مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘۔۔۔ غلام اکبر
قسط :27۔۔۔۔۔۔03-12-2017
چند ہی روز بعد میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایوب خان کا سابق وزیر خارجہ معتوب ہونے کے باوجود ایوب خان کی افسر شاہی پر کس قدر حاوی تھا۔الجزائر کے یومِ آزادی پر الجزائری سفارت خانے میں ایک تقریب ہو رہی تھی۔ اس تقریب میں، میں بھی شریک تھا۔ ممتاز سرکاری اور غیر سرکاری شخصیتوں میں عزیز احمد بھی وہاں موجود تھے اور ایک کونے میں بیٹھے چند دوسرے افسروں کے ساتھ گپ شب کر رہے تھے۔ اچانک وہ خاموش ہوگئے اور ان کے ساتھ دوسرے افسر بھی خاموش ہوگئے۔ ان کی نظریں سامنے کے ریڈار کی طرف اٹھی ہوئی تھیں۔ میں نے بھی اس جانب دیکھا۔ بھٹو شانِ بے نیازی کے ساتھ چلتا آرہا تھا۔ وہ ابھی چند گز کے فاصلے پر تھا کہ عزیز احمد اور دوسرے افسر بڑے مودبانہ انداز میں کھڑے ہوگئے بھٹو نے قریب سے گزرتے وقت مسکراتی ہوئی نظر ان پر ڈالی اور انگریزی میں کہا۔
”کیسے ہو عزیز؟ اور تم قرنی؟“
” فائن سر۔“ عزیز احمد نے جواب دیا۔”تھینک یو سر۔“ قرنی نے کہا۔
بھٹو تو آگے بھڑ گیا مگرا سے ” سر “ کہنے والے افسر دیر تک مودبانہ اور نیاز مندانہ انداز میں کھڑے رہے۔ اس وقت تک کھڑے رہے جب تک بھٹو ان کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوگیا۔
میں یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ میرے”ہیرو“ کی قد آور شخصیت کے سامنے یہ لوگ کس قدر”بونے“ لگ رہے ہیں۔ ایوب خان کو اگر پتہ چل جائے کہ انہوں نے بھٹو کو ” سر “ کہا ہے تو ان کی زبانیں کاٹ دی جائیں، لیکن پھر بھی میرے ہیرو کے سامنے یہ کتنی تابعداری کے ساتھ دم ہلا رہے ہیں۔
*********
بھٹو کی داستان کو آگے بڑھانے سے پہلے میں یہا ںشیخ مجیب الرحمان کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جیسے اگر تلہ سازش کیس میں ملوث کر کے گرفتار کیا جا چکا تھا۔اس گرفتاری نے شیخ مجیب الرحمان کو مشرقی پاکستان میں ایک قومی ہیرو کا درجہ دے دیا تھا اور وہاں کے عوام اس کی پرستش کرنے لگے تھے۔ اگر تلہ نامی مقام پر واقعی کوئی سازش ہوئی تھی اور اس سازش کا مقصد مشرقی پاکستان کو باقی ملک سے الگ کر کے بھارت کی گود میں ڈالنا تھا تو ایوب خان اس سازش کے بارے میں تمام حقائق ناقابلِ تردید شہادتوں کے ساتھ منظرِ عام پر لانے میں ناکام ہو گئے تھے۔ اس وقت میں بھی اپنے لاکھوں ہم وطنوں کی طرح ”ملکی سا لمیت“ اور ’قومی یکجہتی‘ جیسے پُرکشش نعروں کے جال میں پھنسا ہوا تھا اور ان اسباب پر غور کرنے کے لئے تیار نہیں تھا جو سراج الدولہ اور تیتو میر کے جانشینوں کو اس پاکستان سے دور لے جا رہے تھے ۔ جس کے قیام کے لئے انہوں نے ناقابلِ فراموش قربانیاں دی تھیں۔ کاش کہ میں اور میرے لاکھوں ہم وطن اس وقت یہ جان لیتے کہ مغربی پاکستان کے چند مفاد پرست سیاست دانوں نے مشرقی پاکستان کی فضاو¿ں میں سلطانی جمہور کے لئے اٹھنے والی ہر آواز کو غداری کی آواز قرار دینے کا وطیرہ محض اپنی مقتدر حیثیت اور بالا دستی کو برقرار رکھنے کے لئے اختیار کر رکھا ہے کاش کہ جب ایوبی آمریت اپنے سب سے بڑے دشمن شیخ مجیب الرحمن کو اگر تلہ سازش کیس کا ملزم نمبر ایک قرار دے کر زنداں کو دیواروں کے پیچھے پھینک چکی تھی تو اہل کشمیر کے حقوق کے لئے جنگ لڑنے والے مغربی پاکستانی اپنے مشرقی پاکستانی بھائیوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے بھی اسی طرح سڑکوں پر نکل آتے جس طرح وہ اعلانِ تاشقند کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے نکلے تھے۔! اگر ایسا ہوتا اور شیخ مجیب الرحمان کی رہائی کے لئے تحریک اسی زمانے میں شروع ہوتی اور کراچی ، لاہور، راولپنڈی ، پشاور اور کوئٹہ سے شروع ہو کر ڈھاکہ چاٹگام اور راجشاہی وغیرہ تک پہنچتی تو وہ نظریاتی زنجیر جس نے سینکڑوں میل کے فاصلے پر قائم دو مختلف جغرافیائی خطوں کو ایک قوم اور ایک ملک کے قالب میں جکڑ دیا تھا اس مقدس زنجیر کو توڑنا دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کے بس کی بات نہ ہوتی۔ اس مقدس زنجیر کو ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے توڑا۔ ہم بھول گئے کہ ایک ہی ماں کی کوکھ سے جنم لینے والے بھائی بھی جو ان ہو کر اپنے اپنے معاملات میں خود مختار ہونا پسند کرتے ہیں۔ خود مختاری کی اس فطری خواہش کو ماں کی کوکھ سے غداری قرار دینا کسی طرح بھی جائز نہیں۔ بڑا بھائی بھی چھوٹے بھائی پر حکومت کرے تو چھوٹا بھائی اسے اپنے حقوق کی نفی تصور کرتا ہے۔ اور مشرقی پاکستان تو مغربی پاکستان کا بڑا بھائی تھا۔
اب میں پھر اپنے ”ہیرو“ بھٹو کی طرف لوٹتا ہوں۔ شمعِ جمہوریت کے اس پروانے نے شیخ مجیب الرحمان کی گرفتاری کو خاموشی سے کیوں برداشت کیا؟ عوام کو اعلانِ تاشقند کے خلاف مشتعل کرتے وقت اس نے شیخ مجیب الرحمان کی گرفتاری سے پیدا ہونے والے خطرات کا ذکر کیوں نہ کیا؟ اعلانِ تاشقند کا تعلق تو اس کشمیر سے تھا جو فی الواقعہ بھارت کے قبضے میں تھا اور جسے آزاد کرانے کی قومی خواہش کی تکمیل کے لئے ناقابل تصور قربانیوں کی ضرورت تھی اور شیخ مجیب الرحمن کی گرفتاری سے پیدا ہونے والی صورت حال کا تعلق اس مشرقی پاکستان سے تھا جو ہمارے وجود کا حصہّ تھا اور ہمارے ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی کا صوبہ تھا۔ بھٹو نے ہمیں یہ کیوں نہ بتایا کہ کشمیر کو بھارتی چنگل سے آزاد کرنے کی بات ہم بعد میں بھی کر سکتے ہیں اس وقت ہمیں اپنے مشرقی پاکستانی بھائیوں کی ان امنگوں کی بات کرنی چاہیئے جنہیں کچلنے کے نتائج پورے پاکستان کے لئے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
لیکن بھٹو یہ سب کچھ ہمیں کیوں بتاتا؟ اس کا تو مفاد ہی اس میں تھا کہ ایوبی آمریت مشرقی پاکستان کے عوامی احساسات کو زیادہ سے زیادہ قوت کے ساتھ کچلے تاکہ وہاں علیحدگی پسندی کے رحجانات زیادہ سے زیادہ تیزی کے ساتھ جڑیں پکڑ سکیں۔
 
Scroll To Top