مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘۔

jhoot
۔۔ غلام اکبر
04-12-2017
قسط :28۔۔۔


شیخ مجیب الرحمان کی رہائی کا مطالبہ بھٹو نے اس دور میں جا کر کیا جب مشرقی
پاکستان کے عوام اسلام آباد کو اپنے ملک کے دارالحکومت کی نہیں بلکہ ان حاکموں کے دارلاقتدار کی حیثیت دینے لگے تھے جن کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا۔ اس دور میں بھٹو کے مفادات کے لئے ضروری ہوگیا تھا کہ شیخ مجیب الرحمان زندان سے باہر آکر ملک کے اس حصے کی قیادت سنبھال لے جس سے بھٹو کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
میں شیخ مجیب الرحمان کو یہاں ” قومی ہیرو“ یا ”مشعل بردار جمہوریت“ کے روپ میں پیش کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ اس زمانے میں ، میں بھی ان لاکھوں لوگوں کے ساتھ تھا جو شیخ مجیب الرحمان کو غدار اور بھارت کا ایجنٹ وغیرہ قرار دیا کرتے تھے۔ لیکن سقوط مشرقی پاکستان کے المیے نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ممکن ہے کہ آج بھی میرے بے شمار ہم وطن شیخ مجیب الرحمان کو علیحدگی پسند اور غدار تصور کرتے ہوں۔ میں ”ملکی سالمیت اور قومی یکجہتی“ کے ایسے پروانوں کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو راستہ شیخ مجیب الرحمان نے اختیار کیا اس راستے پر اسے ہم نے ڈالا تھا۔ وہ حالات ہم نے پیدا کئے تھے۔ شیخ مجیب الرحمان جن کا قیدی بن کر رہ گیا۔ اگر شیخ مجیب الرحمان ان حالات کی قید سے نہ نکل سکا تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے اپنے کانوں میں ”ملکی سالمیت اور قومی یکجہتی“ کی انگلیاں ٹھونس لی تھیں اور ہم اسکی باتیں سننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ مجرم دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جنہیں حالات کسی جرم کی طرف دھکیلتے ہیں۔ اگر شیخ مجیب الرحمان مجرم تھا تو اس کا تعلق مجرموں کی اس قسم سے تھا۔ دوسری قسم کے مجرم وہ ہوتے ہیں جو مجرمانہ فطرت اور مجرمانہ ضمیر لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ اور جو حالات کو اپنے مجرمانہ مقاصد کے مطابق ڈھال لیا کرتے ہیں۔ اگر بھٹو اس قسم کا مجرم نہیں تو پھر میں یہ کہوں گا کہ دنیاکی تاریخ میں کوئی مجرم پیدا ہی نہیں ہوا۔
اور قدرت اس مجرم کو ہماری تقدیر بنانے کا فیصلہ کر چکی تھی تا کہ ہمیں ان گناہوں کی مناسب سزا مل سکے جن کا ارتکاب ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر برسہا برس سے کر رہے تھے۔
۷۶۹۱ءکی سردیوں میں ” مرد آہن“ ایوب خان پر ایک خطرناک بیماری کا حملہ ہوا۔ قوم سے اس خطرناک بیماری کو چھپانے کی پوری کوشش کی گئی۔ لیکن اس قسم کی باتیں چھپی نہیں رہ سکتیں۔ صدر پاکستان کا اچانک منظرِ سیاست سے یکسر غائب ہوجانا کسی معمولی بیماری کی وجہ سے نہیں تھا۔ یہ بیماری اس قدر خطرناک تھی کہ چند روز کے لئے ایوب خان کو موت اور زندگی کی کش مکش میں بھی رہنا پڑا۔ اگر چہ وہ موت کو شکست دینے اور طویل آرام کے بعد پوری طرح صحت یاب ہونے میں کامیاب ہوگئے مگر ان کی ہماری مختلف سطحوں پر اپنے اثرات مرتب کر چکی تھی۔ خود ایوب خان کو احساس ہوگیا کہ ان کی شخصیت طاقت کا ایسا پہاڑ ہرگز نہیں جو اپنی جگہ سے ہٹایا نہ جا سکے۔ موت کے منہ کے قریب جا کر واپس آنے کے نتیجے میں ان کے اس یقین کا متزلزل ہونا ایک فطری امر تھا کہ وہ ہر قسم کے حالات سے نبرد آزما ہونے کی قوت اور قدرت رکھتے ہیں۔
