مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘۔

jhootمصنف۔۔ غلام اکبر
05-12-2017
قسط :29۔۔۔


بھٹو بھی آگاہ ہو چکا تھا کہ فوج کے اندر ایک طاقتور گروپ قائم ہوگیا ہے جو خود کچھ عزائم رکھتا ہے اس گروپ کے ظہور نے اس بات کا امکان خاصا کم کر دیا تھا کہ اقتدار بھٹو کو تھالی میں سجاکر پیش کیا جائے۔ اب چند جنرلوں کی زبانی حمایت پر بھرپور کئے رکھنا مناسب نہیں تھا۔ اس بات کا بھی خطرہ تھا کہ کہیں امریکہ نے اس کے علاوہ کسی اور گھوڑے پر بھی بازی نہ لگا رکھی ہو۔ چنانچہ ا سنے اپنی منصوبہ بند ی میں کچھ تبدیلیاں کیں اور اس کی نظریں ایک ایسے شخص پر جم گئیں جو ایوبی آمریت کی بنیادیں ہلا ڈالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا تھا۔ اس شخص کا ذکر میں سرسری طور پر کرنا نہیں چاہتا کیوں کہ اسے تاریخ پاکستان میں ایک منفرد مقام حاصل ہو چکا ہے۔ ایوبی آمریت پر فیصلہ کن وار اسی شخص نے کیا۔ بھٹو کے طوفانی سفر کو آسان بنانے کا کام اسی شخص نے انجام دیا۔ اور یہ کام بھی قدرت نے اسی شخص کے سپرد کیا کہ ایک آمریت کو ختم کر کے اس نے جس دوسری آمریت کے لئے راہیں ہموار کیں اس کے خلاف طویل اور صبر آزما جنگ بھی وہ خود لڑے۔
ایوب خان کی آمریت یحییٰ خان کے مارشل لاءاور بھٹو کے دورِ استبداد کے خلاف پورے نو برس تک برسر پیکار رہنے والے اس شخص کے کردار کا تفصیلی جائزہ، میں آنے والے ابواب میں لوں گا۔
یہاں میں اس جشن کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو ایوب خان کے دس سالہ ” دورِ ترقی وخوشحالی“ کے سلسلہ میں بڑے اہتمام کے ساتھ منایا گیا۔ یہ جشن کئی سرکاری اداروں کی طرف سے کئی ماہ تک کچھ اس انداز سے منایا گیا جیسے ایوب خان مزید دس برس تک قوم پر مسلط رہنے کا پختہ ارادہ رکھتے تھے۔ اس جشن کے دوران ایوب خان کے دس سالہ دور میں ہونے والی ”شاندار“ ترقی کے متعلق جو زبردست پروپیگنڈا ہوا اس نے عوام کے ذہنوں پر مثبت اثرات مرتب کرنے کی بجائے انہیں نفسیاتی طور پر اس احساس میں مبتلا کر دیا کہ ان کی مجبوری اور بے بسی کا مذاق اڑایا جا رہا ہے یہی وہ احساس تھا جو راکھ میں دبی ہوئی چنگاری کی مانند بھڑک کر شعلہ بننے والا تھا۔ بھٹو کو جس چنگاری کی ضرورت تھی ایوب خان کے پروپیگنڈہ باز خود ہی اسے مہیا کر رہے تھے۔ ان پروپیگنڈہ بازوں نے ایوب خان کو اسلام کا محافظ ثابت کرنے کے لئے بھٹو کے خلاف ” سوشلزم کفر ہے“ کا نعرہ بھی خاصی کثرت کے ساتھ استعمال کیا حاکمِ وقت کا اشارہ پا کر فتووں کی بھرمار کرنے والے ” کرائے کے مولویوں“ کی کمی ہمارے ملک میں کبھی نہیں رہی۔ مجھے وہ فتویٰ اچھی طرح یاد ہے جو مولانا کوثر نیازی نے بادشاہی مسجد لاہور کے امام کے ساتھ مل کر بھٹو کے خلاف دیا تھا۔ اس فتوے میں سوشلزم کا نام لینے والے بھٹو کو دین کا دشمن قرار دے کر دائرہ اسلام سے خارج کر دیا گیا تھا۔
۰۳ اپریل ۸۶۹۱ءکے روزنامہ مشرق کے صفحہ اوّل پر شائع ہونے والے اس فتوے کا تراشہ اب بھی میرے ریکارڈ میں موجود ہے۔ میں کسی دوسرے مولانا کوثر نیازی کا ذکر نہیں کر رہا۔ اسی مولانا کوثر نیازی کا ذکر کر رہا ہوں جو گزشتہ چھ برس سے بھٹو کو دنیا ئے اسلام کا ایک بطلِ جلیل اور مسلم تاریخ کا ایک عظیم سپاہی ثابت کرنے کا ”دینی “ فریضہ بڑی ”دیانت داری اور لگن“ کے ساتھ ادا کر رہا ہے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ محمد کے دین کے ساتھ شرمناک مذاق کرنے والے لوگوں پر محمد کے خدا کا قہرو غضب کیوں نہیں ٹوٹتا۔
اصغر خان کا ظہور
اگر آئین الٰہی یہ ہوتاکہ غربت موروثی ہو اور امارت موروثی ہو، محکومی موروثی ہو اور حاکمیت موروثی ہو، ظلم سہنے کی تقدیر موروثی ہو اور ظلم کرنے کا حق موروثی ہو تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا آپ کو رحمت العالمین بنا کر کیوں بھیجتا؟
ایوب اقتدار کی دسویں سالگرہ کے موقع پر بھٹو کو وہ اشارہ مل گیا جس کا اسے انتظار تھا۔ یہ اشارہ سی آئی اے کی طرف سے ملا یا ان جنرلوں کی طرف سے جو درپردہ اسکے ساتھ ساز باز کرتے رہے تھے۔ میرا اپنا خیال یہ ہے کہ یحییٰ خان اور نور خان نے بالواسطہ طور پر بھٹو تک یہ بات پہنچا دی تھی کہ اگر ایوب خان کے خلاف کوئی بری تحریک شروع ہوئی اور اس تحریک کے نتیجے میں امنِ عامہ کی صورت حال سول انتظامیہ کے کنٹرول سے باہر ہوگئی تو فوج ایوب خان کے اقتدار کو بچانے کے لئے کوئی مﺅثر کردار ادا نہیں کرے گی۔
تحریک کا باقاعدہ آغاز کرنے سے قبل بھٹو طلباءکی تنظیموں اور مزدور یونینوں کے لیڈروں کو پوری طرح اپنے جال میں پھنسا چکا تھا۔ ایوبی دور کی شاندار ترقی کے پروپیگنڈے کو بے اثر بنانے کے لئے چینی کی مہنگائی کے مسئلے کو بڑی کامیابی کے ساتھ ایکسپلائٹ کیا گیا تھا۔
تحریک شروع کرنے کے لئے بھٹو کو ایک بہانے کی ضرورت تھی جو ایوب خان کی انتظامیہ نے اسے فراہم کر دیا۔ راولپنڈی کے قریب پولیس کے ساتھ ایک چھوٹے سے جلوس کی جھڑپ میں ایک نوجوان جاں بحق ہوگیا۔ اس نوجوان کی ہلاکت نے دورِ ایوب پر مہرِ اختتام ثبت کر دی۔
(جاری ہے….)

Scroll To Top