فیض آباد دھرنے کے دوررس اثرات ہونگے ؟

zaheer-babar-logo

اس رائے سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا کہ فیض آباد کے مقام پر دیئے جانے والے دھرنے کو ماضی کا قصہ سمجھ کر فراموش کردیا جائے ۔ بطور قوم ہمیں اس تلخ سچائی کا سامنا کرنا ہوگا کہ تحریک لبیک کا اکیس روز جاری رہنے والا دھرنا اور پھر اس کے نتیجے میں ہونے والا معاہدہ ریاست، سیاست ، معاشرہ اور جمہوریت سب ہی داغ دار کرگیا۔ایک حساس معاملے پر مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین نے جس طرح ملک کے دو اہم شہروںکو کئی دن بند رکھا وہ دراصل قومی سطح پر ہونے والی ناکامیوں میں ایک اور ناکامی کا اضافہ کرگیا ۔
دوسری جانب پرنٹ ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا کے علاوہ عدالت عظمی میں یہ واقعہ زیر بحث ہے۔کہا جارہا ہے کہ خادم حیسن رضوی کی ”کامیابی “ مسقبل قریب میں دیگر مذہبی جماعتوں کو بھی ترغیب دی گی۔ اعداد وشمار کے مطابق دھرنے دینے والوں کی تعداد کم وبیش دوہزار جبکہ آپریشن کرنے والوں کی تعداد آٹھ ہزار تھی۔ واقعہ سے متعلق آئی جی اسلام آباد خالد خٹک نے 29 نومبر کو سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرواتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ دھرنے کے خلاف آپریشن کی ناکامی کی اہم وجہ پولیس اہلکاروں کا بیس روز لگا تار دھرنا ڈیوٹی دینا تھا اس کے برعکس مظاہرین میں روزانہ کی بنیاد پر تازہ دم افراد شامل ہوتے تھے۔ آئی جی کے مطابق دھرن شرکاءمظاہرین کے مذہبی جذبات بھی بھڑکاتے رہے جس کے نتیجے میں فورسز کو طاقت کے استمال میں مشکلات پیش آئیں۔ یہ انکشافات بھی ہوا کہ مظاہرین کے پاس جو آنسو شیل تھے وہ پولیس سے کہیں زیادہ جدید تھے ۔ مظاہرین کے پاس ماسک کے علاوہ خاص قسم کے پتھر تھے جن کا پولیس پر بے دریغ اسمتال کیا گیا۔پولیس کے مطابق یہ کہنا غلط ہے کہ فیض آباد میں دھرنا دینے والے عام لوگ تھے بلکہ ان کے بعقول وہ تربیت یافتہ تھے۔“
اسلام آباد ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ کا دھرنے معاملے میں سامنے آنا اس معاملے کی نزاکت کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔ عدالت عظمی میں اس سوموٹو ایکشن کی ہونے والی کاروائی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عدلیہ اس واقعہ کی اہمیت اور ان کے اثرات سے پورے طورپر باخبر ہے۔ یہ اطمنیان بخش ہے کہ ملک میں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں ایسی فکر مندی بہرکیف موجود ہے جو مہذب معاشرے کے لیے لازم کہی جاسکتی ہے۔
بادی النظر میں حکومت اور دھرنا دینے والوں میں معاہدہ کسی بھی باشعور شہری کو ہضم نہیں ہورہا۔ اس اقدام نے واضح طور پر حکومت کے علاوہ ریاست کی ناکامی کا تاثر مضبوط کیا ۔ بظاہر سرکاری اور نجی املاک کو تباہ وبرباد کرنے والوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ فیض آباد میں دھرنے کے نتیجے میں قومی خزانے کو 26کروڈ کا نقصان ہوا ہے جو کہ وفاقی اور پنجاب حکومت برداشت کریں گی۔
دوسری جانب دھرنا دینے والوںنے جو سلوک پولیس کے ساتھ روا رکھا اسے بھی حلقے کئی حوالوں سے بدترین قرار دے رہے۔ اہکاروں کو تشدد بنانا کے علاوہ ان کی تذلیل کی وڈیو کلپس منظر عام پر آچکے۔ معروف برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق راولپنڈی پولیس کے انسپکڑ محمد اسلم اور امانت علی کو ڈسڑکٹ ہیڈکوراٹر ہسپتال سے اٹھایا گیا تھا ۔ یرغمال بنائے جانے والے اہکارون کے بعقول مظاہرین انھیں فیض آباد میں اپنی قیادت کے سامنے لے گے۔ بعدازاں پولیس افسران کو خیمہ میں بند کردیا، تشدد ہو اور جلانے کی دھکمی بھی دی گی۔ یرغمال بنائے گے افسروںکے بعقول پولیس افسران نے ان کی رہائی کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھایا بلکہ آپریشن شروع ہونے پر انھیں جھاڈیوں میں پھینک دیا گیا“
زخمی پولیس اہکاروں کے ساتھ حکومت تاحال ہمدارنہ سلوک ظاہر کرنے کامیاب نہیںہوئی۔ حد تو یہ ہے کہ درجنوں اہکار ہسپتال میں پڑے ہیںمگر وفاقی وزیر داخلہ سمیت کوئی بھی ان کی مزاج پرسی کرنے نہیں گیا۔ پولیس سے ارباب اختیار کے اس طرزعمل کے کیا اثرات مرتب ہونگے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ یقینا اس بددلی کے نتیجے میں مسقبل قریب میں ایسی صورت حال پر پولیس کا ردعمل کسی طور پر حوصلہ افزا نہ ہوگا۔
مسلم لیگ ن کی قیادت بظاہر اس کا ادراک کرنے میںکامیاب نہیںہورہی کہ بیس روز جاری رہنے والا دھرنا اور پھر اس کا اختیام دراصل اس کی رہی سہی ساکھ بھی داو پر لگا گیا۔ اب یہ سوال کھلے عام پوچھا جارہا کہ کئی دہائیوں سے قومی سیاست میں متحرک کرنے والی پارٹی کی اہلیت یہ ہے تو نئے آنے والے کس طرح ملکی مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔ افسوس صد افسوس کہ تاحال حکمران جماعت مکمل طور پر ابہام کا شکار ہے۔ تحریک لبیک چونکہ مخصوص مسلک کی نمائندہ سیاسی ومذہبی جماعت ہے لہذا پی ایم ایل این کے بشیتر زمہ دار سمجھتے ہیںکہ انھیں کسی طور پر فیصلہ کن پوزیشن نہیں لینی چاہے۔ سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے لیے ان حالات میں دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی کہاں حد تک کارگر ثابت ہوگی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
اہل سیاست کو یقینا اپنی اہلیت اور اخلاص دونوں ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ خود احتسابی سے کام لے کر حکومت اور اپوزیشن کو ایسی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جس کے نتیجے میں جمہوریت پر عام آدمی کا اعتبار بڑھے۔ فیض آباد دھرنے نے ملک کی سیاسی ومذہبی قوتوں کو خود کو بہتر بنانے کا ایک اور موقعہ دیا ہے جس سے کہاں تک فائدہ اٹھایا جائیگا اس وقت یہ کہنا مشکل ہے۔

Scroll To Top