مشہورِ زمانہ تصنیف”جھوٹ کا پیغمبر……

jhoot
مصنف غلام اکبر
29-11-2017 .
.قسط 25….


جہاں تک ان جغادی قسم کے ”ترقی پسندوں“ کا تعلق ہے جن کی ترقی ماسکوں کی سرپرستی، شفقت اور نوازشوں کی محتاج تھی۔ ان کے لئے پیپلز پارٹی ” لمحہ فکریہ“ بن کر نازل ہوئی تھی۔ ابتداءمیں اس قبیلے کے ترقی پسندوں نے یہ واویلا ضرور کیا کہ پیپلز پارٹی کی ترقی پسند ی“ جعلی ہے اور ”اصلی ترقی پسندی کے سول ڈیلر اور ڈسٹری بیوٹر“ ہم ہیں۔ لیکن جلد ہی انہیں احساس ہو گیا کہ ”نقلی مال“اپنے خوب صورت لیبل کی وجہ سے مارکیٹ پر تیزی سے چھا رہا ہے، اس لئے بہتری اسی میں ہے کہ وہ اپنے مال کے ”اصلی پن “ پر اترانے کی بجائے نقلی مال فروخت کرنے والوں کے ساتھ تجارتی سمجھوتہ کر لیں۔
بھٹو کی سٹرائکنگ پاور میں روز افزوں اضافہ ہو رہا تھا مگر وہ ایوب خان پر حملہ آور ہونے سے پہلے پوری طرح یہ اطمینان کر لینا چاہتا تھا کہ بوڑھے آمر کی قوتِ مدافعت جواب دے چکی ہے۔ ابھی تک اسے یہ اطمینان حاصل نہیں ہوا تھا کیونکہ جن ہاتھوں سے ایوب خان نے سانپ کو مارنے والی لاٹھی پکڑ رکھی تھی ان ہاتھوں میں ابھی تک رعشہ پیدا نہیں ہوا تھا۔ فی الحال اس لاٹھی کی زد میں آنے سے بچے رہنا ہی بہتر تھا۔ افسر شاہی اور فوج میں اس کے جوایجنٹ دوست اور ہمنوا تھے ان کی طرف سے بھٹو کو مفید معلومات، مشورے اور ہدایات باقاعدگی کے ساتھ مل رہی تھیں اور وہ کوئی بھی فیصلہ کن قدم ان معلومات، مشوروں اور ہدایات کی روشنی میں اٹھانا چاہتا تھا۔ بھٹو کے کسی بھی اقدام کی کامیابی کا انحصار دوباتوں پر تھا۔
۱۔ عوام کافی بڑی اکثریت میں بلا خوف و خطر ایوب خان کے خلاف اور بھٹو کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئیں۔
۲۔ فوج کے اندر بھٹو کے حامیوں کی پوزیشن اتنی مضبوط ہو کہ وہ ” امنِ عامہ کی بگڑتی ہوئی صورت حال“ کو بہانہ بنا کر اپنے فیلڈ مارشل کو گدی سے اتار سکیں۔
جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے، بھٹو کے پاس عوام کو ایوب خان کے خلاف مشتعل کرنے اور انہیں اپنی حمایت میں سڑکوں پر لانے کا ”جذباتی وعملی گولہ بارود“ موجود تھا۔ اس کے پاس بھارت کے ساتھ ایک ہزار سال تک جنگ کرنے کا نعرہ تھا اس کے پاس اعلانِ تاشقند کا بھوت تھا جسے وہ حسب منشا اور حسب ضرورت کھلا چھوڑ سکتا تھا۔ اس کے پاس غریب عوام کو روٹی ، کپڑا اور مکان مہیا کرنے کا سٹنٹ تھا جو پہلی بار پاکستان کے پردئہ سیاست پر پیش کیا جارہا تھا۔ اس کے پاس وہ یقین دہانیاں تھیں جو مزدور لیڈروں نے کرائی تھیں اور جنہیں وہ صنعتی امن کو برباد کرنے کے لئے استعمال کر سکتا تھا۔ اس کے پاس وہ وفاداریاں تھیں جن کے سودے کرنے والے طالب علم رہنما طلبا کو کلاسوں سے نکال کر جلوسوں میں شامل کرنے کی پوری قوت رکھتے تھے اور اس کے پاس وہ پیسہ بھی تھا جو امرت دھارا کی طرح ہر مرض کا فوری علاج ہوتا ہے۔
