ہمارے خواب وخیال میں بھی نہیں تھا کہ اس بھولے بھالے شخص کے اندر ایک قارون بھی چھپا ہوا ہے اور ایک فرعون بھی۔

aaj-ki-bat-logo

اس امر میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ میاں نواز شریف ایک ایسا ”سیاسی پودا“ تھے جس کی آبیاری فوجی جنرلز نے کی اور اسے ایک تناور درخت بنوایا۔ عام طور پر اس ضمن میں صرف جنرل جیلانی اور جنرل ضیا الحق کا نام لیا جاتا ہے۔ جنرل ضیا الحق کے بارے میں تویہ بھی کہا جاتا ہے کہ میاں نواز شریف انہیں اپنا ”منہ بولا باپ “ کہا کرتے تھے۔
لیکن میاں نواز شریف کو ایک حقیقی تناور درخت بنا نے میں جنرل حمید گل نے خاصا اہم کردار ادا کیا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب جنرل حمید گل آئی ایس آئی کے سربراہ تھے۔ اور طے یہ بات ہونی تھی کہ ” ایک اور جنم پانے والی“ مسلم لیگ کا کنٹرول کسے دیا جائے گا۔ ” غلام مصطفی جتوئی مرحوم کو یا میاں نواز شریف کو۔؟“
آئی جے آئی کے خالق جنرل حمیدگل نے اپنا وزن میاں نواز شریف کے پلڑے میں ڈال کر پاکستان کے مقدّر کو ایک مخصوص راستے پر ڈال دیا۔
جنرل حمید گل کے ساتھ میری دوستی کا آغاز 1996میں ہوا۔ ہم دونوں میں ایک قدرِ مشترک تھی۔ دونوں کے خوابوں میں ”نشاةِ اسلامیہ “ کا تصور رچا بسا تھا۔
1998میں ایک گفتگو کے دوران میں نے جنرل حمید گل سے کہا۔
” کیا آپ کو معلوم ہے جنرل صاحب کہ آپ نے ایک جرم بھی کیا ہے۔ اور وہ بھی ایسا کہ تاریخ شاید آپ کو معاف نہ کرے۔؟“
” وہ کون سا ؟“ جنرل صاحب بولے۔ ” آپ نے اس عفریت کو جنم دیا ہے جسے نون کہتے ہیں اور جس کی گود میں آپ نے قائد اعظم ؒ کی میراث یعنی مسلم لیگ ڈال دی ہے۔ آپ نے ایسا کیوں کیا؟“
جنرل صاحب کچھ دیر تک تو خاموش رہے۔ پھر بولے۔” آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ یہ ایک جرم ہی تھا جو مجھ سے سرزد ہوا۔ ہم دیانت داری سے بے نظیر بھٹو کو ایک سیکورٹی رِسک سمجھتے تھے۔ بعد میں مجھے اپنی اس سوچ کو تبدیل کرنا پڑا۔ لیکن تب ہمیں ایک ایسے شخص کی تلاش تھی جو بے نظیر بھٹو کا راستہ روکنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ہماری نظرِ انتخاب میاں نواز شریف پر پڑی کیوں کہ اور کوئی ہمیں نظر ہی نہ آیا۔ میرا خیال یہ تھا کہ یہ سیدھا سادہ بھولا بھالا سا شخص ہے۔ اس کے اندر فتنہ سازی کی صلاحیت بالکل نہیں ہوگی۔ مجھے دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ میرا خیال غلط ثابت ہوا ہے۔ ہمارے خواب وخیال میں بھی نہیں تھا کہ اس بھولے بھالے شخص کے اندر ایک قارون بھی چھپا ہوا ہے اور ایک فرعون بھی۔ “

Scroll To Top