ایران ترکی اور مصر کے بعد پاکستان 01-07-2012

kal-ki-baat

تقریباً بیس برس قبل امریکہ کے مشہوردانشوراور پالیسی ساز اور سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر کسنگر نے اپنی تصنیف Does America Need A )Foreign Policy?کیا امریکہ کو خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے ؟(میں لکھا تھا کہ تاریخ نے ریاست ہائے متحدہ کو ایک ایسے مقام پر لاکھڑا کیا ہے اور اسے کرہ ارض کے معاملات میں اس قدر فیصلہ کن حیثیت عطا کردی ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی اپنی راہیں خود بخود متعین کرتی رہے گی۔
” امریکہ کی طاقت اور اس کے ممکنہ حریفوں کی طاقت میں اتنا فاصلہ ہے کہ اگر باقی دنیا دگنی رفتار کے ساتھ بھی ترقی کرنا شروع کردے ` اور امریکہ اگر اپنی موجودہ حیثیت ہی برقرار رکھنے میں کامیاب رہے تو متذکرہ فاصلہ کم ازکم ایک صدی تک تو ختم نہیںہو پائے گا۔ “ ڈاکٹر کسنگر نے لکھا تھا۔ ” سوویت یونین اب تاریخ کا حصہ ہے۔ چین ترقی کی دوڑ میں یورپ سے بھی پیچھے ہے۔ نازی ازم یا کمیونزم جیسا کوئی نظریاتی چیلنج بھی مجھے دور دور تک نظر نہیں آتا۔ رہی اسلامی دنیا تو اس کا وجود صرف کتابوں میں ہے۔ میں دور دور تک ایسا کوئی معجزہ نہیں دیکھ رہا کہ مسلم ممالک اسلام کے پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ایک موثر سیاسی چیلنج کی صورت اختیار کرسکیں۔“
جس کتاب سے یہ اقتباسات میں نے لئے ہیں وہ سوویت یونین کی شکست و ریخت کے فوراً ہی بعد شائع ہوئی تھی۔ اس سے پہلے نیو کون فکر کے ایک علمبردار فرانسس فوکو یاما اپنا مشہور تھیسس The End Of History یعنی تاریخ کا خاتمہ دنیا کے سامنے لا چکے تھے جس میں بڑے تیقن کے ساتھ یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ اب چونکہ دنیا کے کسی بھی خطے یا کسی بھی ملک میں امریکہ کی فیصلہ کن برتری کو چیلنج کرنے کا دم خم نہیں اس لئے کرہ ارض کو عملی طور پر Pax Americanaکا روپ دینے کے لئے ضرورت بس ایک عالمی آئین کی ہے جو امریکہ اپنے حلیفوں کی مدد سے تیار کرے اور پوری دنیا پر اس کا احترام اور اس پر عملدرآمد لازمی قرار دے دے۔
ان دو کتابوں کے بعد سیموئل ہنٹنگٹن کی شہرہ آفاق تصنیف The Clash Of Civilizationsسامنے آئی جس میں ایک طرف تو اسلام کے ساتھ مغربی دنیا کے ٹکراﺅ کا نقشہ کھینچا گیا تھا اور دوسری طرف ایک ایسی جنگ کی پیشگوئی بھی کی گئی تھی جس میں ایک طرف چین اور اس کا حلیف پاکستان ہوگا اور دوسری طرف امریکہ )اپنے حلیفوں کے ساتھ(۔ اس کتاب میں امریکی قوت کے ہاتھوں چین کی تباہی کی منظر کشی مغربی ذہنوں میں چُھپے ہوئے خوف کی بھرپور عکاسی کرتی تھی۔
میں نے یہ ساری تمہید اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں سامنے آنے والے منظر نامے کو سمجھنے کے لئے باندھی ہے۔
امریکی دانشور جو فلسفے اور تھیور یاں پیش کیا کرتے ہیں ان کا بنیادی مقصد تاریخی حقائق کا تجزیہ نہیں ہوتا امریکی پالیسیوں کے اہداف متعین کرنا اور امریکی خواہشات کو زمینی حقائق کا درجہ دلاناہوتا ہے۔ یہاں یہ بات یاد رکھی جانے کے قابل ہے کہ امریکی دانشور محقق اور تجزیہ نگار ہمیشہ امریکی پالیسی سازں کے ساتھ مل کر طے شدہ مقاصد کی تکمیل کے لئے مخصوص انداز کی تھیوریاں سامنے لایا کرتے ہیں۔ ان کا مقصد اصل حقائق کی نشاندہی یا تشریح نہیں ہوتا `ایسے ” حقائق “ کی تخلیق ہوتا ہے جو مستقبل کے بارے میں طے شدہ امریکی یا مغربی اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوسکیں۔
