا کوئی منصوبہ سامنے نہیںآیا جس کے نتیجے میں ان خدشات کو تقویت ملی رہی کہ انکل سام افغانستان میں طویل عرصہ تک رہنے کے لیے آیا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا امریکہ کا افغانستان کو ان حالات میں چھوڈ کر جانا مسلہ کا حل ہے یقینا اس کا جواب یقین سے دینا مشکل ہے۔ بادی النظر میں طالبان ہوں یا امریکہ کوئی بھی اپنے موقف میں لچک دکھانے کو تیار نہیں۔ بظاہر اسے فریقین کی سوچی سمجھی حکمت عملی کہا جاسکتاہے کہ وہ اس صورت حال کو جوں کا توں رکھنے پر بضد ہیں۔
طویل عرصہ تک افغانستان میں امریکہ کی موجودگی نے خطے کے دیگر ممالک کو بے چین کررکھا ہے۔ چین اور روس کی شکل میں دوایسے ممالک سامنے آئے ہیں جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر امریکی عزائم کی تکمیل میں رکاوٹ پیدا کررہے۔ آج چین اور روس اس بات کا اعلانیہ اظہار کررہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک اپنے مسائل خود حل کرنے کی جانب بڑھیں۔ اس پس منظر میں یہ مذکورہ ممالک کا کردار اور بھی اہمیت اختیار کرجاتا ہے جب امریکہ یہ الزام لگائے کہ روس طالبان کو اسلحہ فراہم کررہا۔
مبصرین کا خیال ہے کہ جنوبی ایشیاءکے بااثر ممالک کی کوشش ہے کہ امریکہ کی افغانستان میں مشکلات کم نہ ہوں۔انھیں اندازہ ہے کہ اکلوتی سپرپاور ہونے کی دعویدار نے اگر افغانستان پر اپنا بھرپور تسلط جما لیا تو پھر چین اور روس اس کا اگلا ہدف ہونگے۔ ایسا نہیں کہ امریکہ اس کھیل سے واقف نہیں واشنگٹن باخوبی جانتا ہے کہ اس کی مشکلات میں کون کیسے اضافہ کررہا ۔ امریکہ کا ہمیں بار تنقید کا نشانہ بنانے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیںکہ پاکستان سیاسی اور معاشی لحاظ سے کمزور ٹھرا ۔ ایک اور نمایاں وجہ یہ ہے کہ پاکستان پر دہشت گردوں کی سرپرستی کا الزام عائد کرکے امریکہ بھارت کو خوش کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ اس وقت جنوبی ایشیاءمیں امریکی عزائم کوآگے بڑھانے میں جو ملک پیش پیش ہے وہ بجا طور پر بھارت ہے۔ اففانستان میں بڑھتے ہوئے بھارتی کردار کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ چین اور پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کیا جائے ۔ عالمی سیاست کو سمجھنا یقینا آسان نہیں ۔ امریکہ اور چین کئی محاذوں پر ایک دوسرے کے حریف ہیں تو کہیں ان کے حلیف ہونے کا تاثر بھی ابھر کر سامنے آتا ہے۔ اس منظر نامہ میں پاکستانی قیادت کو آنکھیں اور کان کھول کررکھنے چاہں تاکہ اس کے مفادات کسی طور پر متاثر نہ ہوں۔

Scroll To Top