محض امریکہ پر الزام تراشی درست نہیں

zaheer-babar-logo

امریکہ وزارت دفاع کے مطابق اس وقت پچیس ہزار سے زائد امریکی فوجی محض تین ملکوں میں موجود ہیں۔ ان ملکوں میں عراق، افغانستان اور شام شامل ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل کسی بھی ملک میں امریکی افواج کی حتمی تعداد نہیں بتائی گی۔ پینٹاگوں کے ڈیٹا سینڑ کے مطابق افغانستان میں پندرہ ہزار 298، عراق میں آٹھ ہزار 892 جبکہ شام میں ایک ہزار 720 بتائی گی ہے۔ “
دنیا کی اکلوتی سپرپاور کہلانے کی دعویدار ریاست کے سیاسی کردار پر ایک سے زائد آراءموجود ہیں مگر اقوام عالم کی اکثریت متفق ہے کہ اب تک امریکہ کا کردار مثبت سے کہیں زیادہ منفی ہے۔ واشنگٹن اپنے دیرینہ مقاصد کے حصول کے لیے اس کراہ ارض پر اس طرح متحرک ہے کہ اس کے نتیجے میں امن، مساوات اور خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا مشکل ہوچکا۔ تاریخی طور پر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ امریکہ کا اس وقت دنیا میں وہی کچھ کررہا جو کسی بھی دور کی سپرپاور کرتی رہی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کا اپنا مزاج ہوا کرتا ہے۔ دراصل اففان جنگ کے نتیجے میں امریکہ کی حریف ریاست روس کو اس انداز میں شکست ہوئی کہ اس کے لیے اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ۔ یہ حقیقت ثابت ہوچکی کہ اگر امریکہ روس کو سبق سکھانے کے لیے اففان جنگجو گروہوں کی بھرپور حمایت نہ کرتا تو شائد روس کو اس عبرتناک انجام سے دوچار نہ ہوتا۔
پینٹاگون کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد وشمار اس تجزیہ پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں کہ امریکہ بہادر کا جارحانہ رخ مسلم ممالک کی جانب ہی ہے۔ آسان الفاظ میں یوں کہا جاسکتا کہ امریکہ فوجی طاقت کے بل بوتے پر مسلم ملکوں پر اپنی مرضی مسلط کرکے انھیں اپنے مفادات کے حصول کے لیے استمال کرنے میں مصروف ہے۔ مسلم دنیا میں اسلام اور مسلمان دشمنی کے حوالے سے امریکہ پر الزام تراشی کرنے والوں میں ایک طرف القائدہ ، طالبان اور بوکوحرام جیسے پرتشدد گروہ پیش ہیں تو دوسری جانب عام مسلمان یا بشیتر دانشوروں کی رائے بھی مختلف نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ امریکہ سے نفرت کے جذبات عام ہیں ۔مسلم معاشروں کی اکثریت اس پر یقین رکھتی ہے کہ امت مسلمہ کی زبوں حالی کی بنیادی وجہ یہ کہ امریکہ ”سازش “کے تحت قومی وسائل پر قبضہ کرکے پسماندہ رکھے ہوئے ہے۔ اس رائے کو تقویت پینٹاگون کی جانب سے ان ملکوں کے نام ظاہر کرنے پر بھی ملی جن میں ہزاروں امریکی فوجی تعینات ہیں۔ یقینا یہ پہلو اہم ہے کہ جن ملکوں میں بڑی تعداد میں امریکہ فوجی موجود ہیں وہ سب ہی مسلمان ریاستیں ہیں۔ یہاں یہ سوال اور بھی اہمیت اختیار کرجاتا ہے کہ وہ کون سے وجوہات ہیں جس کی بنا پر امریکہ اپنے ہزاروں فوجی مسلمان ملکوں میں رکھنے پر مجبور ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ وسائل سے پر درجنوں مسلمان ملکوں کے حکمرانوں میں اہلیت ہی نہیں کہ وہ اپنے ہاں موجود انواع واقسام کی قدرتی معدنیات سے فائدہ اٹھا کر مسائل پر قابو پاسکیں۔ موروثی بادشاہتوں نے مسلمان ریاستوں کے حکمران طبقات کو مسلسل خوف زدہ کر رکھا ہے ۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیںکہ آمریت علم وحکمت کی دشمن ہوا کرتی ہے۔ فرد واحد نہیں چاہتا کہ اس کی رعایا فکروخیال کے نیے جہانوں سے روشناس ہو جس کے نتیجے میں خود اس کا اقتدار خطرے میں پڑجائے۔ ادھر امریکہ مسلمان ملکوں میں محض کہنے کی حد تک جمہوری نظام رائج کرنے کا حامی ہے مگر عملا وہ فرد واحد ہی کو پسند کرتا ہے تاکہ آسانی سے اس سے اپنے مقاصد پورے کرسکے۔
نائن الیون کے بعد امریکہ نے طے شدہ حکمت عملی کے تحت مسلمان ملکوںکو نشانہ بنایا۔ افغانستان ، عراق،لیبیا، شام اور یمن میں مداخلت کے نتیجے میں انکل سام اپنے منصوبوں کی تکمیل کرگیا جو کئی دہائیوں سے التواءکا شکار تھے۔
اقبال نے کہا تھا کہ
تقدیر کے قاضی کا فتوی ہے ازل سے
یہ جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات “
مسلم اشرافیہ کے لیے لازم ہے کہ وہ امریکہ کو مسائل کا زمہ دار قرار دینے کی بجائے اپنی ان کمزوریوں اور خامیوںکا باغور جائزہ لے جو بدترین شکل میں موجود ہیں۔ پوچھا جاناچاہے کہ دولت کے انبار پر براجمان مسلمان حکمرانوں کو کس نے روکا کہ وہ اپنے ہاں جدید علوم وفنون سے آراستہ درسگاہیں نہ بنائے۔ دراصل عصر حاضر میں علم کی اہمیت وہی ہوچکی جو زندگی کے لیے آکسیجن کی ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ مسلم معاشروں کے پڑھے لکھے طبقہ بھی حالات کی سنگینی کا ادراک نہیں کرپارہے۔ بظاہر مسلم دنیا میں علم وآگہی کی بھرپور حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی لہذا یہاں کے سوچنے سمجھنے والے حلقوں کی قابل زکر تعداد مغربی ملکوں میں رہنے کو ترجیح دیتی ہے۔
عصر حاضر میں تیزی سے ہوتی ترقی کی بدولت قوموں کے درمیان فاصلے سمٹ چکے۔ آج ہر ملک اپنی خوبیوں اور خامیوں سے بڑی حد تک آگاہ ہے۔ ایک دوسرے کے حالات سے تیزی سے واقفیت حاصل کرنے کا رجحان مسلم معاشروں میں بہتری کی خواہش کو بیدار کرچکا۔آمریت کے برعکس مغربی ملکوں میں رائج جمہوری نظام اپنے عوام کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ ہر چار یا پانچ سال کے بعد اقتدار اپنے منتخب نمائندوں کو سونپ دیں۔ بلاشبہ مسلم دنیا میں بے چینی میں موجود ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ ایسے جذبات کو مثبت رخ کی جانب نہیں ڈال جارہا جو دینی احکامات کی روشنی میں بہتر ، پرامن اور خوشحال زندگی گزرنے کا موقعہ دے ڈالیں۔

Scroll To Top