آخر کب تک ؟ 28-6-2012

kal-ki-baat

مسلم لیگ (ن)کے قائد میاں نوازشریف کا فرمانا ہے کہ آئندہ انتخابات میں ان کی جماعت سندھ کا میدان مارلے گی۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ مسلم لیگ )ن(اپنے صوبے یعنی پنجاب میں اپنی حیثیت برقرار رکھ سکے گی یا نہیں۔ مگر کہنا وہ یہی چاہتے ہیں کہ سندھ میں کامیابی کے بعد ان کے لئے اسلام آباد میں اپنی حکومت قائم کرنا کوئی مشکل کام نہیں رہے گا۔یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کی خواہش میاں صاحب پر اس قدر شدت کے ساتھ غالب ہے کہ اس کی تکمیل کے لئے وہ کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں۔اگر صدر زرداری کو میاں صاحب کی اس خواہش (بلکہ اس کمزوری)کا پوری طرح علم نہ ہوتا تو وہ اٹھارہویں ترمیم منظور کرانے سے لے کر اپنی حکومت کو مستحکم بنانے کے عمل تک میاں صاحب کا ” تعاون “ اس قدر کامیابی کے ساتھ حاصل نہ کرپاتے۔ یہ جو ” فرنیڈلی اپوزیشن “ کی ترکیب کا ذکر ہم اکثر سنا کرتے ہیں اس کا تعلق میاں صاحب کی اسی خواہش سے ہے کہ وہ اسلام آباد پر ایک با ر پھر قابض ہوں گے۔

یہاں جو سوال بڑی توانائی کے ساتھ ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ ” وہ پنجاب کو عمران خان کی طوفانی یلغار سے کیسے بچاپائیں گے ۔؟“
عوام کا موڈ خاصا بپھرا ہوا ہے۔ اگر وہ مرکز کے حکمران اتحاد کی بدعنوانیوں اور نا اہلیوں کا شکار رہنے کے بعد ” پی پی پی “ کے نعروں سے دل برداشتہ ہوچکے ہیں تو جو صورتحال پنجاب میں نظر آرہی ہے اس سے بھی وہ اتنی ہی شدت کے ساتھ ناخوش اور مایوس نظر آتے ہیں۔اس حقیقت کو جھٹلانا مسلم لیگ (ن)کے لئے ممکن نہیں کہ اسے تقریباً پندرہ برس تک پنجاب کو براہ راست اپنے کنٹرول میں رکھنے کا موقع ملا ہے۔ کیا پنجاب میں امن وامان کی صورتحال اور ” ترقی ‘ ‘ کی رفتار کو مثالی قرار دیاجاسکتا ہے۔؟
جو بات میں کہنا چاہتا ہوںوہ یہ ہے کہ اگلے انتخابات میں مقابلہ آزمائے ہوئے لوگوں اور ایسے لوگوں کے درمیان ہوگا جن کے خلاف عوام کو کوئی شکایت نہیں۔
عوام آخر کب تک ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جاتے رہیں گے ۔۔؟

Scroll To Top