فیس بک نے اسنیپ چیٹ کا ایک اور فیچرچُرالیا

eفیس بک کے بعض صارفین اسٹریکس فیچر دیکھ رہے ہیں جو اسنیپ چیٹ سے مستعار لیا گیا ہے۔ فوٹو: بشکریہ فیس بک

کیلیفورنیا: فیس بک نے اسنیپ چیٹ کے کئی فیچرز معمولی ردوبدل کے ذریعے استعمال کرنے کے بعد اب اسنیپ چیٹ کے ایک فیچر اسنیپ اسٹریکس کو متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا ہے جس کی آزمائش کی جارہی ہے۔

اس فیچر کے ذریعے فیس بک صارفین اپنے دوستوں کو آن لائن رہنے اور پیغامات بھیجنے پر مائل کرسکتے ہیں۔ اسنیپ اسٹریکس کی طرح فیس بک اسٹریکس فیچر پر کام کررہا ہے جس میں باقاعدگی سے میسجنگ کرنے والے دوستوں کے نام کے سامنے ایموجی ہوں گے۔ فیس بک چاہتا ہے کہ بات چیت کا یہ سلسلہ چلتا رہے۔

امریکہ اور دیگر ممالک میں کچھ صارفین کے اکاؤنٹ میں یہ فیچر شامل ہوگیا ہے اور اس کی آزمائش جاری ہے تاہم اسے لانچ کرنے کی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی۔

اسنیپ چیٹ کے اسنیپ اسٹریک فیچرمیں ایک شخص کو زیادہ سے زیادہ تصاویر بھیجی جاتی ہیں اور انہیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اسٹریک کی میعاد ختم ہونے جارہی ہے۔ فیس بک ترجمان نے کہا ہے کہ اس فیچر کے ذریعے آپ میسج کرنے والے لوگوں کے بارے میں دلچسپ حقائق دیکھ سکیں گے۔

فیس بک ترجمان کے مطابق اگر آپ کسی دوست کو لگاتار تین دن تک میسج کرتے ہیں تو اس کے نام کے سامنے بجلی کے کڑاکے کی ایموجی آجاتی ہے اور کاؤنٹر سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس کے ساتھ مسلسل کتنے دنوں سے چیٹ کررہے ہیں اورہم جاننا چاہتے ہیں کہ آیا لوگ اسے پسند کرتے ہیں یا نہیں لیکن اس فیچر کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں بتائی جاسکیں۔

اسنیپ چیٹ کی طرح فیس بک آپ کے ہر دوست کے نام کے سامنے ایک کاؤنٹر لگائے گا جس سے آپ معلوم کرسکیں گے کہ دوست کو آپ کتنے پیغامات دے چکے ہیں۔

واضح رہے کہ اسنیپ چیٹ کا یہ فیچر بہت مقبول ہے جس میں لوگ اسٹیکس یعنی مسیجنگ کے سلسلے کو زیادہ سے زیادہ طول دینے کی کوشش کرتے ہیں اور دوست ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں، اسی بنا پر فیس بک نے اسنیپ چیٹ کے بہت سے فیچر کاپی کرکے استعمال کیے ہیں اسے تجزیہ کاروں نے اسنیپ چیٹائزیشن کا نام بھی دیا ہے۔

قبل ازیں مارچ 2016ء میں فیس بک نے اسنیپ چیٹ سے فلٹر کاپی کیے تھے پھر اپریل 2016ء میں کیو آر کوڈز متعارف کرائے پھر اسنیپ چیٹ ہی کی طرز پر دسمبر 2016ء میں لوکیشن بیسڈ فلٹرز اور ان ایپ کیمرا پیش کیا گیا، مارچ 2017ء میں اسٹوریز اور اب اسٹریکس کی نقل کی گئی ہے۔

Scroll To Top