کیا آپ کان غلط طریقے سے صاف کررہے ہیں؟

sقدرت نے کان کو ازخود صفائی کرنے والی جلِد سے بنایا ہے،فوٹو:انٹرنیٹ

نیویارک: کانوں کی صفائی  کے لیے روئی کی سلائی (کاٹن بڈ) کا استعمال عام ہے جو ماہرین کی رائے میں کان کے لیے غیر محفوظ ہی نہیں بلکہ اس سے قوتِ سماعت بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

بعض لوگ کاٹن بڈ کے عادی ہوتے ہیں کیونکہ اسےاستعمال کرنا انہیں اچھا  لگتا ہے جب کہ اکثر لوگ کان کی صفائی کے لیے چابی، ٹوتھ پک، کاغذ کے ٹکڑے اور دیگر اشیا کا بغیر سوچے سمجھے استعمال کرکے خود کے لیے نئے مسائل کو دعوت دیتے ہیں۔

کولمبیا یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی ڈاکٹرایناکمِ کے مطابق کاٹن برڈ سے کان کی صفائی کوئی مفید طریقہ نہیں، کان کی میل کھال پر نمی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ کان کوانفیکشن سے بچاتی ہے جب کہ ایک اور ماہر ڈاکٹر الینا شولٹر کا ماننا ہے کہ کاٹن بڈ یا دیگر اشیا سے کان کی صفائی میل کو کم کرنے کے بجائے اسے مزید اندر کی طرف دھکیل دیتی ہیں کیونکہ کاٹن بڈ سے کان کا پردہ پنکچر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے جس  کے نتیجے میں سننے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کان کی نالی کی جلِد نرم ہوتی ہے جس میں کاٹن بڈ آسانی سے ٹوٹ سکتا ہے جو جراثیم کے اندر جانے کا راستہ بن جاتا ہےاور نتیجہ انفیکشن کی صورت میں سامنے آتا ہے، اس لیے کان کی صفائی کے لیے کاٹن بڈ یا کسی اور نوکدار شے کا استعمال نہ کرنا ہی بہتر ہوگا۔

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کان کی صفائی کیسے کی جائے تو اس کا آسان جواب یہ ہے کہ جو طریقہ کار بدن کی صفائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے وہی کان کی صفائی کے لیے بھی اختیار کیا جائے۔ بس ایک ملائم کپڑے کو گیلا کریں اور کان کے باہری حصوں پر اسے پھیریں تاکہ جلِد صاف ہوجائے، کان کی اندرونی صفائی اس وقت تک غیر ضروری ہے جب تک کہ میل ازخود باہر نہ آجائے۔

ڈاکٹر کمِ کا کہنا ہے کہ قدرت نے کان کو ازخود صفائی کرنے والی جلِد سے بنایا ہے لیکن اس کے باوجود اگر واقعی کان کی صفائی کی اشد ضرورت ہے تو  ایسے میں کاٹن بڈ سے باہری حصوں کو صاف کیا جاسکتا ہے تاکہ میل کو بڑھنے اور اندر جانے سے روکا جاسکے اور ایسا بھی اس صورتحال میں کریں جب پیلے یا براؤن رنگ والی میل کی وجہ سے آپ کے سننے کی صلاحیت متاثر ہورہی ہو۔

اس کے علاوہ  اگر گھر پر آپ کان کی صفائی کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے میل نرم کرنے کا مائع استعمال کرسکتے ہیں،اسے ڈراپر کے ذریعے کان میں قطروں کی صورت میں ڈالاجائے تاکہ سخت ہوئی میل کو نرم کیا جاسکے اورپھر سرنج کا استعمال کرکے نیم گرم پانی سے میل کو باہرنکالا جاسکتا ہے۔ لیکن دھیان رہے کہ سرنج سے پانی پوری قوت سے اندر نہ جانے ورنہ فائدے کی بجائے نقصان کا احتمال ہوسکتا ہے۔

اس کے باوجود اگر میل کی وجہ سے قوتِ سماعت متاثر ہو یا  اور کوئی دقعت درپیش ہوتو معالج  کو دکھانا ہی عقلمندی ہے۔

Scroll To Top