غدار کون او ر محب وطن کون ؟ 29-6-2012

kal-ki-baat

امریکہ پاکستان میں کتنی سرگرمی اور کس قدر توانائی کے ساتھ سرگرم عمل ہے اس کا اندازہ ملک بھر میں بالعموم اور بلوچستان میں بالخصوص جاری دہشت گردی کی کارروائیوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ وہ دانشور طبقہ بھی بھرپور انداز میں سرگرم عمل ہے جسے پاکستان کی سیاست میں اسلام کا عمل دخل تو دور کی بات ہے ” ذکر “ تک بھی ایک آنکھ نہیں بھاتا۔
اس طبقے سے وابستہ ” روشن خیال “ دانشوروں نے کافی عرصے سے یہ حکمت عملی اختیار کررکھی ہے کہ جہاں بھی ” اسلام “ کا ذکر آتا ہے یا ہوتا ہے وہ فوراً ہی ” انتہا پسندی “ یا ” دہشت گردی “ جیسی اصطلاحوں کو اپنے ” دلائل“ میں گھسیٹ لاتے ہیں۔میں گزشتہ شب محترمہ عاصمہ جہانگیر کی گوہر فشانیاں سن رہا تھا۔ وہ کہہ رہی تھیں۔
” ہماری عدلیہ کی پسندیدہ سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف ہیں۔ اسی وجہ سے سارے فیصلے پی پی پی کے خلاف دیئے جارہے ہیں۔“
یہ الفاظ سن کر میں چونکے بغیر نہ رہ سکا۔زیادہ عرصہ نہیں گزرا محترمہ عاصمہ جہانگیر ملک کی عدلیہ کے بارے میں ایسے ” جارحانہ “ خیالات نہیں رکھتی تھی۔
مگر آج وہ فوج کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے خلاف بھی سینہ سپر نظر آتی ہیں۔ فوج پر تو چند ہی روز قبل موصوفہ نے الزام لگایا تھا کہ ان کی جان لینے کے درپے ہے۔
میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ امریکہ نے اپنے ” پروردہ عناصر “ کو واضح طور پر یہ ہدایات جاری کردی ہیں کہ ” حکمرانی اتحاد “ کو ہر قسم کی ” اخلاقی “ حمایت مہیا کریں۔ آپ کویاد ہوگا کہ گزشتہ دنوں الطاف بھائی نے ایک دھواں دار بیان میں کہا تھا کہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ کو غدار قرار دینے والے غدار ہمیشہ غدار ہی کہلائے گا۔ خود قابلِ گردن زدنی ہیں۔ مسئلہ اس ضمن میں یہ ہے کہ غدار کو اگر غدار قرار نہ دیا جائے تو وہ خود بخود محب وطن قرار نہیں پا جاتا!

Scroll To Top