میاں صاحب۔۔۔ وطنِ عزیز میں کچھ ضمیر ایسے بھی موجود ہیں جنہیں آپ کی پوری دولت بھی نہیں خرید سکتی

aaj-ki-bat-logo


مجھے نہیں معلوم نہیں کہ سیاست میں اس قدر لمبی مدت گزارنے کے بعد بھی میاں نوازشریف میں ایک اچھا لطیفہ سمجھنے اور فوری طور پر مسکرا یا ہنس دینے کی صلاحیت پیدا ہوئی ہے یا نہیں لیکن نادانستہ طور پر بڑی معصومیت کے ساتھ آج کل وہ ایک لطیفہ بار بار سنا رہے ہیں جس پر سننے والوں کو اب بھی ہنسی آرہی ہے۔۔۔ موصوف کہہ رہے ہیں کہ مجھ پر کرپشن کا کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوسکا اور تمام ادارے مل کر بھی مجھے پر ایک پائی تک کی چوری ثابت نہیں کر سکے۔۔۔ انہیں معلوم نہیں کہ ان کا پورا وجود۔۔۔ ان کا رہن سہن ۔۔۔ ان کی املاک ان کے طور طریقے اور اپنے آپ کو ہر قانون ` ہر عدالت اور ہر ضابطے سے بالاتر سمجھنے کا رویہ خود ان کی کرپشن اور ان کی لوٹ مار کا کھلا ثبوت ہے۔۔۔کیا وہ نہیں جانتے کہ عدالت اور قانون نے ان سے صرف لندن کے فلیٹس کی خریداری کاریکارڈ اور ثبوت مانگا تھا۔۔۔ تقاضہ صرف منی ٹریل کا تھا لیکن میاں صاحب اپنی وزارت عظمیٰ کھو بیٹھے لیکن مطلوبہ ریکارڈ پیش نہ کرسکے ۔۔۔ ؟

اگر متذکرہ فلیٹس کی خریداری جائز آمدنی سے اور جائز طریقوں کے ساتھ ہوئی ہوتی تو میاں صاحب کو قطری شہزادے کے خط جیسے مضحکہ خیز قصوں کا سہارا لے کر اپنے آپ کو سامان تضحیک کیوں بنانا پڑتا۔۔۔؟
حقیقت یہ ہے کہ کرپشن کے معاملات میں کرپشن کرنے والے کارہن سہن اور اس کی دولتمندی میں یکایک آنے والا انقلاب ہی اس کی کرپشن کامنہ بولتا ثبوت ہوا کرتا ہے۔۔۔ اگر وہ اس ” انقلاب “ کا کوئی ٹھوس سبب سامنے لاسکے جو دستاویزی طور پر مستند ہو تو تمام الزامات خود بخود دھل جایا کرتے ہیں۔۔۔
میاں صاحب کے پاس اپنے دفاع میں کچھ ہوتا تو وہ عدالتی کارروائی سے بچنے یا اسے طول دینے کی حکمت عملی اختیار نہ کرتے اورعدلیہ اور فوج پر رکیک حملے کرنے کی بجائے جلد ازجلد اپنی صفائی اور بے گناہی ثابت کرنے کا راستہ اختیار کرتے۔۔۔
دلچسپ بات یہاں یہ ہے کہ پورا حکومتی ڈھانچہ ان کے اشاروں پر کام کررہا ہے۔۔۔ ریاست کے تمام وسائل نون لیگی حکومت نے انہیں مہیا کررکھے ہیں ۔۔۔ پھر بھی اُن کے پاس اپنی صفائی میں چند جملوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔۔
مجھے کیوں نکالا سے ” لے کر“ ”مجھ پر ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں ہوسکی۔۔۔“تمام جملے لوگوں کو حفظ ہوچکے ہیں ۔۔۔ اب یہ جملہ بھی لوگوں کے حافظے میں داخل ہورہا ہے ۔۔۔” میرا احتساب نہیں ہورہا۔۔۔ مجھ سے انتقام لیا جارہا ہے۔۔۔“
آج انہوں نے ایک اور جملہ بھی ادا کیا۔۔۔
” لگتا ہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے کیس میں بھی نا اہل مجھے ہی قرار دیاجائے گا۔۔۔“
میاں صاحب۔۔۔ آپ کھربوں کی چوری کا معاملہ مذاق میں نہیں اڑا سکتے۔۔۔ اور اب تو قوم آپ سے اس ” غداری “ کا بھی حساب لے گی جس کا ارتکاب آپ نے مودی اور پاکستان میں اس کے ایجنٹوں کے ساتھ روابط قائم کرکے کی ہے۔۔۔ یہ درست ہے کہ آپ کی دولت بہت کچھ خرید سکتی ہے۔۔۔مگر کچھ ضمیر وطنِ عزیز میں ایسے بھی موجود ہیں جنہیں خریدنا آپ کی پوری دولت کی پہنچ سے باہر ہے۔۔۔

Scroll To Top