دھرنے سے نظام کے نقائص پھر بے نقاب

zaheer-babar-logo

اگرچہ اکیس روز سے جاری رھرنا ”پرامن “ انداز اور ”بات چیت “ کے زریعہ اختیتام پذیر ہوا مگر اس کے ساتھ رائج نظام کی خامیوں کو ایک بار پھر بے نقاب کرگیا، مثلا بنیادی سوال یہ ہے کہ اس تمام عمل کے نتیجہ میں بطور قوم ہم نے کیا کھویا اور پایا۔ شک نہیں کہ روالپنڈی میں فیض آباد کے مقام مذہبی جماعت کے دھرنے نے سیاسی اور انتظامیہ سطح پر پائے جانے والے نقائص کو ایک بار پھر بے نقاب کردیا۔باشعور پاکستانی یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ وفاقی درالحکومت میں دھرنا دینے کی سیاسی روایت کا کب اور کیونکر خاتمہ ہوگا۔
عدالت کے حکم پر حکومت نے جس طرح دھرنا دینے والوں کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا اس پر کئی اعتراضات سامنے آئے ۔ یہ پوچھا گیا کہ حکومت نہیں جانتی تھی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاروائی کے نتیجے میں احتجاج دیگر شہروں تک پھیل سکتا ہے یعنی درپیش چیلجز کا حجم کئی گنا بڑھنے کا امکان ہے۔ شک نہیں کہ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال دھرنا مسلہ کو حل کرنے میں بری طرح ناکام رہے ۔ جڑواں شہریوں کے باسی کی روز سے ازیت کا شکار رہے مگر حکومت عام آدمی کو سہولت اور تحفظ فراہم کرنے کی بنیادی زمہ داری ادا کرنے میں ٹس سے مس نہ ہوئی۔ معاملہ عدلیہ کے سامنے آیا تو وزارت داخلہ نے اس کے پچھے چھپنے کی کوشش کی حتی کہ احسن اقبال یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ وہ صرف عدالتی احکامات کو منوانے کے لیے کوشاں ہیں۔
دھرنے دینے والی جماعت اور حکومت کے درمیان معاہدے پر تنقید کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ پرنٹ ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا میں ایسے لوگ نمایاں ہیں جو دھرنے کو ختم کروانے کے لیے فوج کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنا رہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کی درخواست پر عسکری قیادت مماملہ کو حل کروانے کے لیے اپنا کردار ادا نہ کرتی تو پھر یہ کیونکر حل ہوتا۔ عسکری قیادت کو ہدف بنانے والوں کو جواب دینا ہوگا کہ دو ہفتوں سے زائد جاری رہنے والے دھرنے کو ختم کرنے کے لیے حکومت نے کیا سنجیدہ کوشش کی ۔یقینا اس سوال کو تسلی بخش جواب دینے کی ضرور ت ہے کہ کسی معاملے کو حل کرنے میں منتخب قیادت ناکام ہونے پر فوج آگے بڑھے تو اس کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔ دوآراءنہیں کہ ملکی مسائل کو حل کرنا سیاسی قیادت کی آئینی ، قانونی اور اخلاقی زمہ داری ہے مگر سوال یہ ہے کہ جب وہ اپنا فرض ادا نہ کرے تو پھرکیا جائے ۔
ہم باخوبی جانتے ہیں کہ قبائلی علاقے میں کالعدم گروہوں کے خلاف کاروائی ہو یا کراچی آپریشن ہر جگہ فوج نے ہی آگے بڑھ کر کلیدی کردار ادا کیا مگر دوسری جانب سانحہ پشاور کے بعد متفقہ طور پر منظور ہونے والے قومی ایکشن پلان پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا جاسکا۔ نائن الیون سے لے کر اب تک کم وبیش ستر ہزار پاکستانی شہید ہوچکے ، اربوں روپے کی املاک کا نقصان ہوا مگر بظاہر سیاسی قیادت اس جنگ کو سنجیدہ لینے کو تیار نہیں۔جمہوریت کو اقتدار اور طاقت کے حصول کا زریعہ سمجھنے والوں کو اپنا طرزعمل بدلنے کی ضرورت ہے۔پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے محض زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلنے والا۔
دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں سابق وزیر اعظم نوازشریف سرعام یہ دعوی کرتے تھے کہ دو مرتبہ وزیراعظم رہنے کے سبب وہ نہ صرف قومی مسائل سے آگاہ ہیں بلکہ وطن عزیز کو بحرانوں سے نجات دینے کے لیے ”تجربہ کار“ ٹیم بھی رکھتے ہیں۔ میاں نوازشریف چار سال سے زائد عرصہ تک برسر اقتدار رہے مگر اہل وطن نے باخوبی مشاہدہ کیا کہ وہ ملک کو درپیش کوئی ایک مسلہ بھی حل نہ کرنے میںمکمل طور پر کامیاب نہ ہوئے۔ شومئی قسمت سے داخلی مسائل ہوں یا خارجہ میاں نوازشریف کی صلاحتیں کہیں بھی ظاہر نہ ہوسکیں۔ ان کے ناقدین کے بعقول وفاقی تادم تحریر کابینہ کا کوئی ایک وزیر بھی اپنی وزارت میں قابل رشک کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔
اہل سیاست ناجانے کب اس حقیقت کا ادراک کریں گے کہ پاکستان بدل چکا۔ پرنٹ ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا کی بدولت خامیوں کو چھپانا آسان نہیں رہا، اپنی ناکامی ایک دوسرے کے کندھا پر ڈالنا گزرے ماہ وسال میں آسان ضرور رہا مگر اب یہ حربہ کامیاب نہیں ہونے والا ۔ اب سیاسی اشرافیہ کو لفظ سازش کے استمال سے تائب ہونا ہوگا۔ سرحد کے اندر اور سرحد کے باہر کندھا تلاش کرنے کی بجائے بہت بہتر ہوگا کہ اپنے اپنے گریبان میں جھانکا جائے۔
وطن عزیز کی سیاسی جماعتوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں سے سیکھنے کو کسی طور پر تیار نہیں۔ حزب اقتدار ہو یاحزب اختلاف اس پر توجہ نہیں کی جارہی کہ کب اور کیوں عام پاکستانی کو اس نظام کی افادیت کا قائل کیا۔ اس ضمن میں تازہ مثال حالیہ دھرنے کی ہے، اگر حکومت اپنی زمہ داریاں پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی تو حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں نے بھی آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا نہیںکیا۔ دراصل ملک بھر میں مقامی حکومتوں کا نظام نہ ہونا ایسی کمزوری ہے جسے دور کرنے کو کوئی سیاسی جماعت بھی تیار نہیں۔
بادی النظر میں حکومت نے کسی طورپر تیاری نہ کی جس کے نتیجے میںنہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ اجتجاج ملک کے کئی دیگر شہروں تک پھیل گیا۔ ستم ظریفی یہ ہوئی ایک جڑواں شہر ہی نہیں بلکہ ملک کے کئی شہروںمیں معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ گے۔

Scroll To Top