فی الحال اپنے ملک کی آزادی اور بقاءکی جنگ لڑو۔۔۔! 05-07-2012

kal-ki-baat


عین اس وقت جب امریکی میڈیا میں پاکستان کی فوج اور عدلیہ کے خلاف ایک خوفناک پروپیگنڈہ مہم چلا ئی جارہی تھی ` اسلام آباد اور واشنگٹن کے حکمرانوں کے درمیان خفیہ رابطے اور مذاکرات جاری تھے۔ اس ضمن میں صدرزرداری ایک نجی دورے پر لندن بھی گئے ۔ متذکرہ رابطوں اور مذاکرات کے نتائج ویسے ہی نکلے ہیںجیسے امریکہ چاہتا تھا۔ اس ضمن میں سودے بازی کیا ہوئی ہے اس بارے میں صرف انداز ے لگائے جاسکتے ہیں۔راہداری کی فیس لینے سے پاکستان کی دستبرداری کا فیصلہ اگرچہ ایک ” غیور“ قوم کا فیصلہ دکھائی دیتا ہے مگر اس ضمن میں یہ سوال ذہنوں میں اٹھے بغیر نہیں رہتا کہ کیا ” غیور قومیں “ صرف ” امداد “ کے نام پر ملنے والی ” بھیک “ پر گزارہ کیا کرتی ہیں ؟ سوال اور بھی بہت سارے اٹھ رہے ہیں اور اٹھیں گے۔ ایک سوال تو ہر محب ِوطن کی زبان پر آ بھی چکا ہے۔ کیا ہماری فوجی قیادت بھی ” نٹیو سپلائی “ کھولنے کے فیصلے میں شریک ہے ؟ بادی النظر میں ایسا نہیں لگتا کیوں کہ آرمی چیف کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ہونے والا اظہارِ معذرت ناکافی ہے ` اور اسے ” معافی مانگنے “ کے مترادف قرار نہیں دیا جاسکتا۔
میں ایک بار پھر کہوں گا کہ یہ جنگ دو سوچوں کے درمیان ہے جس کا فی الحال شاید بہت ساروں کو ادراک نہ ہو لیکن آنے والے وقتوں میں یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ پاکستان کے عوام کو اپنے وطن کی بقاءکی جنگ اپنوں کے خلاف ہی لڑنی ہے۔ یہ ” اپنے “ کون ہیں؟ تو جواب میں میں میر جعفر اور میر صادق کا ذکر کروں گا۔ وہ بھی تو ” اپنے “ ہی تھے۔
ہمارا منظر نامہ کچھ زیادہ تشویشناک ہے۔ یہاں کے سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان بدقسمتی سے خود میر جعفر اور میر صادق بنے ہوئے ہیں۔وہ تمام لوگ جو تبدیلی اور انقلاب کی بات کررہے ہیں ان کی سمجھ میں یہ بات آجانی چاہئے کہ ان کا مقابلہ چند سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے نہیں ` اس اتحاد کی سرپرستی کرنے والی سپر پاور سے ہے جس کے عزائم کو خاک میں ملائے بغیر ` تبدیلی اور انقلاب لانا تو دور کی بات ہے ` ہم اپنی آزادی کا بھرم بھی قائم نہیں رکھ سکیں گے۔
اٹھو۔۔۔میرے بھائیو۔۔۔ اقتدار کی جنگ بعد میں لڑ لینا ۔ فی الحال اپنے ملک کی آزادی اور بقاءکی جنگ لڑو۔۔۔

Scroll To Top