بلوچستان میں علیحدگی پسندی دم توڈ رہی

zaheer-babar-logo

کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق صوبائی وزیر داخلہ نواب ذادہ گزین مری کی ضمانت منظور کرلی ہے جس کے بعد انھیں کوئٹہ کی ڈسڑکٹ جیل سے رہا کردیا گیا۔ نواب گزین مری رواں سال 22 ستمبر کو 17سال کی جلاوطنی کے بعد دوبئی سے کوئٹہ پہنچے جہاں پولیس نے انھیں گرفتار کرلیا۔یاد رہے گزین مری نوے کی دہائی میں بلوچستان کے وزیر داخلہ کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ “
بظاہر بلوچستان میں قیام امن ماضی کی طرح اب بھی بڑا چیلنج ہے۔ لسانی ، سیاسی اور مذہبی پرتشدد گروہ آئے روز صوبہ میں کشت وخون کرکے عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہکاروں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مرتکب پائے جاتے ہیں مگر شک نہیں کہ صوبہ میں امن وامان کی صورت میں کسی نہ کسی شکل میں بہتری آئی ہے ۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ بلوچستان کے ان جلاوطن رہنماوں سے سنجیدہ بات چیت کا آغاز کرنا چاہے جو برطانیہ اور سوئزر لینڈ میں بیٹھ کر پاکستان دشمن قوتوں کے ہاتھوں استمال ہورہے ۔ حالیہ دنوں میں لندن اور جنیواءمیں بلوچستان کی آزادی بارے گاڈیوں پر لگنے والے پوسٹر بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ان ہی بلوچ سرداروں کی کارستانی قرار دی گی۔ یہ تجزیہ اہم ہے کہ بلوچستان کی آزادی کے نام پر ملک دشمن قوتوں کے ہاتھوں میںکھیلنے والوںکو کسی طور پر کچھ نہیںملنے والا۔ حالیہ دنوں میںبلوچستان میں قیام امن کے لیے سیکورٹی فورسز نے جس انداز میں بھرپور کاروائیاں کیں اس کے خاصے مثبت اثرات مرتب ہوئے۔
بلوچستان میں حالات کوبہتر بنانے میں جس فریق کو بنیادی کردار ادا کرنا ہے وہ بجا طور پر خود بلوچستان کے مذہبی وسیاسی قائدین ہیں۔ ماضی کی طرح یہ ممکن نہیں کہ مسائل کا بوجھ دوسروں پر لادھ کر خود سرخرو ہونے کی کوشش کی جائے۔ملک کے دیگر علاقوں کی طرح اہل بلوچستان میں بھی یہ خیال فروغ پذیر ہے کہ ماضی میں ان کے منتخب نمائندوں نے ایسی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا جس کی بجا طور پر ضرورت تھی ۔مخصوص حوالے سے تو یہ بھی کہا جاسکتا کہ رقبے کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں احساس محرومی کو اپنے انفرادی اور گروہی مفادات کے لیے استمال کیا گیا۔ اس تجزیہ کو مسترد کرنا آسان نہیںکہ بلوچستان کا حکمران طبقہ دانستہ طور پر صوبہ میںمسائل کو پروان چڑھاتا رہا۔ شائد کہیں نہ کہیں یہ سمجھ لیا گیا کہ جب تک بلوچستان میں بنیادی ضروریات زندگی کا فقدان رہیگا ، اسلام آباد میں برسر اقتدار آنے والے ہر حکمران سے وافر مقدار میں فنڈز لیے جاتے رہینگے۔ صوبے کے ساتھ ظلم یہ ہوا کہ ایک طرف وفاق پر یقین رکھنے والوں نے مبینہ طور پر اپنی جبیں بھریں تو دوسری جانب پاکستان کی مخالفت کرنے والے بھی ملک کے اندر اور باہر اثاثوں میںاضافہ کرتے رہے۔
اقوام عالم کی تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں جب بھی بہتری آئی وہ دراصل عام آدمی کے سیاسی شعور کی بدولت ممکن بنی ۔ یقینابلوچستان میں بھی پرنٹ ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا کے نتیجے میںعام آدمی میں سیاسی سمجھ بوجھ میں اضافہ ہوا ۔لوگ اس حقیقت کا ادراک کرنے لگے ہیں کہ ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا سوائے تباہی وبربادی کے اور کچھ نہیں لہذا بلوچستان میں ان ہی لوگوں کی سیاست فروغ پذیر ہے جو ملکی اتحاد اور یکجتی پر یقین رکھتے ہیں۔
پاکستان کی تعمیر وترقی کے لیے ہمیں انفرادی اور گروہی مفادات کی قربانی دینا ہوگی۔ اپنی صفوں میں سے ان عناصر کو نکال باہر کرنا ہوگا جو کسی نہ کسی شکل میں نفاق کا بیج بو رہے۔ سمجھ لینا چاہے کہ بلوچستان میں علحیدگی پسند جماعتوں کا کمزور ہونا ہرگز معمولی پیش رفت نہیں،بادی النظر میں یہ حقیقت ان پر آشکار ہوچکی کہ اب صوبے کا نوجوان آنکھ بند کر سہانے سپنوںپر یقین کرنے کو تیار نہیں۔
سی پیک کی شکل میں بلوچستان کی سیاسی قیادت کو ایک اور موقعہ ملا ہے کہ وہ اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے اخلاص اور بصیرت کا مظاہرہ کرے۔پاک چین دوستی کی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہیںکہ آنے والے دنوں میں سی پیک میں شامل منصوبوں کا حجم بڑھ سکتا ہے ۔ون بیلٹ ون روڈ کے نتیجے میں جنوبی ایشیاءہی نہیں دنیا بھر میں سی پیک اپنی افادیت منوانے جارہا ۔یہ خدشہ بے بنیاد نہیں کہ سی پیک عام آدمی کی حالت بہتر بنانے کی بجائے طاقتور طبقات کی دولت میں اضافے کا سبب نہ بن جائے۔ بلوچستان میں حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں کو بھی آنکھیں کھلی رکھنا ہونگی۔ صوبے کے وسیع تر مفاد میں ہر اس منفی ہتکھنڈے کو ناکام بنانا ہوگا جو تعمیر وترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ ماضی میں جو ہوا سو ہوا مگر اب مسقبل میں ایسا نہیں ہونا چاہے کہ صوبے کا مفاد کسی گروہ کے مفاد پر بالادستی حاصل کرلے۔بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کو سمجھ لینا چاہے کہ بلوچستان میں وفاقی کی نمائندہ سیاسی جماعتیں تیزی سے اپنا اثررسوخ پھیلا رہی ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف اور اب پاک سرزمین پارٹی جڑیںمضبوط کررہیں۔ صوبے میں ان دنوں پی ایم ایل این کی حکومت ہے مگر کارکردگی ایسی نہیں جو دوہزاراٹھارہ کے عام انتخابات میں ایک بار پھر اسے کامیابی دلا دے۔نئے سیاسی منظر نامہ میں کئی اور قوتیں سامنے آسکتی ہیں جو صوبہ کی روایتی جماعتوں کے لیے سیاسی طور پر مشکلات کھڑی کردیں۔ بعض حلقے یہ دعوی کررہے کہ آنے والے دنوں میں بلوچستان کے چند اور خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والے رہنما پاکستان واپس آکر اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرسکتے ہیں۔

Scroll To Top