نجم سیٹھی صاحب سچ یہ ہے کہ۔۔۔ 04-07-2012

kal-ki-baat


میں اپنی تحریروں میں بار ہا اس بات پر زور دے چکا ہوں کہ وطن ِ عزیز میں دو متضاد اور متصادم سوچیں عرصہ دراز سے متوازی طور پر چل رہی ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد ایک عرصے تک یہ سوچیں ”نظریہءپاکستان“ اور ”ترقی پسند تحریک“ کے حوالوں سے پہچانی جاتی رہیں۔ ترقی پسندتحریک کا قبلہ تب ماسکو تھا۔ پرولتاریہ کے حقوق کے علمبردار سوویت یونین کو امریکہ کی قیادت میں سرمایہ دارانہ نظام نے شکست دی تو ہمارے سارے کے سارے ترقی پسند اپنا” قبلہ “ تبدیل کرنے کے لئے کوشاں ہوگئے۔ نیا قبلہ انہیں واشنگٹن کی صورت میں مل گیا جس کی سر پرستی میں ’ ’ انسانی حقوق“ کی علمبرداری کا فریضہ انجام دیا جارہا تھا۔

یوں ماضی کے ” پروردگانِ ماسکو “ حال کے ”پروردگان ِواشنگٹن “ بن گئے۔آج ان کی پہچان میڈیا اور سوشل ورک سے وابستہ جن شخصیات کے ناموں سے ہوتی ہے ان میں نمایاں نام جناب نجم سیٹھی ' جناب نصرت جاوید ' جناب امتیاز عالم اور محترمہ عاصمہ جہانگیر کے ہیں۔ ان میں جناب نصر ت جاوید کے علاوہ سب کے سب تقریباً شاہانہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ جناب نصرت جاوید کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ ” پرولتاریہ “ کے ساتھ ان کا رشتہ قدرے حقیقی رہا ہے' سٹرٹیجک ہرگز نہیں۔ اِسی وجہ سے ان کی سوچ سے تمام تر اختلافات رکھنے کے باوجود میں ان کا احترام کرتا ہوں۔احترام یوں تو میں تمام ایسے لوگوں کا کرتا ہوں جو غیرمعمولی دماغی اور علمی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں ' خواہ ان کا قبلہ ماسکو یا واشنگٹن ہی کیوں نہ ہو۔ یہ لمبی چوڑی تمہید میں نے نجم سیٹھی صاحب کا ایک تجزیہ سن کر باندھی ہے۔ موصوف پیر کی شب والے اپنے پروگرام میں فرما رہے تھے کہ پاکستان کے بارے میں ناپسندیدگی کے جو احساسات پوری دُنیا میں پھیلے ہیں ان کی وجہ امریکہ کے ساتھ ہمارا روز افزوں ” ترقی “ کرتا تناﺅ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے روایتی برادر ملک بھی پاکستان سے نالاں نظر آتے ہیں۔
میں جناب نجم سیٹھی کی اس خواہش کا احترام کرتا ہوں کہ ہم امریکہ کے ساتھ تمام تر ” دوریاں “ دور کرلیں لیکن اُن کے اس تجزیے سے اتفاق نہیں کرسکتا کہ پاکستان کی ” جگ ہنسائی “ امریکہ کے سامراجی عزائم کا حصہ بنے رہنے سے انکار کی وجہ سے ہورہی ہے۔ پاکستان کا گراف دُنیا بھر میں اُن ہی وجوہ کی بناءپر گرا ہے جن وجوہ کی بناءپر خود پاکستان کے عوام میں بے اطمینانی اور یاس و مایوسی کے رحجانات نے زور پکڑا ہے۔ جس ملک کے وزیراعظم کچھ روز پہلے سید یوسف رضا گیلانی تھے اور اب جناب پرویز اشرف ہیں اور جس ملک کے صدر کو خطرہ ہے کہ کہیں اسے ایک تھرڈ کلاس سوئس مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونا نہ پڑ جائے اس کی بین الاقوامی ساکھ بری طرح متاثر کیوں نہیں ہوگی۔ ؟

Scroll To Top