یہ قوم احسان مند ہے اُن لوگوں کی جن کے بروقت اقدامات نے ایک نئے میر جعفر اور ایک نئے میر صادق کا راستہ بند کر دیا ہے

aaj-ki-bat-logo


میں بعض تجزیہ کاروں کی اِس رائے سے اتفاق نہیں کرتا کہ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے صدمے نے میاں نواز شریف کے ذہنی توازن کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ وہ اچھے بُرے کی تمیز کھو بیٹھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک کوئی زر پرست اچھے بُرے کی تمیز سے بے نیاز نہ ہو وہ اپنی جستجوئے زور کو مطلوبہ نتائج سے ہمکنار نہیں کراسکتا۔ امیر ہونا اور امارت حاصل کرنے کی خواہش رکھنا ایک بات ہے اور دولت کو ایک معبود کا درجہ دے کر اس کی پرستش کے لئے نئے مندر یا معبد خانے بنانا دوسری بات ہے۔

کوئی نہیں جانتا کہ میاں صاحب کے پاس دولت اور املاک کے کتنے انبار ہوں گے۔پاناماکیس تو صرف اس دولت سے تعلق رکھتا ہے جو میاں صاحب نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے پہلے دور میں کمائی اس کے بعد انہوںنے جو کچھ کمایا ہے اس کا علم انہیں ہی ہے۔ وہی جانتے ہیں کہ احتساب کے جس عمل نے ان کے اردگرد اپنا شکنجہ کسنا شروع کیا ہے اگر وہ اپنے منطقی انجام تک پہنچا تو ان کی کتنی دولت اور کتنی املاک ان کی نیک نامی کے ساتھ غرق ہوںگی۔
چنانچہ اب انہوں نے اپنا سب کچھ داو¿ پر لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اب انہیں امید کی صرف یہی کرن باقی نظر آرہی ہے کہ پاکستان کے جو دشمن مملکت ِخداداد پر کوئی نیا وار کرنے کے موقع کی تلاش میں رہا کرتے ہیں اُن کے حلیف بن جائیں اوراُن کی مدد سے وطنِ عزیز کے اُن اداروں کے خلاف جنگ لڑیں جنہوں نے اُن کی لوٹ مار پر پردہ ڈالنے میں ان کی مدد نہیںکی۔
بلوچی گاندھی عبدالصمد اچکزئی کی برسی کے موقع پر قائد اعظم (رحمتہ اللہ علیہ) کے سب سے بڑے دشمن کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے منعقد ہونے والے جلسئہ عام میں شرکت کر کے اور پاکستان کے قیام کو ایک سنگین غلطی قرار دینے والے محمود خان اچکزئی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر پاکستان کی عدلیہ اور فوج کو للکار کر میاں نواز شریف نے اعلانیہ طور پر اپنا رشتہ حب الوطنی کے ساتھ توڑ ڈالاہے۔ میں نہیں جانتا کہ ”غدار“ اور کسے کہتے ہیں۔
کون اِس حقیقت سے واقف نہیں کہ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں قائد اعظم(رحمتہ اللہ علیہ) کی مسلم لیگ کو قیام پاکستان کے دشمنوں کے خلاف ایک تاریخی جنگ لڑنی پڑی تھی۔صوبہ سرحد میں سرحدی گاندھی کا مقابلہ خان عبدالقیوم خان نے کیا تھا اور بلوچستان میں بلوچی گاندھی کو زیر کرنے میں قاضی عیسیٰ، جعفر خان جمالی اور سردار جوگے زئی جیسے اکابرین نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
آج پاکستان کی وزارت ِعظمیٰ پر تین مرتبہ فائز رہنے والا شخص ان قوتوں سے کندھے کے ساتھ کندھا ملائے کھڑا ہے۔ جنہیں پاکستان کا وجود کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔
مودی کے ساتھ میاں صاحب کی دوستی محض ایک اتفاقی حادثہ نہیں۔ اس دوستی سے میاں صاحب کاپورا ” اندر“ ہمیں جھانکتا دکھائی دیتا ہے۔
ہمیں اپنی فوجی قیادت اور اعلیٰ عدلیہ کا احسان مند ہونا چاہیئے کہ ان کے بروقت اقدامات نے ایک نئے میر صادق اور ایک نئے میر جعفر کو اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل سے روک دیا ہے۔۔۔

Scroll To Top