یہی وجہ ہے کہ گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں پیش کی جانے والی تمام تھیوریاں اور پیشگوئیاں غلط ثابت ہوچکی ہیں۔ اس صدی کا آغاز اگرچہ دوایسی جنگوں کے ساتھ ہوا جو امریکہ نے ” دہشت گردی کے خاتمے “ کے نام پر اسلامی دنیا کے دو اہم خطوں پر مسلط کیں لیکن حالات نے کچھ ایسا رُخ اختیار کرنا شروع کردیا اور اب اِس رُخ میں دنیا اس قدر تیزی کے ساتھ آگے بڑھتی چلی جارہی ہے کہ بہت جلد ڈاکٹر کسنگر ` فرانسس فوکو یاما اور سیموئل ہنٹنگٹن جیسے دانشوروں اور محققین کو مورخ ” سوچ کے کباڑخانے “ میں پھینکنے پر مجبور ہوجائیں گے۔
چین دنیا کی دوسری بڑی ” اکانومی “ قرار پانے کے بعد حقیقی سپر پاور بننے کی منزل کی طرف اتنی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے کہ امریکہ کے سامنے اس صورتحال کا بے بس تماشائی بنے رہنے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں۔ ایک آپشن کا استعمال امریکہ کے سابق صدر جارج بش نے بھارت کے ساتھ کورٹ شپ کرنے اور اس کو پنے سول جوہری پروگرام میں حصہ داری دینے کے ذریعے کیا تھا مگر اب یہ حقیقت نئی دہلی اور و اشنگٹن دونوں پر واضح ہوچکی ہے کہ سپر پاور سٹیٹس کے لئے چین کا مقابلہ کرنا بھارت کے بس کی بات نہیں۔
مگر وہ اہم تبدیلیاں جو امریکہ کے لئے ” لمحہ فکریہ “ کا درجہ رکھتی ہیں اس اسلامی دنیا میں رونما ہورہی ہیں جسے وہ تمام دانشور ” رائٹ آف “ کرچکے تھے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔
اس ضمن میں بات کا آغاز میں ترکی کے تذکرے سے کروں گا۔ جب بیسویں صدی کا آغاز ہوا تھا تب ترکی کو ” مرد ِبیمار “ قرار دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد اتاترک کا ظہور ہوا جنہوں نے اپنے انداز کی اصلاحات کے ذریعے ترکی کو ” صحتیابی “ اور ترقی کی راہ پر ڈالا۔ اتاترک کی اصلاحات میں ” اسلامی شناخت اور اقدار “ کا ترک کیا جانا بنیادی اہمیت کا حامل تھا۔ یہ عجیب بات ہے کہ جب اکیسویں صدی کا آغاز ہوا تب بھی ترکی ” بیمار اور لاغر “ شمار ہورہا تھا اور اپنی ” صحتمندی “ کے لئے دیوانہ وار ” یورپی یونین “ کی رکنیت کے حصول کے خواب کا تعاقب کررہا تھا۔ ایک صدی قبل ترکی کو اتاترک کے روپ میں ایک” مسیحا “ ملا تھا اور اب ترکی کو طیب اردگان کی صورت میں ایک اور مسیحا مل گیا جس کے سامنے دو مقاصد تھے۔ ایک تو یہ کہ اسلام کے ساتھ ترکی کے جس تعلق کا خاتمہ اتاترک نے کیا تھا اسے بحال کیا جائے اور دوسرا یہ کہ ترکی کو دور ِ جدید کے تقاضوں کے عین مطابق تعمیر و ترقی کی راہ پر ڈال کر ثابت کردیا جائے کہ اسلامی شناخت اور اسلامی اقدار کو نہ صرف یہ کہ ترقی کی راہ میںرکاوٹ نہیں سمجھنا چاہئے ` بلکہ یہ بھی کہ انہیں ترقی کے سفر میں ” توانائی آفرین “ ایندھن بھی بنایا جاسکتا ہے۔
آج کا ترکی ترقی پذیر ممالک کی صف میں سے نکل کر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوچکا ہے اور اس کی شناخت اس سکارف سے کی جاسکتی ہے جو صدر عبداللہ گل اور وزیراعظم طیب اردگان کی بیگمات پہنتی ہیں۔
جہاں تک ایران کے اسلامی انقلاب کا تعلق ہے وہ کسی تعارف یا تشریح کا محتاج نہیں۔ ایک تہائی صدی گزر جانے کے بعد بھی وہ مغرب کے جارحانہ عزائم کے سامنے ایک چٹان کی طرح کھڑا ہے۔
