یہ معاملہ چند سو یا چند ہزار مولویوں کا نہیں ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے ایمان کا ہے

aaj-ki-bat-logo

میں اس لحاظ سے پڑھا لکھا ہوں کہ میرے پاس انگلش لٹریچر کی ڈگری ہے اور کم از کم تین زبانوں پر مجھے معقول دسترس حاصل ہے۔ تیسری زبان سندھی ہے۔ لیکن اپنے آپ کو اِس لحا ظ سے ان پڑھ سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی پسندید ہ زبان عربی کو میں صرف اس حد تک جانتا ہوں جس حد تک بچپن میں مجھ سے اس کا ”رٹا“ لگوایا گیا تھا۔
یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ کلامِ الہیٰ یعنی قرآن سے ہماری کچھ آشنائی اچھے ترجموں اور ٹیکنولوجی میں ترقی کی وجہ سے ہوئی ہے اور مسلسل ہورہی ہے۔
ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگرہمارے معاشرے میں ”مولوی“ کا ادارہ صدیوں سے چلا نہ آرہا ہوتا تو ہمارے اندر صحیح طور پر کلمہ پڑھنے کی صلاحیت بھی مفقود ہوتی۔
میں یہاں کسی مسلک کی بات نہیں کر رہا۔ میں اس ادارے کی بات کر رہا ہوں جس کی تازہ ترین تشبیہ ہمارے سامنے علامہ خادم حسین رضوی کی صورت میں آئی ہے۔ میں یہاں بہت سارے دیگر”مولانا“یا ”علامہ“ حضرات کا نام بھی لے سکتا ہوں۔ ایسے حضرات جو باہمی طور پر یوں ٹکراتے ہیں جیسے میدانِ جنگ میں تلواریں آپس میں ٹکراتی ہیں۔
لیکن علامہ یا مولانا خادم حسین رضوی آج کا معروف ترین نام ہے۔ اِس لئے معروف ترین ہے کہ اس نام نے اپنا رشتہ جماعتی طور پر بھی اور فکری طور پر بھی ”لبیک یا رسول اللہ “ کی آواز کے ساتھ جوڑ کر ایک ہٹ دھرم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔
دین کے معاملے میں میری اپنی سوچ جیسی بھی ہے ”ختمِ نبوت “ اور ”ناموسِ رسالت “ محض الفاظ نہیں ، ہر سچے مسلمان کے ایمان کو گرم رکھنے والی حرارت ہے۔
وطنِ عزیز میں ایک خاص حلقہ یا طبقہ ایک عرصے سے موجود ہے جو دین کو سیاست سے الگ کرنے کے ناپاک عزائم رکھتا ہے۔ اسلام میں دین کو سیاست سے الگ کیا جاسکتا تو ہم ہادیءبرحق اور سرور کائنا ت کی امت ہی نہ رہتے۔
مجھے یقین ہے کہ ختمِ نبوت سے منسلک حلف نامے میں جو تبدیلی کی گئی وہ ایک ایسی سازش کا حصہ تھی جس کا مقصد آگے چل کر دین اور سیاست کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کا راستہ ہموار کرنا تھا۔
اس سازش میں وہ تمام لوگ شریک ہوں گے جو ”نواز شریف“ کو ”نظریاتی“ بنا چکے ہیں ۔
اس سازش کو فی الحال ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ لیکن جب تک اس کے پیچھے کار فرما عناصر کا قلع قمع نہیں ہوگا پاکستان کی نظریاتی اساس خطرے میں رہے گی۔
مجھے خوشی ہے کہ اس ” مقبول“ دلیل کو منہ کی کھانی پڑی ہے کہ چند سو ”مولوی نما“ حضرات کسی گزر گاہ پر جمگھٹا بنا کر ملک وقوم کو یرغمال نہیں بنا سکتے۔

Scroll To Top