مشہورِ زمانہ تصنیف”جھوٹ کا پیغمبر……

jhoot
مصنف غلام اکبر
27-11-2017 .
.قسط 23….


اسے اقتدار کی اعلیٰ ترین منزل تک پہنچنا تھا اور اپنے اس مشن کی تکمیل کے لئے وہ ہرقیمت پر اور ہر طریقے سے عوام کو اپنے پیچھے لگانا چاہتا تھا دنیا کی مختلف تحریکوں کے مطالعے سے وہ ایسے طریقے دریافت کرنا چاہتا تھا جنہیں اختیار کر کے وہ عوام کے اکثریتی طبقوں کے جذبات پر حکومت کر سکے۔ سب سے زیادہ متاثروہ ہٹلر کی نازی تحریک سے ہوا۔ لیکن یہاں میں واضح طور پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بھٹو کی شخصیت کا موازنہ ہٹلر کی شخصیت سے کرنا جذبہ حب الوطنی کی توہین ہے۔ جرمنی اور جرمن قومیت سے محبت ہٹلر کے خون میں رچی بسی تھی یہ محبت جنون کی حد تک پہنچی تو ہٹلر نے دنیا سے جرمنی کی عظمت اور جرمن قوم کی برتری منوانے کے لئے ایسے لوگوں کے خلاف سنگین ترین جرائم کا ارتکاب کرنے سے بھی گریز نہ کیا جنہیں وہ جرمنی اور جرمن قوم کے دشمنوںمیں شمار کرتا تھا اگر ہٹلر مجرم تھا تو اُسے مجرم اس بے پایاں محبت نے بنایا جو اسے جرمنی اور جرمن قومیت سے تھی ہٹلر نے نیشنل سوشلسٹ پارٹی اقتدار کی منزل تک پہنچنے کیلئے ضرور قائم کی مگروہ اقتدار اس لئے حاصل کرنا چاہتا تھا کہ جرمنی کی سرحدوں کو وسعت دے سکے اور جرمن قوم کی برتری دنیا پر ثابت کر سکے۔ ہٹلر کے جرائم سے نفرت کی جاسکتی ہے لیکن حب الوطنی کے اس عظیم جذبے سے نفرت کون کر سکتا ہے۔ جس نے ہٹلر کو مجرم بنایا تھا؟ ہٹلر کے ساتھ اس بھٹو کا موازنہ کیسے کیا جاسکتا ہے جس نے اپنی ہوسِ اقتدار کی تکمیل کے لئے اپنے وطن کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور اپنی قوم پر ذلت و رسوائی کے دروازے کھولنے سے بھی دریغ نہ کیا؟
بھٹو کو نازی تحریک نے صرف ان ہتھکنڈوں کی وجہ سے متاثر کیا جو ہٹلر نے نیشنل سوشلسٹ پارٹی کی قوت میں اضافہ کرنے کے لئے اختیار کئے تھے۔ ہٹلر اور اس کے ساتھیوں نے جو جھوٹ بولے تھے وہ بھٹو کو بہت پسند آئے مگر اس مقصد سے بھٹو کو کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ جس کے حصول کے لئے نیشنل سوشلسٹ پارٹی قائم ہوئی تھی اور وہ سب جھوٹ بولے گئے تھے۔ بھٹو کا مقصد صرف اور صرف حصولِ اقتدار تھا اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے وہ ہر جھوٹ بولنے ہر سوانگ رچانے اور ہر بہروپ اختیار کرنے کے لئے تیار تھا۔ چنانچہ اس نے تین بہترین جھوٹ ، تین بہترین سوانگ اور تین بہترین بہروپ منتخب کئے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت قائم کردی۔
اسلام :یہ ایک ایسا جھوٹ ، ایک ایسا سوانگ اور ایک ایسا بہروپ تھا جسے بھٹو اپنے دین سے والہانہ عقیدت رکھنے والے عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے استعمال کرنا چاہتا تھا۔
سوشلزم: یہ ایک ایسا جھوٹ، ایک ایسا سوانگ اور ایک ایسا بہروپ تھا جسے بھٹو غربت اور افلاس کے مارے ہوئے عوام کے جذبات سے کھیلنے کے لئے استعمال کرنا چاہتا تھا۔