اور اب ڈیڑھ برس کے طوفان خیز واقعات کے نتیجے میں اچانک اسلام کا پرچم تمام تر توانائیوں اور جولانیوں کے ساتھ مصر کی فضاﺅں میںبلندہوتا دکھائی دے رہا ہے۔گزشتہ برس کے پارلیمانی انتخابات میں اسلامی تحریک کی علمبردارر دونوں جماعتوں نے جو عظیم الشان کامیابی حاصل کی تھی وہ مغربی دنیا کے لئے حیران کن تھی۔ مغربی تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ التحریر کا انقلاب سیکولر قوتوں کی جدوجہد کا ثمر تھا۔ انتخابات نے اس خیال کو یکسر غلط ثابت کردیا۔ اس ماہ کے آغاز میں سیکولر قوتوں کے امیدوار جنرل شفیق اور اخوان المسلمون کے امیدوار محمد مرسی کے درمیان صدارتی معرکے سے پہلے مصر کی مغرب نوازعدلیہ نے گزشتہ برس کے پارلیمانی انتخابات کالعدم قرار دے دیئے تو فوجی انتظامیہ نے بغیر توقف کے پارلیمنٹ کو توڑ دیا۔ مقصد ووٹروں کو یہ تاثر دینا تھا کہ اسلامسٹوں کو کبھی اقتدار میں آنے نہیں دیا جائے گا۔صدارتی انتخابات کے نتائج نے اخوان المسلمون کو برسراقتدار آنے سے روکنے کی سازش کو پھرناکام بنا دیا۔ نتائج کے سرکاری اعلان میں تاخیر کا حربہ بھی فوجی حکمرانوں اور ان کے مغربی پشت پناہوں کے کام نہ آسکا۔ اب محمدمرسی سرکاری طور پر مصر کے منتخب صدر قرار پا چکے ہیں۔ اگر چہ اقتدار کی منتقلی کی طرف سفر بڑا کٹھن ہنگامہ خیز اور امتحان طلب ہوگا مگر یہ بات اب یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ تاریخ کا پہیہ جس سمت میں چل پڑا ہے اب اسی سمت میں آگے بڑھے گا۔ مصر اور ترکی میں ایک لحاظ سے بڑی گہری مطابقت پائی جاتی ہے ۔ دونوں ممالک کی عدلیہ اور فوج پر مغرب نواز اور امریکہ کے حمایت یافتہ عناصر کا بڑا بھرپور غلبہ رہا ہے۔
جس طرح مغرب نواز اشرافیہ کا زور ترکی میں ٹوٹا ہے ` اسی طرح مصر میں بھی ٹوٹے گا ۔ دونوں ملکوں میں مقابلہ دو متحارب سوچوں کے درمیان ہے۔ ایک سوچ اسلام کو معاملات مملکت سے ہر قیمت پر خارج رکھنا چاہتی ہے۔ اور دوسری سوچ اسلام کو امور مملکت میں وہ مقام واپس دلانے کے لئے کمربستہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے کئی صدیاں قبل متعین کردیا تھا۔
پاکستان میں بھی صورتحال ایسے ہی منظر نامے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اگر پی پی پی ` ایم کیو ایم اور اے این پی کے حکمران اتحاد کو مغرب کا حمایت یافتہ سیکولر اتحاد قرار دیا جائے تو غلط نہیںہوگا۔ اس اتحاد میں مسلم لیگ ق کی شمولیت ہمارے سیاسی کلچر میں پائی انے والی موقع پرستی اور مفاد پرستی کا نتیجہ ہے۔
مگر آئندہ جوبھی انتخابات ہوں گے ان میں ایک کیمپ یقینی طور پر مغرب کی سرپرستی کی ” برکات“ سے فیضیاب ہونے والے سیکولراتحادیوں کا ہوگا۔ اور دوسرا کیمپ ایسی سیاسی قوتوں کا جوپاکستان کو ہر قیمت پر اسلامی جمہوریہ رکھناچاہتی ہیں۔ آج یہ کیمپ متحد نظر نہیں آتا۔ مگر تاریخ کا بہاﺅ اس کیمپ کے فطری اتحادیوں کو مجبور کردے گا کہ جس سوچ کو نجم سیٹھی صاحب یا محترمہ عاصمہ جہانگیر جیسی سیکولر شخصیتیں فروغ دے رہی ہیں اور جس کی پہچان وزیراعظم پرویزاشرف کوملنے والے 211ووٹوں سے ہوتی ہے اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کردیں۔مجھے یقین ہے کہ ایران ترکی اور مصر کے بعد پاکستان بھی اپنا سیاسی رشتہ فیصلہ کن طور پر اسلام کے ساتھ جوڑنے والا ہے۔

Scroll To Top