اور فوج کے وہ جنرل جنہوں نے اپنی شخصیتوں کو ایوب خان کے جاہ و جلال قوت وحشمت اور رعب ودبدبے کے تابع کر رکھا تھا۔ انہیں یکا یک یہ احساس ہوا کہ یہ مردِ آہن اپنی تمام تر طاقت کے باوجود ایک فانی انسان ہے اور اس کو بھی جلد یا بدیر موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ یکایک ان جنرلوں نے سوچنا شروع کر دیا کہ ایوب خان جلد یا بدیر افق سیاست سے غائب ہو سکتے ہیں۔ مسندِ اقتدار سے ہٹ سکتے ہیں۔ اور یوں ملک میں کسی وقت بھی قیادت کا خلاءپیدا ہو سکتا ہے۔ جسے بہر حال پُر کرنا پڑے گا۔
بری افواج کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے جنرل یحییٰ خان اپنے آپ کو سب سے زیادہ طاقت ور فوجی شخصیت سمجھنے میں حق بجانب تھے۔ جب ایوب خان موت اور زندگی کی کش مکش میں تھے اسی وقت جنرل یحییٰ خان نے سوچنا شروع کر دیا ہوگا کہ وہ ایک ایسے عہدے پر فائز ہیں جو آنے والے ایام میں طاقت کا حقیقی سرچشمہ بن سکتا ہے۔ وہ جانتے تھے کہ ایوب خان بھی فوجی پہلے اور سیاستدان بعد میں تھے۔ ایوب خان کے بعد بھی فوج کی طاقت قیادت کے خلاءکو پر کرنے میں نمایاں کردار ادا کر سکتی تھی۔ یحییٰ خان یہ بھی جانتے تھے کہ فوج کے کچھ جنرلوں نے ایوب خان سے ناراض ہو کر اپنا مستقبل خفیہ طور پر بھٹو کی مقبولیت سے وابستہ کر رکھا ہے۔ ان جنرلوں میں پیرزادہ ، عمر اور مٹھا خان خاصی اہمیت کے حامل تھے۔یحییٰ خان نے پہلا کام یہ کیا کہ وہ تمام جنرل جو کسی نہ کسی وجہ سے ایوب خان سے بد ظن ہو چکے تھے انہیں بھٹو کے حلقہ اثر سے نکالنا شروع کر دیا۔ یحییٰ خان کی دلیل یہ تھی کہ فوجیوں کو کسی سیاست دان کے ہاتھوں میں کھیلنے یا اس کے عزائم کی تکمیل کے لئے “مہروں“ کے طور پر استعمال ہونے کی بجائے خود اپنی فیصلہ کن قوت اور حیثیت پر اعتماد کرنا چاہیئے۔ یہ دلیل خاصی وزنی تھی۔ چنانچہ کچھ جنرلوں نے اپنا مستقبل یحییٰ خان کے ساتھ وابستہ کرنے میں کوئی باک نہ سمجھا، لیکن کچھ جنرل پھر بھی ایسے تھے جو تمام راستوں کو کھلا رکھنا اپنے لئے زیادہ مفید تصور کرتے تھے وہ جنرل یحییٰ خان کے ساتھ بھی رہے اور ان کا رابطہ بھٹو کے ساتھ بھی قائم رہا۔ پس پردہ کھیلے جانے والے اس کھیل میں ایئرمارشل نور خان نے بھی بھرپور حصہ لیا جو اس وقت فضائیہ کے سربراہ تھے۔ نور خان بھی قومی سیاست کے افق پر طلوع ہونے کے خواب دیکھنے لگے تھے اور ان کا خیال تھا کہ بھٹو کو ایوب آمریت پر وار کرنے کے لئے استعمال تو کیاجا سکتا ہے، لیکن اسے یہ موقع نہیں دینا چاہیئے کہ وہ فوج کی مدد سے ایوب خان کا جانشین بن جائے۔

Scroll To Top