مشہورِ زمانہ تصنیف”جھوٹ کا پیغمبر……

jhoot

مصنف غلام اکبر
28-11-2017 .
.قسط 24….


چنانچہ نوزائیدہ پیپلز پارٹی کو تین حسین نعروں سے سجایا گیا۔
۱۔ اسلام ہمارا دین ہے۔
۲۔جمہوریت ہماری سیاست ہے۔
۳۔ سوشلزم ہماری معیشت ہے۔
یہ کتنے بڑے جھوٹ تھے۔ اسلام اس بھٹو کا دین بن گیا تھا جو علیٰ شراب کے بغیر جاگ نہیں سکتا تھا اور نئی عورت کے بغیر سو نہیں سکتا تھا ۔ جمہوریت اس بھٹو کی سیاست بن گئی تھی جس کے سیاسی مزاج کی تشکیل ایوب آمریت نے کی تھی اور جو اپنی رائے سے اختلاف کرنے والوں کو زندہ دفن کروا دینے والا ضمیر رکھتا تھا اور سوشلزم کو اس بھٹو نے اپنی معیشت بنا لیا تھا جو کسانوں کی ہڈیوں پر دولت و حشمت، شان وشوکت اور جاہ و جلال کے محل تعمیر کرنے والے نظام کا وارث تھا ۔
یہ تین عظیم جھوٹ پیپلزپارٹی کی بنیاد بن گئے۔
جب ظلمتیں حد سے بڑھ جاتی ہیں تو انسان کو روشنی کو جو بھی کرن نظر آتی ہے اس کی طرف بھاگتا ہے ۔ ایوبی آمریت کے اندھیرے بھی حد سے بڑھ گئے تھے اور ان اندھیروں میں بھٹو میرے اور میرے لاکھوں ہم وطنوں کے لئے روشنی کی کرن بن گیا تھا۔ ہم سب دیوانہ وار اس کی طرف بھاگ رہے تھے۔ یہ سوچے بغیر کہ جس کے پیچھے ہم بھاگ رہے ہیں وہ سراب بھی ہو سکتاہے۔
پیپلز پارٹی کے قیام کے باقاعدہ اعلان سے پہلے بھٹو نے کچھ عرصہ یورپ میں گزارا۔ روم میں اس نے سی آئی اے کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کئے اور انہیں اپنے پروگرام سے آگاہ کیا۔ اس نے سی آئی اے پر واضح کر دیا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ سوشلزم کا دم چھلاّ اس نے بائیں بازو کو دھوکہ دینے کے لئے لگایا تھا۔ اس کا مقصد بائیں بازو کو پیپلزپارٹی میں ضم کر کے معاشی اور معاشرتی انقلاب کا خواب دیکھنے والے مغرب دشمن عناصر کو کسی بھی ایسی تحریک کے جھنڈے تلے جمع ہونے سے روکنا تھا جو درحقیقت بائیں بازو کی تحریک ہو۔ اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے وہ اپنے آپ کو ”مغربی سامراج کا زبردست دشمن“ اور ”چینی انقلاب کا پُرجوش حامی“ ظاہر کرنا چاہتا تھا۔
سی آئی اے کو بھٹو کی اس حکمتِ عملی سے بھلا کیا اختلاف ہو سکتا تھا؟ پاکستانی عوام میں چین کی حمایت اور امریکہ کی مخالفت کے جذبات کافی زور پکڑچکے تھے اور ایوب خان کے خلاف کوئی ایسی تحریک کامیاب نہیں ہوسکتی تھی جو عوامی جذبات کے ساتھ نہ چلے۔ بھٹو بھی عوامی جذبات کے ساتھ چل کر ہی کامیاب ہو سکتا تھا۔ اور بھٹو کی کامیابی سے امریکہ کے چند اہم مقاصد پورے ہو چکے تھے۔ ایک تو ایوب خان سے نجات حاصل ہوتی تھی اور اس کے علاوہ امریکہ کے خلاف عوامی جذبات کی قیادت امریکہ کے ہی آدمی کے ہاتھ میں رہتی تھی۔
