مشہورِ زمانہ تصنیف”جھوٹ کا پیغمبر……

jhootمصنف غلام اکبر
30-11-2017 .
.قسط 26….


میں اس زمانے میں روزنامہ مشرق کراچی کا ایڈیٹر تھا اور مجھے یاد ہے کہ ڈائریکٹر اطلاعات و تعلقات عامہ سے مجھے ہر روز یہی ”ہدایت“ ملتی تھی کہ آج گورنر صاحب نے فلاح جگہ جو تقریر کی ہے اسے نمایاں طور پر شائع کیا جائے۔ ایک دو روز تو میں نے پریس ٹرسٹ کے ایک اخبار کا ایڈیٹر ہونے کی مجبوری کی پیش نظر اس ”ہدایت“ پر عمل کیا، لیکن روز روز ایک ہی شخص کی ایک ہی قسم کی تقریر کو ”نمایاں“ طور پر شائع کرنا اخبار کے قارئین کے ساتھ ظلم تھا۔ چنانچہ گورنر موسیٰ کی تیسری تقریر کو اخبار میں، میں نے وہی پوزیشن دی جو اسے اصولی طور پر ملنی چاہیئے تھی۔ اگلے دن ڈائریکٹر اطلاعات و تعلقات عامہ نے مجھ سے ”ہدایت کی خلاف ورزی“ کی شکایت کی تو میں نے کہا ”یقین کیجئے قارئین کو گورنر صاحب کی تقریر حفظ ہو چکی ہے اور اب وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر وہ پُر اسرار بیان کہاں ہے ۔ جس کی تردید کے لئے گورنر صاحب روز روز یہ تقریر فرما رہے ہیں۔“
” اس بیان کی اشاعت ملکی مفادکے خلاف ہے ۔” ڈائریکٹر نے جواب دیا۔“
” تو پھر اس کی تردید آپ روز روز اس قدر نمایاں طور پر کیوں شائع کروارہے ہیں؟ ا س طرح تو قارئین کے ذہن میں ملکی مفاد کے خلاف اس بیان کے بارے میں خواہ مخواہ تجسس پیدا ہو رہا ہے۔“ میں نے کہا۔
ظاہر ہے کہ ڈائریکٹر مذکور کے پاس میری اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا پریس پر پابندی کا فوری فائدہ تو حکومت کو پہنچتا ہے ۔ مگر اس کے دور رس نتائج اس کے لئے عموماً تباہ کن ہوتے ہیں۔ کیونکہ پابندیوں میں جکڑا ہوا پریس تصویر کا صرف ایک رخ پیش کرتا ہے اور قارئین کے ذہنوں میں تصویر کے اس دوسرے رخ کے بارے میں تجسس بڑھتا رہتا ہے۔ جسے ان کی نظروں سے دور رکھنے کی بھونڈی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ تجسس آہستہ آہستہ اسی طوفان کا پیش خیمہ بن جاتا ہے جسے روکنے کے لئے پریس پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔
ایوب خان نے نیشنل پریس ٹرسٹ قائم ہی اس مقصد کے لئے کیا تھا کہ اخبارات کی اکثریت براہ راست سرکاری کنٹرول میں رہے۔ یہاں میں عزیز احمد کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو اس زمانے میں نیشنل پریس ٹرسٹ کے چیئرمین تھے اور جنہیں چند برس بعد بھٹو کے دست ِ راست کے فرائض انجام دینے تھے۔
عزیز احمد سے براہِ راست میرا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ میں صرف یہ جانتا تھا کہ وہ امریکی لابی کے آدمی ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں ایوب خان کا اعتماد حاصل ہے ایک روز کی بات ہے نواب شاہ سے ایک شخص آکر مجھے ملا اور کہنے لگا کہ اسے پریس ٹرسٹ کے چیئرمین نے بھیجا ہے ۔ میں نے آنے کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ وہ نواب شاہ میں مشرق کا نامہ نگار بننا چاہتا ہے۔ میں نے کہا کہ نواب شاہ میں پہلے سے مشرق کا نامہ نگار موجود ہے اس لئے کسی نئی تقرری کا کوئی جواز نہیں۔ مگر اس شخص نے اصرار کیا میں اس سلسلہ میں عزیز احمد صاحب سے بات کروں۔ میں نے جواب دیا کہ مجھے بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اگر عزیز احمد چاہیں تو خود مجھے سے بات کر سکتے ہیں۔ اس وقت تو وہ شخص چلا گیا۔ لیکن اگلے روز مجھے عزیز احمد کی طرف سے سفارش موصول ہوئی کہ وہ ایک شخص کو میرے پاس بھیج رہے ہیں۔ جسے فوری طور پر نواب شاہ میں مشرق کا نامہ نگار مقرر کر دیا جائے۔ اسی شام کو وہ شخص تقرر نامہ لینے کے لئے آگیا۔ میں حیران تھا کہ عزیز احمد نے تو بڑے سے بڑے معاملات میں بھی کبھی مداخلت نہیں کی تھی ، وہ ایک معمولی معاملے میں سفارش کرنے پر کیسے تیار ہوگئے تھے۔
میں اس شخص سے پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔ ” چیئرمین تو صاحب قسم کے آدمی ہیں۔ آپ کی رسائی ان تک کیسے ہوئی؟ انہوں نے تو کبھی کسی کی سفارش نہیں کی۔“
اس شخص نے مسکرا کر جواب دیا۔ ” سفارش کیسے نہ کرتے ۔ میں بھٹو صاحب کا آرڈر لے کر آیا تھا۔“
میں ایک دم چونکا۔ مگر پھر سنبھل کر بولا۔ آپ مذاق کر رہے ہیں۔ بھٹو صاحب کا تو نام بھی ہمارے اخبار میں نہیں چھپ سکتا۔ ہمارے چیئرمین کو بھٹو صاحب آرڈر کیسے دے سکتے ہیں۔؟“
” میں جھوٹ نہیں بول رہا۔“ اس شخص نے جواب دیا۔ ”بھٹو صاحب کا ہی خط لے کر آیا تھا۔“
”کیا خط لکھا تھا بھٹو صاحب نے “؟ میں نے تجسس کے ساتھ پوچھا۔
” صرف دو جملے۔ مائی ڈیئر عزیز، رقعے کے حامل کا کام فوراً کردو“۔ اس شخص نے جواب دیا۔
میں نے یہ واقعہ اس لئے درج کیا ہے کہ قارئین ان خفیہ روابط کے بارے میں جان سکیں جو بھٹو نے ایوب خان کے ” وفادار“ افسروں کے ساتھ قائم کر رکھے تھے۔ حیرت کی بات میرے لئے یہ تھی کہ ” امریکی لابی“ سے تعلق رکھنے والے عزیز احمد اور بھٹو جیسے پُرجوش چین نواز کے درمیان قدرِ مشترک آخر کیا ہے؟ عزیز احمدکو تو بھٹو کے سائے سے بھی بھاگنا چاہیئے۔ وہ ایسے خطرناک حالات میں بھی سابق وزیر خارجہ کے احکامات کی تعمیل کرنا ضروری کیوں سمجھتے ہیں۔؟

(جاری ہے۔۔۔)

Scroll To Top