خبردار! بٹ کوائن میں سرمایہ کاری آپ کو کنگال کردے گی، ماہرین

sاس سال گیارہ ماہ کے دوران بٹ کوائن کی قیمت میں 800 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

کراچی: بٹ کوائن (Bitcoin) کے نام سے 2009 میں منظرِ عام پر آنے والی سائبر کرنسی نے اس سال اپنی قیمت میں اضافے کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں اور اس کے ایک یونٹ کی قیمت 10 ہزار امریکی ڈالر (10 لاکھ 55 ہزار پاکستانی روپے ) پر پہنچنے ہی والی ہے۔ لیکن اسی صورتِ حال کو دنیا کے مختلف ماہرینِ معاشیات خطرناک بھی قرار دے رہے ہیں اور لوگوں کو خبردار کررہے ہیں کہ بٹ کوائن میں سرمایہ کاری انہیں کنگال اور قلاش کرسکتی ہے۔

واضح رہے کہ بٹ کوائن ایک ایسی کرنسی ہے جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں بلکہ یہ صرف انٹرنیٹ کے ذریعے (آن لائن) لین دین اور سرمایہ کاری ہی میں استعمال ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ کسی ملک کی سرکاری کرنسی بھی نہیں جبکہ دنیا کے بیشتر بینک بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول ہی نہیں کرتے۔ اس کے باوجود آج دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی کا مجموعی حجم 400 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے جس میں سب سے بڑا حصہ بٹ کوائن کا ہے۔

البتہ بٹ کوائن پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اسے انٹرنیٹ پر جرائم کی دنیا یعنی ’’ڈارک ویب‘‘ میں منشیات سے لے کر خطرناک اسلحے تک کی غیرقانونی خرید و فروخت میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جارہا ہے کیونکہ بٹ کوائن کے ذریعے آن لائن لین دین کرنے والے افراد اور اداروں کا سراغ لگانا بہت ہی مشکل ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ 2010 کی ابتداء تک بِٹ کوائن کے ایک یونٹ کی قیمت ایک سینٹ (پاکستانی ایک روپے) سے بھی کم تھی لیکن 2011 میں اس نے بڑھتے بڑھتے ایک ڈالر فی یونٹ کی قدر حاصل کرلی۔ موجودہ سال یعنی 2017 کے ماہِ جنوری میں بٹ کوائن کا ایک یونٹ 800 ڈالر تک پہنچ چکا تھا جو صرف گیارہ مہینے میں دیکھتے ہی دیکھتے 9930 امریکی ڈالر پر پہنچ گیا اور ہوسکتا ہے کہ یہ اگلے چند گھنٹوں یا چند دنوں میں 10000 ہزار ڈالر فی یونٹ کا بینچ مارک بھی عبور کرلے۔ لیکن یہی چیز بینکاری اور مالیاتی نظام سے وابستہ ماہرین کےلیے تشویش کا باعث بھی ہے۔

ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ اس وقت بٹ کوائن کے ایک یونٹ کی قیمت عالمی منڈی میں سونے کے ایک اونس سے بھی بڑھ چکی ہے جبکہ دنیا بھر میں بٹ کوائن میں کی گئی سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت آئی بی ایم، ڈزنی اور مک ڈونلڈ کے انفرادی اثاثوں سے بھی بڑھ چکی ہے۔ حالیہ گیارہ مہینوں کے دوران بٹ کوائن کی قیمت میں 800 فیصد اضافہ ہوچکا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ایف ٹی ایس ای (برطانوی اسٹاک ایکسچینج کی 100 نمائندہ کمپنیوں) کی مجموعی مالیت میں ہونے والا اضافہ صرف 3.8 فیصد پر رہا ہے۔

اس وقت انٹرنیٹ پر بہت سے لوگوں کی کہانیاں بھی گردش کررہی ہیں جنہوں نے آج سے سات یا آٹھ سال پہلے صرف چند ڈالروں میں بٹ کوائن یونٹس خریدے تھے اور آج وہ کروڑ پتی بن چکے ہیں۔ ایسی کہانیوں کے ذریعے انٹرنیٹ پر یہ پیغام پھیلایا جارہا ہے کہ اگر آج کوئی بٹ کوائن یونٹس خریدے گا تو وہ اگلے چند سال میں کھرب پتی بن جائے گا؛ اور لوگ اس کا اثر بھی قبول کر رہے ہیں۔

بٹ کوائن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے دنیا میں بہت سے سرمایہ دار اس نئی کرنسی کی طرف متوجہ ہورہے ہیں اور بڑے پیمانے پر اسے خریدنے میں مصروف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف ایک ہفتے میں بٹ کوائن کی قیمت میں مزید 15 فیصد کا اضافہ ہوگیا اور اس کی تازہ ترین قیمت 9930 ڈالر فی یونٹ بتائی جارہی ہے، یعنی یہ دس ہزار ڈالر فی یونٹ کا بینچ مارک حاصل کرنے کے بہت قریب ہے۔

بینکاری اور مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل آزمائشی مرحلہ بھی اسی وقت شروع ہوگا کیونکہ بٹ کوائن خریدنے والے بیشتر لوگ اس بینچ مارک (10 ہزار ڈالر فی یونٹ) کے آتے ہی بٹ کوائن فروخت کرنا شروع کرسکتے ہیں کیونکہ ان کا اصل کام ہی کرنسی کی خرید و فروخت سے منافع کمانا ہے۔ تاہم یہ صورتِ حال خود بٹ کوائن کےلیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ اس کرنسی کے پیچھے نہ تو کوئی حکومت ہے اور نہ ہی کوئی قابلِ بھروسہ مالیاتی ادارہ جو اس کی گرتی ہوئی قدر (ویلیو) کو کنٹرول کرسکے۔

یہ اور ان جیسی کئی باتوں کی بنیاد پر مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بِٹ کوائن دراصل ایک مالیاتی بلبلہ ہے جو اس وقت پھیل ضرور رہا ہے لیکن اپنی آزادانہ حیثیت اور ٹھوس معیشت کی عدم موجودگی میں یہ بلبلہ جلد ہی پھٹ جائے گا، بٹ کوائن کی فی یونٹ قیمت بڑی تیزی سے کم ہوجائے گی اور اس میں سرمایہ کاری کرنے والے لوگ ایک ہی جھٹکے میں مجموعی طور پر کھربوں ڈالروں سے محروم ہونے کے بعد پائی پائی کے محتاج بھی ہوسکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ مالیات عام لوگوں کو خبردار کررہے ہیں جبکہ بعض ناقدین تو بِٹ کوائن کو ’’فراڈ‘‘ تک قرار دے چکے ہیں۔

Scroll To Top