چنانچہ سی آئی اے نے بھٹو کو اجازت دے دی کہ وہ اپنی پیپلز پارٹی کو ایوب خان کے خلاف میدان میں اتار دے۔ بھٹو کو اجازت سے زیادہ سرمائے کی ضرورت تھی کیونکہ مختصر عرصے میں ایک طاقتور سیاسی پارٹی کی تشکیل اور تعمیر فراخدلانہ مالی امداد کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ سی آئی اے نے بھٹو سے وعدہ کر لیا کہ اسے مالی امداد اس کی توقع سے بھی بڑے پیمانے پر دی جائے گی۔ بھٹو یکمشت پانچ کروڑ روپے حاصل کرنا چاہتا تھا۔ مگر یہ بات سی آئی اے کی پالیسی کے خلاف تھی۔ پھر بھی پہلی قسط کے طور پر بھٹو سی آئی اے سے کافی بڑی رقم حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا اور پاکستان پہنچ کر اس نے پیپلز پارٹی کے قیام کا اعلان کر دیا۔
ایوب خان کو بھی اب پوری طرح احساس ہوچکا تھا کہ ان کے سابق وزیر خارجہ کی پُر اسرار سرگرمیوں کے پیچھے کوئی بڑی سازش جنم لے رہی ہے۔ چنانچہ انتظامیہ کو ہدایت کر دی گئی کہ بھٹو کی نقل و حرکت کی سخت نگرانی کی جائے اور اسے ڈرانے دھمکانے اور پریشان کرنے کے لئے ہر موثر حربہ استعمال کیا جائے۔ وزارتِ اطلاعات کے ذریعے اخبارات کو بھی ہدایات دے دی گئیں کہ بھٹو اور اس کی پارٹی کی خبروں کو مکمل طور پر ” بلیک آو¿ٹ“ کا نشانہ بنایا جائے۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایسے اقدامات کئے گئے۔ جن کا مقصد بھٹو کو ہراساں کرنا ، لوگوں کو اس کی قائم کردہ پارٹی میں شامل ہونے سے روکنا تھا۔
لیکن اب بھٹو کے خلاف بند باندھنے کا وقت گزر چکا تھا۔ بھٹو کی سیاسی بنیادیں کافی مضبوط ہو چکی تھیں اور انہیں زیادہ مضبوط بنانے کے لئے وہ درپردہ طلباءکی تنظیموں ، طالب علم لیڈروں، لیبر یونینوں اور مزدور رہنماو¿ں کے ساتھ ” طاقتور“ روابط قائم کر رہا تھا۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ طالب علم لیڈروں اور مزدور رہنماو¿ں کو ”پیسے“ کی کتنی اشد ضرورت رہتی ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اب بھٹو کے پاس بے حساب پیسہ آگیا تھا۔ وہ اپنے ”خون “ اور ”پسینے“ کی کمائی صرف اپنی ذات پر خرچ کرنے کا قائل تھا۔ مگر اب اس کے پاس امریکہ کے ”خون“ اور ”پسینے“ کی کمائی بھی آگئی تھی۔ جسے وہ بڑی فیاضی کے ساتھ ”انقلاب “ اور”جدوجہد“ وغیرہ پر خرچ کر سکتا تھا۔
حسب توقع سوشلزم کا نعرہ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ان پُر خلوص ” انقلاب پرستوں“ کو بھی پیپلز پارٹی کی طرف کھینچنے میں کامیاب ہو گیا جو کالجوں اور یونیورسٹیوں سے ” پرولتاری آمریت۔ بورژواذہنیت۔ انقلابی جدوجہد۔طبقاتی کشمکش۔ ترقی پسند نظریات اور رجعت پسند معاشرہ“ جیسی پُر کشش، جدید اور انفرادیت بخش اصطلاحوں کے اسیربن کر نکلے تھے۔ میرا اشارہ یہاں معراج محمد خان تاج محمد لنگاہ ، سعید حسن اور مختار رانا جیسے لوگوں کی طرف ہے جن کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ وہ جس شخص کی زیر قیادت امریکی سامراج کے ” پالتو کتوں“ کے خلاف انقلابی جدوجہد کرنے کے لئے نکلے ہیں وہ خود امریکی سامراج کا ”منظورِ نظر “ ہے-
جاری ہے

Scroll To Top