جمہوریت: یہ ایک ایسا جھوٹ، ایک ایسا سوانگ اور ایک ایسا بہروپ تھا جسے بھٹو بنیادی حقوق کی تمنا کرنے والے باشعور طبقوں کی حمایت حاصل کرنے اور انتخابات کے ذریعے منزلِ اقتدار تک پہنچنے کے لئے استعمال کرنا چاہتا تھا۔
المیہ یہ ہے کہ میں نے اور مجھ جیسے لاکھوں قوم پرستوں نے آنکھیں بند کر کے یقین کر لیا کہ بھٹو واقعی اسلام کی وہ صدا ہے جو مسلم قوم کی سربلندی کے لئے پاک فضاو¿ں میں گونجی ہے۔ کہ بھٹو واقعی انقلاب کا وہ پیغام ہے جو سرمایہ دارانہ اور جاگیر دارانہ نظام کی چکی میں پسنے والے کروڑوں غریب عوام کو محرومی اور بے بسی کی قید سے نجات دلانے آیا ہے ۔ کہ بھٹو واقعی جمہوریت کی وہ مشعل ہے جس کی روشنی میں ملتِ پاک آگے بڑھ کر حاکمیت کا حق فرد واحد سے چھین لے گی۔
میرے اور میرے لاکھوں ہم وطنوں کے اس یقین نے بھٹو کو پاکستان پیپلز پارٹی کی صورت میں وہ طاقتور سیاسی پلیٹ فارمہیا کر دیا جو ایوبی آمریت کو للکارنے کے لئے ضروری تھا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام اور اس کی تشکیل میں جن لوگوںنے بھٹو کا ساتھ دیا اور ان میں جے اے رحیم کا نام سرفہرست ہے۔ ایک روایت کے مطابق مسٹر جے اے رحیم نے ہی بھٹو کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی سیاسی قوت کے لئے صرف ان جذبات پر ہی انحصار نہ کرے جو ” اردو اور پنجابی بولنے والے مسلم قوم پرستوں“ کے دلوں میں توسیع پسند برہمنی سامراج کے خلاف وقتاً فوقتاً ابھرتے رہتے ہیں کیوں کہ اس قسم کے جذبات رکھنے والا طبقہ صرف مظاہرے کرنے جلوس نکالنے اور نعرے لگانے کی حد تک بھٹو کے کام آسکتا تھا۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ عوام کی اُس واضح اکثریت کو بھی اپنے جھنڈے تلے جمع کیا جائے جسے بھارت کو نیچا دکھانے سے زیادہ دلچسپی اس روٹی سے تھی جو اسے نہیں ملتی تھی۔ اُس کپڑے سے تھی جو اسے حاصل نہیں ہوتا تھا اور اُس مکان سے تھی جو اس کی پہنچ سے باہر تھا۔ جے اے رحیم کی رائے میں ” روٹی کپڑا اور مکان“ کے چکر میں پھنسے ہوئے عوام کے اس طبقے کے مسائل کی بات ابھی تک کسی لیڈر اور کسی پارٹی نے نہیں کی تھی، اس لئے پیپلز پارٹی آگے بڑھ کر اس خلاءکو پُر کر سکتی تھی۔
بھٹو نے اس رائے کو فوراً قبول کر لیا۔ اسلام کا نعرہ تو دوسرے لیڈر بھی استعمال کر رہے تھے۔ جمہوریت کی جدوجہد میں تو دوسری پارٹیاں بھی شامل تھیں ۔ ملکی سالمیت اور قومی یک جہتی کی باتیں کرنے والے لوگوں کو بھی کوئی کمی نہیں تھی۔ پیپلز پارٹی کو منفرد حیثیت صرف اس طرح دی جا سکتی تھی کہ وہ اسلام جمہوریت ملکی سالمیت اور قومی یک جہتی کے گھسے پٹے نعرے بلند کرنے کے ساتھ ساتھ غریب عوام کے مسائل حل کرنے اور انہیں روٹی کپڑا مکان مہیا کرنے والے اس نظام کی بھی بات کرے جس کا نام سوشلزم تھا۔
(جاری ہے)

Scroll To Top