یہ سب کچھ بھٹو کے پاس تھا ، لیکن فوج پر ایوب خان گرفت اب بھی اتنی مضبوط تھی کہ بھٹو کے حامی جنرل اس کی خاطر اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے کی ہمت پیدا نہیں کر پا رہے تھے۔
سازشوں کا جال
مجرم دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک وہ جنہیں حالات کسی جرم کی طرف دھکیلتے ہیں شیخ مجیب الرحمن کا تعلق مجرموں کی اسی قسم سے تھا دوسری قسم کے مجرم وہ ہوتے ہیں جو مجرمانہ فطرت اور مجرمانہ ضمیر لے کر پیدا ہوتے ہیں اور جو حالات کو اپنے مجرمانہ مقاصد کے مطابق ڈھال لیا کرتے ہیں۔ پاکستان کی تقدیر ایسے ہی مجرم کے ساتھ وابستہ ہونے والی تھی۔
۷۶۹۱ءکے آواخر میں بظاہر یوں لگتا تھا جیسے بھٹو قصہّ ماضی بن چکاہو اور سیاسی افق پر اس کے ظہور کے امکانات معدوم ہوگئے ہوں۔ یہی وہ ایام تھے جب بھٹو خاموشی کے ساتھ ایوبی آمریت کے خلاف ”عوامی امنگوں“ کی ناگزیر جنگ کی تیاریاں کر رہا تھا۔ ایوب خان ان تیاریوں سے بے خبر نہیں تھے۔ اسی لئے پریس ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے بھٹو کا نام مکمل طور پر غائب کر دیا گیا تھا۔ ایوب خان اور ان کے مشیروں کی حکمت عملی یہ تھی کہ لوگ بھٹو کا نام بھول جائیں۔ دفعہ ۴۴۱ اور اس قسم کے دوسرے کئی قوانین اس امر کی ضمانت دینے کے لئے موجود تھے کہ بھٹو کو عوام سے براہ راست رابطے کا موقع نہ مل سکے۔ خود بھٹو بھی ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے موڈ میں نہیں تھا کیوں کہ اس نے ”انتظار کرنے“ کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی۔ کبھی کبھی وہ بیانات ضرور دیا کرتا تھا لیکن ان بیانات کا علم عوام کو بہت ہی کم ہو پاتا تھا کیونکہ ابلاغ کے تمام ذرائع تقریباً مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں تھے۔ اگر بھٹو کے کچھ خیالات عوام تک پہنچتے تھے تو ان تردیدی بیانات اور تقریروں کے ذریعے پہنچتے تھے جو سرکار کے نمک خوار بھٹو کو جھٹلانے کے لئے جاری کیا کرتے تھے۔ اس سلسلہ میں عوامی رابطے کی اس مہم کا ذکر کیا جاسکتا ہے جو جنرل موسیٰ نے نومبر۷۶۹۱ءکے آخری ہفتے میں شروع کی اور تقریباً پندرہ روز تک جاری رکھی۔ اس مہم کا مقصد حکومت پر بھٹو کے الزامات کی تردید کرنا اور عوام کو بھٹو کے خطرناک عزائم سے آگاہ کرنا تھا۔ اسی مہم کے دوران بھٹو کو بھول جانے والے لوگوں کو پتہ چلا کہ وہ اب بھی میدانِ سیاست میں موجود ہے نہ صرف موجود ہے بلکہ حکومت پر ایسے الزامات بھی لگا رہا ہے ۔ جن کی تردید کرنے کے لئے صوبے کا گورنر خود عوامی رابطہ کی مہم پر نکلا ہے۔
(جاری ہے….)

Scroll To Top