الیکٹرونک میڈیا کے گرگٹ 27-6-2012

kal-ki-baat

الیکٹرونک میڈیا کے فروغ نے جہاں اینکرپرسنز پر مشتمل ایک طاقتور طبقہ پیدا کیا ہے ` وہاں ایک اور طبقے نے بھی جنم لیا ہے اور اس نے اس قدر موثر قوت حاصل کرلی ہے کہ ایک لحاظ سے اس کی اہمیت کو اینکر پرسنز سے بھی زیادہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ میری مراد یہاں ان دانشوروں سے ہے جن کا تعارف سینئر تجزیہ کاروں کی حیثیت سے کرایا جاتا ہے۔ میں یہاں اس طبقے کے چند بڑے ناموں کا ذکر کروں گا تاکہ بات آپ کی سمجھ میں آسانی کے ساتھ آجائے۔ایک تو ہمارے نذیر ناجی صاحب ہیں۔ دوسرے حسن نثار ہیں۔ پھر مجیب الرحمان شامی ہیں ` ایاز امیر ہیں۔ ہارون رشید ہیں ` انصار عباسی ہیں ` رﺅف کلاسرا ہیں اور دوسرے بہت سارے ہیں جن کے نام میرے ذہن میں نہیںآرہے۔ ایک نام بہرحال یہ الفاظ لکھتے لکھتے میرے ذہن میں آگیا ہے اور وہ ہے ہمایوں گوہر صاحب کانام۔ ان سب میں قدر ِمشترک یہ ہے کہ سب کے سب یا تو کالم نگار ہیں یا اخبارات کے سیاسی مبصر۔ انصار عباسی اور رﺅف کلاسرا کو دھماکہ خیز خبریں سامنے لانے کے سلسلے میں خاصی شہرت حاصل ہے۔

اس طبقے کی طاقت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ مشہور اینکر پرسنز کو بھی سینئر تجزیہ کار کہلانے کا موقع ملے تو وہ اپنے مخالف چینلز کے پروگراموں میں شرکت کی دعوت قبول کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اس ضمن میں جناب طلعت حسین ` جناب حامد میر اور ڈاکٹر شاہد مسعود کا ذکر میں بطور خاص کروں گا۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی صحافی یا دانشور ایک مخصوص نظریہ رکھتا ہے اور اپنے اس نظریے کے حق میں اپنی آراءقوم کے سامنے لانے کے مواقع سے فائدہ اٹھاتا ہے تو اس میں اعتراض کی کوئی بات نہیں۔ مگر جو سینئر سیاسی تجزیہ کار اپنی ” آراء“ اور اپنے ” دلائل“ کا استعمال کسی سیاسی” دوست“ ` ”خریدار“ یا ”سرپرست “کو فائدہ پہنچانے کے لئے کرتے ہیں اور جنہوں نے ” سیاسی تجزیہ کاری “ کو ایک منفعت بخش کاروبار کے طور پر اختیار کررکھا ہے ` انہیں” دھوکہ دہی “ کا مرتکب سمجھا جانا چاہئے۔
میں اس ضمن میں کسی خاص ” دانشور “ کا نام نہیں لوں گا مگر یہ کالم لکھنے کی ضرورت مجھے آج صبح جناب ساجد میر کے پروگرام میں جناب ہمایوں گوہر کے ارشادات سننے کی وجہ سے پیش آئی ہے۔ موصوف فرما رہے تھے۔
” موسیٰ گیلانی کے خلاف محض ایک الزام ہے جس کا اثر سیاسی منظر نامے پر نہیں پڑنا چاہئے۔ ہماری عدلیہ نے انتظامیہ کو غیر موثر بنانے کی ٹھان رکھی ہے۔ اور بڑی مدت سے ایک ہی قصہ لے کرچل رہی ہے کہ خط لکھا جائے۔ کیا محض ایک خط کے لکھے جانے یا نہ لکھے جانے کی وجہ سے ملک کا حال و مستقبل یرغمال بنائے رکھنا مناسب بات ہے ؟“
یہ خیالات اُس ہمایوں گوہر کے نہیں ہیں جنہیں چند ماہ قبل میں نے عدلیہ کے حق میں دھواں دار دلائل دیتے سنا تھا ۔ کہاجاتا ہے کہ گرگٹ کی طرح رنگ نہیں بدلنا چاہئے۔ مگر رنگ بدلنا صرف گرگٹ کا تو حق نہیں۔ آپ کویقین نہ آئے تو نذیر ناجی صاحب سے پوچھ لیں۔۔۔

Scroll To Top