لیڈر ابوجہل بھی بہت بڑے تھے لیکن۔۔۔۔

 

aaj-ki-bat-logo


عمران خان کو کہنا نہیں چاہئے تھا لیکن وہ جوشِ خطابت میں کہہ گئے کہ اگر پاکستان کو ایسا ہی رہنا تھا تو بہتر تھاکہ بنتا ہی نہ۔ وہ لاہور میں یوتھ کنونشن سے خطاب کرنے گئے تھے اور وہاں انہیں جس قسم کی بدنظمی کا سامنا کرنا پڑا اس نے اُن کے لہجے میں اور باتوں میں تلخی پیدا کردی۔
خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عام لوگوں کو جیسی زندگی گزارنی پڑ رہی ہے اس سے بہت بہتر زندگی برطانیہ میں جانوروں کو میسر ہے۔ اسی ضمن میں انہوں نے مہاتما گاندھی کو ایک بڑا لیڈر قرار دیا۔ انہوں نے ابو الکلام آزاد کی یہ بات بھی دہرائی کہ اگر پاکستان بنا تو اسے ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا جیسے حالات کا سامنا آج اسے ہے۔
یہ درست ہے کہ جس پاکستان کا خواب اس کے فاﺅنڈنگ فادرز یعنی علامہ اقبال ؒ اور قائداعظم ؒ نے دیکھا تھا وہ ابھی تک نہیں بن سکا اور جس پاکستان میں ہم رہ رہے ہیں اور جس پاکستان کے شب و روز اور حالات کو دیکھ کر عمران خان کو اس قدر تلخ باتیں کہنی پڑی ہیں وہ پاکستان ویسا پاکستان ہے ہی نہیں جیسا پاکستان ہمارے تصورات میں 23مارچ 1940ءکو یا پھر 14اگست 1947ءکو تھا۔۔۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں کسی بھی وجہ سے یا محض زور بیاں کی خاطر اشارتاً بھی یہ کہنا چاہئے کہ خدانخواستہ پاکستان کو اگر ایسا ہی رہنا تھا تو بننا ہی نہیں چاہئے تھا۔
اگر پاکستان نہ بنا ہوتا تو شوسینا کے دستے میرے اور عمران خان کے گھروں کا گھیراﺅ کئے ہوتے اور ہمیں الٹی میٹم دے رہے ہوتے کہ اگر زندہ رہنا ہے تو ہمارا دھرم اختیار کرلو۔
جہاں تک برطانیہ میں جانوروں کی بھی زندگی کے بہتر ہونے کا تعلق ہے تو اگر دو صدیوں تک ہمارے سابقہ آقاﺅں نے ہمارا خون نہ چوسا ہوتا تو وہاں مثالی آسودہ حالی اور ہمارے یہاں قابل شرم بدحالی نہ ہوتی۔
اقدار اور اخلاق کا تعلق بڑی حد تک مالیات سے بھی ہوتا ہے۔ اور ہمارا المیہ تو یہ ہوا ہے کہ ہمارے سابقہ آقا ہماری تقدیر جن طبقوں کے حوالے کر کے گئے وہ خون چوسنے اور محروم طبقوں کی ہڈیوں پر اپنی امارت کے مینار کھڑے کرنے کے فن میں دو قدم آگے ہی ہیں۔
مہاتما گاندھی اور ابوالکلام یقینا بڑے لیڈر تھے لیکن وہ اپنی قوم کے لئے بڑے لیڈر تھے۔ جیسے ابوجہل ` ابو لہب اور عتبہ و امیہ وغیرہ کفارانِ مکہ کے بڑے لیڈر تھے۔ ہمار ے بڑے لیڈر قائداعظم ؒ تھے جنہوں نے کہا تھاکہ پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنایا جائے گا۔ ہمارے بڑے لیڈر علامہ اقبال ؒ تھے جنہوں نے کہا تھاکہ ہمیں پھر صداقت کا ` عدل وانصاف کا اور تقلید رسول کا سبق پڑھنا پڑے گا کیو ں کہ اس کے بغیر ہم ایک باعزت قوم نہیں بن سکیں گے۔
میں جانتا ہوں کہ عمران خان کے اندر پاکستان کو قائداعظم ؒ اور علامہ اقبال ؒ کے خوابوں کا پاکستان بننے کی تڑپ سمندر کی بپھری ہوئی موجوں جیسی ہے لیکن اس کے لئے انہیں اپنے اندر پیدا ہونے والی مایوسی کی ہر لہر کے سامنے عزم و ارادے کا کوہ گراں کھڑا کرنا ہوگا۔
اگر پاکستان کو دوسرا مدینہ بنانا ہماری منزل ہے تو ہمیں راستہ بھی وہی اختیار کرنا ہوگا جو ہمارے حقیقی قائد رہبر اور رہنما نے اختیار کیا تھا۔ ہم برطانیہ کا نظام اختیار کرکے ریاست ِ مدینہ کیسے بنا سکتے ہیں؟
برطانیہ کے نظام میں ہمیں ایسے ہی حکمران ملیں گے جیسے حکمران ہمیں بھگتنے پڑ رہے ہیں۔ پہلے انگریز ہمارے آقا تھے اور اب یہ لوگ خود کو ہمارا آقا سمجھ رہے ہیں۔
عمران خان علامہ اقبال ؒ کے شیدائی ہیں۔ اسی لئے میں انہیں علامہ اقبا لؒ کے ہی یہ اشعار یاد دلارہاہوں۔
کانپتا ہے دل ترِا اندیشہ ءطوفاں سے کیا
ناخداتُو بحر تُو کشتی بھی تُو ساحل بھی تُو
آہ کس کی جستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے
راہ تُو رہرو بھی تُو رہبر بھی تُو منزل بھی تُو!
(یہ کالم 27نومبر2015 کو شائع ہوا تھا۔ )

Scroll To Top